سپریم کورٹ میں الیکشن ایکٹ کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور 
Can't connect right now! retry

سپریم کورٹ میں الیکشن ایکٹ کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور 

سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ کے خلاف درخواستیں سماعت کے لئے منظور کرلیں‘ عدالتی معاونت کے لئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری ، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کے پارٹی صدر بننے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ پارلیمنٹ قانون سازی کاسب سے بڑا ادارہ ہے، ہمیں قانون کے مطابق چلنا ہے،عدالتوں کو اتنا آسان نہ لیں،بتائیں کن مقدمات میں آج تک عدالتوں نے پارلیمنٹ کے بنائے قوانین کو کالعدم کیا، وکلا عدالتی فیصلوں کی نظیریں پیش کریں، بہت سے لوگوں نے تانگہ پارٹیاں بنائی ہوئی ہیں. پیر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے3 رکنی بنچ نے نوازشریف کے پارٹی صدر بننے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی .

اس دوران عدالت نے عدالت نے نیشنل پارٹی کے وکیل کی کیس ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی.دوران سماعت شیخ رشید کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے اپیل کی کہ عدالت فریقین کونوٹس جاری کرے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کاسب سے بڑا ادارہ ہے اور آپ اس کے بنائے قوانین کوکالعدم قرار دینے کی استدعا کررہے ہیں، ہمیں قانون کے مطابق چلنا ہے،عدالتوں کو اتنا آسان نہ لیں، نوٹس کا کیس بنائیں گے تو نوٹس بھی کریں گے، بتائیں کن مقدمات میں آج تک عدالتوں نے پارلیمنٹ کے بنائے قوانین کو کالعدم کیا، وکلا عدالتی فیصلوں کی نظیریں پیش کریں.چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ سیاسی مقدمات ہیں ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا

کہ شق 203 میں ایسا کیا ہے کہ کالعدم قرار دیں. بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ایماندار قیادت شہریوں کا بنیادی حق ہے سپریم کورٹ نے نواز شریف (ن) لیگ اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا. چیف جسٹس نے کہا کہ ا بھی درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ طے نہیں ہوا جاننا چاہتے ہیں قانون کی منظوری کے وقت اکثریت کیا تھی؟ فروغ نسیم نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعت کی قیادت ایماندار شخص کے اس ہونی چاہئے.پارٹی سربراہ اپنی جماعت کے معاملات کنٹرول کرتا ہے. پارٹی سربراہ کی ہدایت پر رکن اسمبلی نااہل ہوسکتے ہیں. آئین کے تحت ارکان اسمبلی پارٹی سربراہ کی ہدایت کے پابند ہوتے ہیں. قانون کے تحت نااہل شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا.پارٹی سربراہ کا کردار بڑا اہم ہے‘ سیکشن 203 آئین و قانون کے مطابق ہے. سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور نواز شریف کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں درخواست گزار کا موقف ہے کہ نااہل قرار دیا شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا اس بارے کوئی دورائے نہٰں کہ نواز شریف نااہل ہونے کے باوجود غیر اعلانیہ وزیراعظم کا کردار ادا کررہے ہیں کیونکہ پارٹی کے اراکین حتیٰ کہ قانونی وزیراعظم بھی انکے تابع ہیں جسکا وہ اعلانیہ اعتراف بھی کرتے رہتے ہیں نواز شریف نے اقتدار دولت کے بل بوتے پر جس طرح ایک ایکٹ منظور کرایا اسکی حقیقت بھی سامنے ہے .
 

..