پشتونخوا میپ نے اس صوبے میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے لئے ہمیشہ کوششیں کیں ،سید لیاقت آغا - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

پشتونخوا میپ نے اس صوبے میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے لئے ہمیشہ کوششیں کیں ،سید لیاقت آغا


اور آج اس نے ثابت کردیا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں،سید آغالیاقت ‘و لوگ کھلاڑی اور مداری کے چکر میں پھنس گئے ہیں اور یہاں پیسہ لگانا چاہ رہے ہیں تو ہم ان کا بھی مقابلہ کریں گے،عبدالرحیم زیارتوال کا اسمبلی میں اظہار خیال
کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے آغا سید لیاقت نے نو منتخب وزیراعلیٰ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنی اور اپنی جماعت کی جانب سے انہیں مبارکباد دیتا ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میں نے پشتونخوا میپ کی طرف سے میر عبدالقدوس بزنجو کا مقابلہ کیا اور اس مقابلے میں وہ کامیاب ہوگئے یہ جمہوری عمل اور جمہوری روایات کا حصہ ہے پشتونخوا میپ نے اس صوبے میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے لئے ہمیشہ کوششیں کیں اور آج اس نے ثابت کردیا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں او رہمارے اراکین کا ضمیر زندہ ہے نہ ہم سیف ہاؤس میں رہتے ہیں نہ ہم ہمارا ضمیرمردہ ہے اس وقت ملک میں جو روش چل نکلی ہے اور جس کیاشروعات ہمارے صوبے سے کی جارہی ہیں میں نومنتخب قائد ایوان کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں کہتا ہوں کہ خدا راہ اس اسمبلی کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دیں کیونکہ یہ افواہیں ہیں کہ اس اسمبلی کی مدت پندرہ سے بیس روز ہے . پاکستان مسلم لیگ(ق) کے میر عبدالقدوس نوشیروانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہوچکا اب نئے قائد ایوان کو چاہئے کہ وہ ان مسائل کا جائزہ لیں جن کا ہم نے سامنا کیا سابق دور حکومت میں ہماری جماعت کو خصوصیت کے ساتھ مسائل کا سامنا رہا میرے حلقے میں ترقیاتی فنڈز بروقت ریلیز نہیں کئے گئے. جے یوآئی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ میں اپنی جانب سے اپنی جماعت، اپوزیشن اور اس پورے ایوان کی جانب سے نومنتخب وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو اور آغا لیاقت کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے خوش اسلوبی سے جمہوری عمل آگے بڑھایا.انہوں نے کہا کہ آج بہت خوشی کا دن ہے کیونکہ 2013ء میں جو حکومت بنی تھی اس سے ہمیں سب سے بڑا گلہ اور شکوہ یہی تھا کہ یہ اپنے فیصلے یہاں نہیں کرتی او راس کے اکثر فیصلے رائیونڈ اور مری میں ہوتے ہیں حالانکہ رائیونڈ اور مری والوں کی اپنی اقدار ، اپنی روایات اور اپنی ترجیحات ہیں جو ہماری ترجیحات سے الگ ہیں وہ ہمیں کچھ نہیں سمجھتے ہم نے ہمیشہ یہ بات کی کہ آپ اس سرزمین کے فرزند ہواور فیصلہ بھی اسی سرزمین کے فرزند مل کر کریں ہمارے صوبے میں انتہائی قابل اہل اور ملک کے دیگر حصوں سے نسبتا بہتر لیڈرشپ موجود ہے دو سال تک چہ میگوئیاں ہوتی رہیں کہ حکومت کسی معاہدے کے تحت بنی ہے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اس معاہدے کو چھپانے اور اپنے دور اقتدار کو آگے بڑھانے کے لئے کام کرتے رہے انہوں نے اپنے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے بلوچستان کے اہم مسائل پر کمپرومائز کیا جب حکومت میں شامل لوگوں کی اپنے درمیان کھینچا تانی ہوگی تو پھر صوبے کے مسائل پر کون توجہ دے گا اور یہاں 2013ء سے یہی ہوتا رہا حکومتی جماعتیں آپس میں کھینچا تانی کرتی رہیں جس کی وجہ سے اس صوبے اور اس صوبے کے عوام کے حقیقی مسائل پس پشت چلے گئے. مسلم لیگ(ن) کے میر جان محمد جمالی نے قائد ایوان کے انتخاب میں حصہ لینے والے دونوں امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہماری اپنی روایات ہیں ہم باقی لوگوں کی طرح نہیں جو ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو یہاں دہرائی نہیں جاسکتی وہ اراکین جنہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو کے حق میں ووٹ دیا ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان اراکین کا بھی جنہوں نے آغا لیاقت کو ووٹ دیا آغا لیاقت نے جمہوریت اور جمہوری عمل کے تحت مخالفت کی ہم ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں انہوں نے میر عبدالقدوس بزنجو پر اعتماد کا اظہار کرنے پر اپوزیشن اراکین اور مسلم لیگ(ن) کے اراکین کے ساتھ ساتھ پشتونخوا میپ ، نیشنل پارٹی ، مجلس وحدت المسلمین اور آزار اراکین کا نام لے کر ان کا شکریہ ادا کیا .نیشنل پارٹی کے رکن میر خالد لانگو نے اپنے خطاب کا آغا بلوچی زبان میں کرتے ہوئے میر عبدالقدوس بزنجو کو مبارکباد دی اور اس امید کااظہار کیا کہ وہ بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے اور مسائل کے حل کے لئے اقدامات کریں گے . انہوں نے کہا کہ میں جب نیب کی حراست میں تھا تو ان 71دنوں میں بہت اچھے اور برے تجربات ہوئے .انہوں نے معروف شاعر عطا شاد کی ایک نظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میری زمین پر ایک کٹورے پانی کی قیمت سو سال وفا ہے میرا ساتھ کسی نے نہیں دیا میں آج یہاں اس ایوان میں کہہ رہا ہوں کہ کوئی بھی کرپشن سے پاک نہیں یہاں پر لوگوں نے کرپشن کی اور این آراو کئے دبئی بھاگ گئے . انہوں نے کہا کہ مشتاق رئیسانی کی گرفتاری کے بعد میں کراچی کے ایک کافی شاپ میں اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا کافی پی رہا تھا اور ٹی وی والے خبر دے رہے تھے کہ خالد لانگو افغانستان بھاگ گئے میں کیوں بھاگوں گا مجھے تکلیف اس وقت ہوئی جب میرے اپنے کیپٹن نے بھی نجی محفلوں میں یہ بات کہنی شروع کردی کہ خالد نے پانچ ارب روپے کما لئے ہیں ، خالد لانگو نے تین کروڑ کی گھڑی پہنی ہے ان باتوں سے مجھے بہت تکلیف ہوئی .مسلم لیگ(ن) کے پرنس احمد علی بلوچ نے نو منتخب قائد ایوان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کے بڑھنے کی وجہ سے سابقہ قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی اگر وہ تمام علاقوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے تو یہ تبدیلی نہ آتے امید کرتا ہوں کہ بلوچستان کے بے شمار مسائل اور اس کی فلاح و بہبود نئے قائدا یوان کے ایجنڈے میں شامل ہوگی . میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ میر عبدالقدوس بزنجو کو نیا قائد ایوان منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں اور ساتھ ہی لیاقت آغا جنہوں نے جمہوری طریقے سے ان کا مقابلہ کیا وہ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں . ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین کی حکمرانی ، قومی برابری اور جمہوریت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا شیوہ ہے .ہم توقع رکھتے ہیں کہ نئے قائد ایوان تمام پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور وہ اسمبلی کو مدت پوری کرنے دیں گے اگر ایسا نہیں ہوگا تو ہم اس کی نوبت نہیں آنے دیں گے کہ اسمبلی تحلیل ہو ہم نے تحریک عدم اعتماد کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئر مین محمودخان اچکزئی ارکان اسمبلی مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر نواز شریف یا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کسی نے بھی نواب ثناء اللہ زہری کو استعفے کا مشورہ نہیں دیا ہم چاہتے تھے کہ وہ مقابلہ کریں اور اس تمام سازش کو بے نقاب کریں یہ انوکھی قسم کی تحریک عدم اعتماد تاریخ کا حصہ رہے گی .عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ملک اور صوبے میں امن بحال کرنے کے لئے شہادتیں دی ہیں 2013ء میں جو حکومت بنی اس کے بعد ہم نے دونوں وزرائے اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ دیا کہ وہ صوبے میں امن قائم کریں اور ترقی لائیں لیکن جس طرح کی انتقامی کارروائیاں گزشتہ ساڑھے چار سال میں ہوئی ہیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہم اپنے حلقے میں ایک سپاہی بھی تبدیل نہیں کرسکتے تھے جبکہ جاتے جاتے ہمارے ضلع میں پوری انتظامیہ تبدیل کردی گئی میں شیخ جعفرخان مندوخیل کا مشکور ہوں جنہوں نے میرے کہنے پر ایک نائب تحصیلدار تبدیل کیا تھا اس کے علاوہ ہمارے حلقے میں کوئی کام نہیں ہوا. سابق نگران وزیراعلیٰ سردار صالح بھوتانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میر عبدالقدوس بزنجو اپنے دور میں ایسے اقدامات اٹھائیں کہ بلوچستان کے عوام تبدیلی محسوس کرسکیں اور انہیں احساس ہو کہ حکومت عوام کے لئے درد رکھتی ہے مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ بلوچستان کے منتخب ارکان اسمبلی اپنی حکومت منتخب کی ہے جبکہ ماضی میں یہاں حکومتیں مری یا اسلام آبادمیں بنی ہیں ہم نے اپنی مرضی سے حکومت بنانے کی روایت قائم کی ہے اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے سابق وزیراعلیٰ نے اپنے دور کی 24فیصدمدت صوبے میں گزاری جبکہ وہ 76فیصد صوبے سے باہر رہے جس کی وجہ سے وہ صوبے کو توجہ نہیں دے پاتے تھے انہوں نے چند مخصوص علاقوں کے دورے کئے اربوں روپے کے فنڈز بغیر استعمال ہوئے سرنڈرکردیئے گئے .مسلم لیگ(ق) کے پارلیمانی لیڈر شیخ جعفرخان مندوخیل نے نو منتخب وزیراعلیٰ کو مبارکبا د دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ گڈ گورننس پر توجہ دیں گے سید لیاقت آغا بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے جمہوری عمل کو مضبوط کیا ہمیں پرانی باتوں کو دہرانے کی بجائے مستقبل کے چیلنجزپر توجہ دینا ہوگی . گڈ گورننس کو بہتر بنانا ہوگا امن وامان کا قیام وفاق سے صوبے کے حقوق ، سی پیک کے تحت بلوچستان کے منصوبوں پرعملدرآمد کرانا ہوگا . انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو ریکوڈک پر بریفنگ دی جائے سیندک پر فیصلہ کابینہ کی مشاورت سے ہونا چاہئے تھا انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کو غیر جمہوری قرار دینا درست نہیں بلکہ یہ جمہوریت کاحصہ ہے. مسلم لیگ(ن) کے سردار در محمد ناصر نے میر عبدالقدوس بزنجو کو منتخب اور سید لیاقت آغا کو جمہوری انداز میں مقابلہ کرنے پر مبارکباد دی انہوں نے نواب ثناء اللہ زہری کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک سے قبل مستعفی ہوکر دوستوں کو کسی مشکل میں نہیں ڈالا مجھ پر اور میرے حلقے پر ان کے بڑے احسانات ہیں مسلم لیگ(ن) کی انیتا عرفان ، کشور احمد جتک، عبدالماجد ابڑو، غلام دستگیر بادینی اور جے یوآئی کے مفتی معاذ اللہ ،حاجی عبدالمالک کاکڑ ، میر اظہار حسین کھوسو ،محمدخان لہڑی ،مفتی گلاب خان کاکڑ نے بھی نومنتخب قائد ایوان کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ بلوچستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے . پشتونخوا میپ کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کا واقعہ کس طرح ہوا یہ سب کو معلوم ہے ہم نے 2013ء میں کامیابی کے بعد اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود صوبے کے وسیع مفاد میں مری معاہدے کے تحت اپنی وزارت اعلیٰ کی قربانی دی تحریک عدم اعتماد اسی منصوبے کی کڑی ہے جو تین سال پہلے ڈی چوک سے شروع ہوا تھا جو لوگ اقتدار میں تھے اور وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے ساتھ تھے جب انہیں حکم ہوا کہ کروٹ بدل لو تو انہوں نے کروٹ بدل لی وزیراعلیٰ اور رحیم زیارتوال میں خامیاں ہوسکتی ہیں تاہم اس تمام مسئلے پر بیٹھ کر بھی بات ہوسکتی تھی پاکستان میں اندرونی اور بیرونی صورتحال سب کو معلوم ہے سینٹ کے گزشتہ انتخابات میں جوکچھ ہوا اس کے بعد لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں سب بکاؤ مال ہیں انہیں خرید لیا جائے گا انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت کرنے والوں کے قول اور فعل میں تضاد ہے پاکستان فیڈریشن ہے جس کی بلوچستان ایک اکائی ہے ہم تمام اکائیوں کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں صوبے میں فنڈز لیپس نہیں بلکہ سرینڈر کئے گئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ساڑھے چار سالہ دور میں جتنے ترقیاتی کام ہوئے وہ گزشتہ ستر سال میں نہیں ہوئے صوبے میں اب بھی ناکافی ترقی ہوئی ہے جس کی وجہ فنڈز کی کمی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبے میں چھ نئی یونیورسٹیز ، 14کالجز ، سینکڑوں مڈل اور ہائی سکول بنائے ہیں اگر عوام کے خزانے سے کرپشن کی ایک پائی بھی ثابت ہوجائے تو ہر سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں . انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ کردار شاید کچھ لوگوں کو قابل قبول نہیں تھا انہیں وہ لوگ قابل قبول ہیں جو کرپشن کریں مجھے نہ 2002ء میں اور نہ 2013ء میں کسی کی جانب سے کوئی پیغام ملا کہ آپ کامیاب ہیں اور نہ ہی میں نے الیکشن میں پیسے خرچ کئے ہیں اسی عوامی لیڈرشپ کہتے ہیں ہم اپوزیشن بینچوں پر جائیں گے اور ہمیں پتہ ہے کہ جولوگ اب اقتدار میں ہیں وہ ہمارے حقوق غصب کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ہمارے واحد محافظ وزیراعلیٰ ہیں ہم نے اپنے اربوں روپے کے ڈیمز بنائے کوئٹہ میں پانی کے مسئلے کے حل کے لئے منصوبے پر کام شروع کیا یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے صرف ایک حلقے میں کام کیا ہے انہوں نے کہا کہ میں پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ فلور کراسنگ کرنے والے رکن اسمبلی منظور کاکڑ کو 163اے کے تحت ڈی سیٹ کریں گے . پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت ، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے جدوجہد کی ہے جو لوگ کھلاڑی اور مداری کے چکر میں پھنس گئے ہیں اور یہاں پیسہ لگانا چاہ رہے ہیں تو ہم ان کا بھی مقابلہ کریں گے پاکستان اور بلوچستان کسی کی میراث نہیں . 
 

..

مزید خبریں :

سروے