ٹرمپ کی دھمکیاں دعوے ،ناکام خارجہ پالیسی کا شاخسانہ  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ٹرمپ کی دھمکیاں دعوے ،ناکام خارجہ پالیسی کا شاخسانہ 


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہپاکستان کو15 سال میں33 ارب ڈالر امداد دے کر بے وقوفی کی، پاکستان نے امداد کے بدلے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا.انکا کہنا تھاکہ پاکستان کواب کوئی امداد نہیں ملے گی.

ضرور پڑھیں: وزیراعظم کا قوم سے پہلے خطاب، گلگت بلتستان کی حکومت کا شدید رد عمل سامنے آگیا

ٹرمپ نے الزام لگایا کہ پاکستان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے،افغانستان میں دہشتگردوں کو نشانہ بنانے میں معمولی مدد ملتی ہے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا.پاکستان امریکی قیادت کو بے وقوف سمجھتا ہے . امریکا کے سیکریٹری دفاع جمیز میٹس نے کہا ہے کہ ہم مزید امریکی فورسز اور عسکری مشیر افغانستان کی فوج میں شامل کریں گے، کیونکہ ان (افغانیوں) کے پاس ایسے لوگ موجود نہیں تھے اور وہ اس طرح لڑنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے جیسا ہم چاہتے تھے.افغان فورسز کو طالبان کے خلاف جنگ جیتنے میں مزید وقت درکار ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی سیکریٹری دفاع نے کہا کہ اگر ایک فوج تشکیل دی جائے اور اسے بیک وقت حالات کو معمول پر لانے اور لوگوں کے تحفظ کا کام دیا جائے تو است اپنی کارکردگی دکھانے میں وقت لگتا ہے.جیمز میٹس نے کہا کہ افغان فورسز کے ساتھ مزید امریکی مشیروں کو منسلک کرنے سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور ان فوجیوں کی میدانِ جنگ میں کارکردگی مزید بہتر ہوگی جن کے پاس اس قبل رہنمائی کے لیے لوگ موجود نہیں تھے.خیال رہے کہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کا بیان اس نئی امریکی حکمت عملی پر روشنی ڈالتا ہے جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس 21 اگست کو اپنی ایک تقریر کے دوران کیا تھا.ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد افغانستان میں امریکی فوجیوں پر اوباما انتظامیہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں اٹھانا ہے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنا دفاع کر سکیں، اور افغان فورسز کی مدد کر سکیں.واضح رہے کہ امریکی حکام پاکستان پرحقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی نہ کرنے اور دہشتگردوں کی مدد کا الزام لگاتے ہوئے پاکستان کی امداد بند کرنے کی دھمکیاں دیتے آئے ہیں.دوسری طرف امریکی صدر کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے بیان کا جلد جواب دیں گے، دنیا کو جلد بتائیں گے کہ حقیقت اور افسانے میں کیا فرق ہوتا ہے.امریکہ کو پہلے ہی نومور کہہ چکے ہیں،ٹرمپ کے نومور کی کوئی اہمیت نہیں ہے ،ٹرمپ افغانستان میں امریکہ کی ناکامی پر مایوسی کا شکا رہیں،امریکہ کو پائی پائی کا سرعام حساب دینے کو تیار ہیں،امریکہ کو افغانستان میں طاقت کے استعمال کی بجائے مذاکرات کی راہ اپنائے . واضح رہے کہ امریکی صدر کی حالیہ ٹویٹ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تنا ؤکے باعث سامنے آئے.گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نئی قومی سلامتی کی پالیسی جاری کرتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان، امریکا کی مدد کرنے کا پابند ہے کیونکہ وہ ہر سال واشنگٹن سے ایک بڑی رقم وصول کرتا ہے. ہم نے پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ جب ہم مسلسل شراکت داری قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ملک میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی دیکھنا چاہیں گے کیونکہ ہم ہر سال پاکستان کو بڑے پیمانے پر ادائیگی کرتے ہیں لہذا انہیں مدد کرنا ہوگی.دسمبر میں ہی ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو بتایا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر کشیدہ علاقوں میں یک طرفہ اقدام اٹھانے کی خواہشمند ہے جس سے دونوں ممالک کے مفاد میں تعاون کی فضا بحال ہوسکے گی.امریکی نائب صدر مائیک پینس کی جانب سے بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام آباد کو نوٹس پر رکھ لیا ہے.انہوں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں اور مجرموں کو پناہ دینے پر بہت کچھ کھونا پڑے گا لیکن امریکا کے ساتھ شراکت داری پر پاکستان بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے.بعد ازاں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو لگتا ہے

کہ مبینہ طور پر گرفتار، حقانی نیٹ ورک کے ایک عسکریت پسند تک رسائی کے امریکی مطالبے پر مسلسل انکار سے پاکستان کے امریکا کی جانب رویے کا عکس نظر آتا ہے.خیال رہے امریکا کی جانب سے پاکستان سے ڈو مور کے مطالبے پر ردِعمل دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ اب وقت ہے کہ امریکا اور افغانستان مل کر پاکستان کے لیے کچھ کریں.ان تمام حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کررہا ہے اسی لئے ٹرمپ کے بیان کے بعد بھارت نے کہا ہے کہ بھارت کی سفارتکاری کامیاب ہوگئی ہے زمینی حقائق یہی ہیں کہ یہ سب کچھ ن لیگ یعنی نواز شریف کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے ساڑھے چار سال تک وزیر خارجہ نہیں رکھا گیا یہ وزارت نواز شریف نے اپنے پاس رکھی کبھی بھی بھارت کی اشتعال انگزیوں کی مذمت نہیں کی یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران بھی نواز شریف نے کلبھوشن کا ذکر نہیں کیا ناکام خارجہ پالیسی ہی کی وجہ سے آج پاکستان دوستوں سے بھی دور ہوگیا ہے اسکے ذمہ دار صرف اور صرف نواز شریف ہیں .
 

..

ضرور پڑھیں: وزیراعظم کے اعلان پر عملدرآمد شروع ،بینکو ں نے ملک کے بڑے کھاتہ داروں کے اکاونٹ منجمد کردئیے ۔۔۔تہلکہ خیز خبر آگئی