نااہل حکمرانوں کی پالیسیاں ،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ 
Can't connect right now! retry

نااہل حکمرانوں کی پالیسیاں ،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ 


وفاقی حکومت نے مہنگائی سے تنگ عوام کو نئے سال کا تحفہ دیتے ہوئے ان پر پٹرول بم گرادیا،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3.96روپے سے 6.79روپے تک اضافہ کردیا گیا ،پٹرول کی قیمت میں 4روپے 6پیسے فی لیٹر، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3روپے 96پیسے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 6روپے 25پیسے ، مٹی کے تیل کی قیمت میں 6روپے 79پیسے اضافہ کیا گیا ہے .پٹرول کی نئی قیمت 81.53 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے .

لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 58روپے 37پیسے ، ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 89.91روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت 64.32روپے ہوگی.مشیر خزانہ کا پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے حوالے سے کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں بھی اس کی قیمتیں تبدیل کی جا رہی ہیں تاہم بھارت،بنگلہ دیش اورترکی کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت ابھی بھی کم ہے.واضح رہے اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی سمری چند روز قبل بھجوائی تھی جس میں پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 60 پیسے، مٹی کے تیل کے دام میں 13 روپے 58 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کے نرخوں میں 5 روپے 83 پیسے اور لائٹ سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 49 پیسے اضافے کی تجویز دی تھی. اپوزیشن سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے پٹر ولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو عوام پر ’’ڈرؤن حملہ ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام دشمنی پر مبنی حکومت کے اسکے اقدام کیخلاف پار لیمنٹ میں بھر پور احتجاج کیا جائیگا ‘ (ن) لیگ کی حکومت غر یبوں کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑنے کی پالیسی پر گامزن ہیں ‘عوامی حمایت کا نعرہ لگانیوالی (ن) لیگی حکومت ملک وقوم کیلئے عذاب بن چکی ہے سمجھ نہیں آتی حکمران قوم کو کس جرم کی سزا دے رہے ہیں ؟ حکمرانوں کی توجہ صرف کر پشن کرنے اور لوٹی رقم بچانے پر مر کوز ہے ان کو ملک اور قوم کی کوئی فکر نہیں پٹر ولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر آواز بلند کر یں گے (ن) لیگ کی حکومت ملک اور قوم کیلئے عذاب کی شکل اختیار کر چکی ہے اور حکمران غر بت کی بچاؤ غر یب مکاؤ ایجنڈے پر کام کر رہی ہے جس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا .جب تک ملک سے کر پشن اور لوٹ ما ر کا خاتمہ نہیں ہوگا اس وقت ملک کو مسائل سے نجات دلانا ممکن نہیں .حکمرانوں کے مظالم اور دہشت گردی میں اب کوئی فر ق نہیں لگتا ہے کیونکہ دونوں ہی لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہیں اس اضافے کو حکومت کو فوری واپس لینا ہوگا ورنہ قوم کو سڑکوں پر آنے سے کوئی نہیں روک سکتا .جمہوریت اور عوامی ہونے کا نعرہ لگانیوالے حکمرانوں نے ملک میں غر یب آدمی کا جینا مشکل کر دیا ہے اور قوم آئندہ میں اپنے ووٹ کی طاقت سے ان عوام دشمن حکمرانوں کو نشانہ عبر ت بنا دیں گے .موجودہ حکومت نے گزشتہ ساڑھے چارسال کے دوران صرف تیل مصنوعات کی قیمتوں میں رد وبدل کرکے 300 ارب روپے سے زائد کی رقم غریبوں کی جیبوں سے نکال لئے، حکومت ہر ماہ تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں نظر ثانی اور قیمتوں کا رجحان عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے ان میں اضافہ کیا.اور اس کا بوجھ عام آدمی پر پڑا. حکومت ان ساڑھے چار سالوں میں 18 دفعہ پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا. اور 21 دفعہ حکومت نے قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی. جبکہ ان سالوں میں، مسلم لیگ ن کی حکومت نے صرف 14 دفعہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو ریلیف دیا. 54 مہینوں میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں صرف 14 دفعہ کمی کرکے عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا. حکومت اس وقت تک اپنے دورے اقتدار میں لوگوں کے لئے ریلیف فراہم کرنے کی بجائے، قیمتوں میں تبدیلی کے نام پر پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کیا اور آج بھی نئے سال کے آغاز پر حکومت نے پیٹرول کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے. گزشتہ ساڑھے چارسالوں میں توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے کے حکومت کے تمام دعووں کے باوجود، اس شعبے میں بہت کم بہتری آئی ہے اور اس وجہ سے لوڈشیڈنگ اور تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے قومی معیشت کو نقصان پہنچا ہے. پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ایک ایسا عنصر ہے جو تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور پیداوار کی لاگت میں اضافے کا بڑا ذریعہ ہے، ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں اضافہ، سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر گھریلو سامان کی قیمتوں میں اضافہ اور عام آدمی کے لئے زندہ رہنا بہت مشکل ہو جاتاہے

. پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نقصانات جی ڈی پی کا اہم حصہ کھا رہے ہیں اور قومی معیشت خسارے کا شکار ہے. جس سے قومی معیشت کو سالانہ 15 ارب سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے.پٹرولیم کی قیمتوں میں تبدیلی کی وجہ سے حکومت ہر مہینے صارفین اور مینوفیکچررز کو مزید مسائل میں سے دوچار کر رہی ہے. گزشتہ ساڑھے چارسال میں حکومت نے زیادہ تر قیمتوں میں اضافہ کیا. اور بہت کم مواقع پر لوگوں کو ریلیف فراہم کیا. پیٹرولیم مصنوعات اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے معیشت کو بھی خطرہ ہوتا ہے اور حکومت نے صنعت اور گھریلو صارفین کو بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی سستے داموں فراہم کرنے میں ناکامی رہی ہے. نئی توانائی کے منصوبوں اور ایل این جی کی درآمد کرنے کے لئے حکومت کی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، ان پالیسیوں کی وجہ سے بھی لوگوں کے لئے کوئی رعایت نہیں ہوئی ہے اور وہ ابھی تک مہنگی توانائی اور مہنگی پٹرولیم مصنوعات خریدنے پر مجبورہیں اور حکومت ان کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے. حکومت صنعت اور صارفین کے فائدہ کے لئے بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کم کرنے میں کوئی اہم اقدمات نہیں کر رہی ہے. پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہر چیز پر کی قیمیتوں، ٹرانسپورٹ ، سبزیوں، پھلوں، گھر کے سامان کی چیزیں کی قیمتیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے. اور اس کی وجہ سے دودھ اور دودھ کی مصنوعات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑا رہا ہے. پٹرولیم کی مصنوعات کی تقسیم اور قیمتوں کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی غلط ٹرانسمیشن اور تقسیم کے نظام کے نتیجے میں گزشتہ چند سالوں میں حکومت کو گزشتہ چند سالوں میں 250 ارب روپے سے زائد نقصان اٹھانا پڑا ہے. چین.پاکستان اقتصادی راہدری (سی پیک) کے منصوبوں کی بہت اہمیت ہے، لیکن تیل اور گیس کے مقامی پیداوار کو بڑھانے کے لئے بھی توجہ دینا چاہئے تاکہ پٹرولیم کی برآمد کردہ مصنوعات کی طلب کم ہو. پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان میں بجلی کی کمی ہے لہذا حکومت پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر بوجھ کو کم کرنے کے لئے متبادل ایندھن کی تلاش پر زیادہ توجہ دے. امریکی ڈالرز کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی شرح تبادلہ میں کمی کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک اہم عنصر ہے، لہذا حکومت کو غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں خاص طور پر امریکی ڈالرز کے خلاف پاکستانی روپے کا استحکام یقینی بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کرکے.ڈالر کی وجہ سے حکومت کو ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے. حکومت کو مناسب اقدام بھی کرنا چاہئے اور تیل کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کر نی چاہئے تاکہ ملک کے ذخائر کو تلاش کیا جا سکے اور ان کو استعمال کرکے پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے.

..