وزرراکے محکموں کا اعلان ‘ طاہر محمود تعلیم ‘ سرفراز بگٹی داخلہ ‘سرفراز ڈومکی ماہی گیری ‘ چنگیزمری ایر گیشن ‘ جعفر مندوخیل زراعت ‘ ماجد ابڑو صحت ‘ راحت جمالی لیبر ‘ عامر رند S&GAD‘دستگیر بادینی لوکل گورنمنٹ ‘ اکبر آسکانی مائنز‘آغا رضا جنگلات‘عاصم کرد C&W منظور کاکڑ رینیو ‘ پرنس علی ماحولیات کے وزیر ہونگے - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

وزرراکے محکموں کا اعلان ‘ طاہر محمود تعلیم ‘ سرفراز بگٹی داخلہ ‘سرفراز ڈومکی ماہی گیری ‘ چنگیزمری ایر گیشن ‘ جعفر مندوخیل زراعت ‘ ماجد ابڑو صحت ‘ راحت جمالی لیبر ‘ عامر رند S&GAD‘دستگیر بادینی لوکل گورنمنٹ ‘ اکبر آسکانی مائنز‘آغا رضا جنگلات‘عاصم کرد C&W منظور کاکڑ رینیو ‘ پرنس علی ماحولیات کے وزیر ہونگے


4 مشیر مقرر ‘ کریم نوشیروانی ‘ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ‘ رقیہ ہاشمی خزانہ ‘ امان اللہ نوتیزئی پی ایچ ای ‘ واسا ‘جبکہ انوار الحق کاکڑ کو مشیر اطلاعات مقرر کیا گیا ہے‘اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کریگی سینٹ اور عام انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے ‘ دہشت گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی،نومنتخب وزیراعلیٰ کا اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال 
کوئٹہ(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ(ق) کے رہنماء میر عبدالقدوس بزنجو 41 ووٹ لے کر بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے جنہیں متحدہ اپوزیشن اور حکومتی جماعت مسلم لیگ(ن) آزاد رکن نے اسمبلی کی حمایت حاصل تھی جبکہ ان کے مد مقابل وزیراعلیٰ کے امیدوار پشتونخواملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید لیاقت آغا نے13 ووٹ حاصل کئے ہفتہ کی صبح ساڑھے 11 بجے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا اجلاس میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لئے ووٹنگ کا آغاز ہوا متحدہ اپوزیشن کے نامزد اور حکومتی جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار میر عبدالقدوس بزنجو کو 41 ووٹ ملے جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار پشتونخواملی عوامی پارٹی سید لیاقت آغا کو13 ووٹ ملے اسپیکر بلوچستان اسمبلی محترمہ راحیلہ حمید خان درانی نے نتائج کا اعلان کر تے ہوئے بتایا کہ 44 ووٹ کاسٹ کر کے جن میں سے میر عبدالقدوس بزنجو کو 41 اور سید لیاقت آغا کو13 ووٹ ملے نومنتخب وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کو 41 ووٹ ڈالے گئے ان کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں میں اپوزیشن لیڈر جمعیت علماء اسلام کے رہنماء مولانا عبدالواسع، پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سرفراز احمد بگٹی، میر جان محمد جمالی، میر حمل کلمتی، سردار اختر جان مینگل، سردار عبدالرحمان کھیتران، نواب جنگیز مری، انجینئر زمرک خان اچکزئی، میر اظہار حسین کھوسہ، میر ظفر زہری، میر فتح محمد بلیدی، ڈاکٹر رقیہ ہا شمی، راحت جمالی، حاجی دستگیر با دینی، ماجد ابڑو، میر عاصم کرد گیلو، نوابزادہ طارق مگسی، شیخ جعفر خان مندوخیل، عامر رند، سردار سرفراز ڈومکی، مجیب احمد محمد حسنی، میر امان اللہ نو تیزئی، آغا سید رضا محمد، پرنس احمدعلی، طاہر محمود خان، کشور جتک، حاجی محمد خان لہڑی، سردار در محمد ناصر، حسن بانو، عبدالمالک کاکڑ، خلیل احمد دمڑ، شاہدہ روف، حاجی اکبر آسکانی، مفتی گلاب ، میر عبدالکریم نو شیروانی، خالد لانگو، سردار صالح محمد بھو تانی، مفتی معاذ اللہ، منظور کاکڑ، انیتا عرفان شامل ہیں جبکہ ان کے مد مقابل سید لیاقت آغا کو پشتونخواملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے عبدالرحیم زیارتوال، ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، عبدالمجید اچکزئی، نصر اللہ زیرے، عارفہ صدیق، عبیداللہ جان بابت، سردار رضا محمد بڑیچ، معصومہ حیات، سپوژمئی اچکزئی، سید لیاقت آغا، ولیم جان برکت، سردار مصطفی خان ترین، نواب ایاز خان جو گیزئی نے اپنا ووٹ کاسٹ کیاوزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے کہاہے کہ بلوچستان میں تعلیم ،صحت اور پینے کی صاف پانی کی سہولیات کی فراہمی میری اولین ترجیحات میں شامل ہیں بیورکریسی کے ڈیلے ٹیکٹکس کسی صورت برداشت نہیں کرونگا وقت کم ہے مسائل زیادہ محدود مدت میں صوبے کے بہتری کیلئے بہترین کردار اد اکرونگا گوادر کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں کہی .انہوں نے کہاکہ میں ان تمام دوستوں کا شکر گزارہوں جنہوں نے دھمکیوں آفرز کو ٹھکرا کر میرا ساتھ دیا ہے بلوچستان میں امن وامان کی بہتری صحت ،تعلیم ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور سی پیک کے منصوبوں کی بروقت تکمیل میری اولین ترجیح ہونگی گوادر کی اہمیت کو جانتے ہوئے مقامی افراد کے تحفظ کیلئے قانون سازی کی جائے گی

.

ضرور پڑھیں: 2018کے انتخابات کا مرحلہ بتدریج مکمل اور مستقبل کی سیاست 

انہوں نے کہاکہ کوئٹہ اور گوادر میں پانی کے مسئلے کا حل نکالنے کیلئے اقدامات کرونگا کینسر ہسپتال کے حوالے سے قانونی پیچیدگیوں پر غور کرکے جلد از جلد ہسپتال پر کام شروع کروانے کیلئے اقدامات کرونگا .انہوں نے کہاکہ ہم نے کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا اگر کوئی ڈیلیور نہیں کررہاتھا توا سکے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے ہیں نواب ثناء اللہ خان زہری سے کوئی ذاتی رنجش نہیں تھی جب وہ واپس آئیں گے تو انکے پاس ضرور جاؤنگا .انہوں نے جمہوری انداز میں استعفیٰ دے کر اچھی روایت قائم کی ہے جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتاہوں ہم نے ایک جمہوری تسلسل کو مکمل کیا ہے جو حکومت میں ہوتے ہیں تو انہیں سب ٹھیک لگتا ہے لیکن جب وہی لوگ حکومت سے نکلتے ہیں تو انہیں غیر جمہوری عمل نظر آنے لگ جاتے ہیں جن پارٹیوں نے میرا ساتھ دیا او رمیرا نام قائد ایوان کیلئے پروپوز کیا میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں اور جن لوگوں نے اپنی پارٹی پالیسی سے ہٹ کر میرا ساتھ دیا ان کا خصوصی شکریہ کچھ لوگ اندرونی طرف سے تو ہمارے ساتھ تھے مگر اوپر سے نہ نہ کرتے تھے کیونکہ انہیں پارٹیوں کی تحریک عدم اعتماد کا ساتھ نہ دینے پر پریشر تھا انہوں نے کہاکہ میں ان تمام لوگوں کا شکر گزارہوں جنہوں نے مجھے مبارکباد پیش کی ہے لیکن مجھے مسائل سے گھرا ہوا بلوچستان ملا ہے جس دن میں نے ان چیلنجوں کی تکمیل کرلی اس دن سب لوگوں سے مبارکباد وصول کرونگا .انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومت نے جو کام ٹھیک نہیں کئے یا انتقامی کاروائی ہوئی اس پر کمیٹی بناؤں گاانہوں نے بیوروکریسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں بلوچستان کا وزیراعلی ہوں تمام ایم پی اے میرے وزیر اعلی ہیں بیوور کریسی کو معلوم ہونا چاہیے کہ انکی عزت سب سے زیادہ ہے بیورو کریسی کے تمام دوستوں کو بتانا چاہتاہوں کہ میں جس سپیڈ سے جاناچاہتاہوں وہ میرے ساتھ اسی رفتار سے کام کریں تاخیر ی ہربے کسی صورت برداشت نہیں کرونگا وقت کم ہے مسائل زیادہ ہیں لہذا ہمیں ملکر صوبے کی عوام کو ڈیلیور کرنا ہے .انہوں نے کہاکہ ہم بلوچستان کو مضبوط کرکے پاکستان کا مضبوط حصہ بنائیں گے .وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور انکی 14رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا کابینہ میں مسلم لیگ (ن) کے 11 جبکہ مسلم لیگ(ق) ،پشتونخواء ملی عوامی پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین کے ایک ایک رکن شامل ہیں،تفصیلات کے مطابق ہفتے کو گورنر ہاؤس کوئٹہ میں نو منتخب وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور انکی 14رکنی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب ہوئی جس میں گورنز بلوچستان محمد خان اچکزئی نے وزیراعلی اور کابینہ کے ارکان سے حلف لیا ،میر عبدالقدوس بزنجو کی کابینہ کے 14ارکان میں مسلم لیگ (ن) کے میرسرفراز بگٹی ،پرنس احمد علی ،نواب جنگیز مری ،سردارسرفراز چاکر ڈومکی،راحت جمالی ،میر عاصم کرد گیلو،عبدالماجد ابڑو ،حاجی غلام دستگیر بادینی ،میر عامر رند،طاہر محمود خان ،حاجی اکبر آسکانی مسلم لیگ (ق) کے شیخ جعفر مندوخیل جبکہ پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے منظور احمد کاکڑ اور مجلس وحدت المسلمین کے سید آغا رضا شامل ہیں،تقریب میں سینیٹرز ، اسپیکر بلوچستان اسمبلی ،ارکان اسمبلی ،چیف سیکر ٹری بلوچستان ،آئی جی پولیس بلوچستان سمیت دیگر سیاسی شخصیات بھی مو جود تھیں . میر طاہر محمود خان کو تعلیم ، سردار سرفراز چاکر ڈومکی کو فشریز ، نواب جنگیز خان مری کو ایری گیشن اینڈ انرجی ، میر سرفراز احمد بگٹی کو ہوم اینڈ ٹرائبل افیئر اورپی ڈی ایم اے ، شیخ جعفر خان مندوخیل کو ایگریکلچر کواپریٹو ،میر عبدالماجد ابڑو کو صحت، راحت فائق جمالی کو لیبر اینڈ پاور اور انڈسٹریز اینڈ کامرس ،میر غلام دستگیر بادینی کو لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ اور اربن پی اینڈ ڈی ، سید محمد رضا کو لاء اینڈ پارلیمنٹری افیئر پراسیکیوشن ، فاریسٹ، ولڈلائف ،لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ، میر محمد عاصم کرد گیلو کو سی اینڈ ڈبلیو ، منظوراحمد کاکڑ کو ریونیو ، پرنس احمد علی کو سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انوائرمنٹ شامل ہیں.نومنتخب و زیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے 4مشیروں کے ناموں اور محکموں کا اعلان کردیا.یہاں جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق نومنتخب وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے میر عبدالکریم نوشیروانی کو مشیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ٹرانسپورٹ، ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی مشیر برائے خزانہ ،میرامان اللہ نوتیزئی مشیر برائے پی ایچ ای ڈی ، سی ڈی ڈبلیو اے ،واسا اورانوارالحق کاکڑ کو مشیر برائے انفارمیشن نامزد کیا ہے.وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کریگی سینٹ اور عام انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے صوبے میں دہشت گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی مسلم لیگ(ن) کے ارکان اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی کے مطابق چلیں گے .یہ بات انہوں نے ہفتہ کو بلوچستان اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی .میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ قبل ازوقت انتخابات اور سینٹ انتخابات روکنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے نواب ثناء اللہ زہری پہلے بھی قابل قدر تھے اور آج بھی انکا عزت و احترام برقرار ہے پچھلی حکومت نے جو کچھ کیا ہے اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے ہمیں اپنا کام اچھے طریقے سے کرکے دکھانا ہے .انہوں نے کہا کہ جو بھائی ناراض ہوکر بیرون ملک بیٹھے ہیں ان سے بات چیت کی جاسکتی ہے اورانہیں دوبارہ قومی دھارے میں لاکرعزت کا مقام اور برابر کے شہری کا حق دیا جائے گا. انہوں نے کہا کہ ہماری بات چیت کی پالیسی کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا دہشت گردی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں جو لوگ بے گناہ لوگوں پر حملے کرکے انہیں مارتے ہیں انکے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا. انہوں نے کہا کہ میں اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کروں گا اور اسکی بھر پور مزاحمت کروں گامیری کابینہ میں 14وزراء اور 5مشیر شامل ہونگے جن میں تمام پارٹیوں کو نمائندگی دی جائے گی نئی کابینہ کے ارکان نوجوان اور متحرک ہونگے. 
 

..

ضرور پڑھیں: وزیراعظم بننے کے بعد مبارکباد کے پیغامات کے ڈھیر لگ گئے مگر معروف صحافی مبشر زیدی سب پر بازی لے گئے، انہوں نے کیا دلچسپ انداز اختیار کیا؟ جان کر آپ بھی خوش ہو جائیں گے

مزید خبریں :