وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ۔۔! - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ۔۔!


نئے سال کا آغاز ہوتے ہی بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز حیران کن طریقے سے ہوا ہے بلوچستان اسمبلی کے 14اراکین نے وزیر اعلی نواب ثنا ء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کروا دی تحریک مسلم لیگ (ق) ،جمعیت علماء اسلام (ف)،بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل ) ،عوامی نیشنل پارٹی ، نیشنل پارٹی ،مجلس وحدت مسلمین کے اراکان کے دستخطوں سے جمع مسلم لیگ (ق) کے رکن صوبائی اسمبلی سابق ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو اور مجلس وحدت مسلمین کے رکن آغا محمد رضا نے بلوچستان اسمبلی میں آئین کے آر ٹیکل 136کے تحت وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتما د جمع کروا دی اور درخواست کی گئی ہے کہ تحریک کو اسمبلی میں پیش کر نے کے لئے دن مقر رکیا جائے ،تحریک حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے اراکین میر عبدالقدوس بزنجو ،میر عبدالکریم نوشیروانی،ڈاکٹر رقیہ ہاشمی ،وزیر اعلیٰ کے اسپیشل اسسٹنٹ میر امان اللہ نو تیزئی، نیشنل پارٹی کے رکن میر خالد لانگو ،مجلس وحدت المسلمین کے آغا محمد رضا،اپوزیشن جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سابق وزیر اعلی سردار اختر مینگل ،میر حمل کلمتی ،جمعیت علماء اسلام کے اراکین شاہد ہ رؤف، حسن بانو رخشانی،عبدالمالک کاکڑ،خلیل الرحمن دمڑ،عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر انجنےئر زمر ک خان اچکزئی ،آزاد رکن نوابزادہ طارق مگسی کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے ،یہ تحریک ایسے وقت میں جمع کروائی گئی ہے جب وزیر اعلی نواب ثناء اللہ زہری بیرون ملک دورے پر تھے عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کی ا طلاع فوری طور پر انہیں بیرون ملک دے دی گئی اور وہ اپنا دورہ مختصر کر کے وطن پہنچ گئے اور انہوں نے فوری طور پر اتحادی جما عتوں کا اجلاس طلب کرلیا ہے ،وزیر اعلی بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد کوئٹہ میں سیاسی سر گرمیوں کا آغاز عروج پر پہنچ گیا ہے دریں اثناء مسلم لیگ (ق) کے رکن صوبائی اسمبلی سابق ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس برنجو اور مجلس وحدت السملین کے آغا محمد رضا نے سیکر ٹری اسمبلی کے پاس تحریک جمع کروانے کے بعد صحافیوں سے مختصر بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان نے اپنی مخلوط حکومت کی تشکیل کے بعد وعدے پورے نہیں کئے ،تحریک جمع کروانا ہمارا جمہوری حق تھا جسے استعما ل کیا ہے ہمیں کسی بھی قوت کی حما یت حاصل نہیں ہے ہمارے تحفظات تھے جنہیں گزشتہ ڈھائی سالوں میں دور نہیں کیا گیا ہم تحریک کی کامیابی کے لئے تمام جماعتوں سے رابطے کریں گے جبکہ وزیراعلیٰ کوئٹہ پہنچتے ہی مشیر امان اللہ نوتیزئی کو برطرف کردیا ن لیگ کے صوبائی وزیر ماہی گیر ی سردار سرفراز چاکر خان ڈومکی نے استعفیٰ دے دیا حکومت کے مطابق صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو بھی وزارت سے برطرف کرنے کی سفارش گورنر کو بجھوائی گئی جبکہ سرفراز بگٹی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حکومتی اقدام سے آٹھ گھنٹے قبل ہی اپنا استعفیٰ گورنر کو بجھوادیا ہے پشتونخوامیپ اور نیشنل پارٹی نے وزیراعلیٰ کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی خالد لانگو سے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے پر جواب طلب کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیشنل پارٹی میں بھی دراڑیں پڑرہی ہیں دوسری جانب اپوزیشن متحد ہورہی ہے

اور ن لیگ کے اراکین صوبائی اسمبلی بھی اپوزیشن کا ساتھ دینے کیلئے شرائط طے کررہے ہیں کچھ روز قبل ہی ایسی اطلاعات تھیں کہ ماضی کی کنگ میکر ٹرائیکا یعنی نواب ذوالفقار علی مگسی سعید ہاشمی اور جعفر خان مندوخیل مستقبل میں حکومت سازی اور نئے اتحاد قائم کرنے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں واضح رہے کہ سعید ہاشمی اور جعفر خان مندوخیل کا تعلق ق لیگ سے ہے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ن لیگ کے وزراء کو وزیراعلیٰ پشتونخوامیپ کے وزراء اور بیورو کریٹس سے بہت سے شکایات تھیں وزیراعلیٰ شکایات دور کرنے کے دعوے تو کرتے تھے لیکن بوجوہ شکایات دور کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہے تھے جس کی وجہ سے ن لیگی اراکین میں شدید بے چینی تھی پھر وزیراعلیٰ نواب شریف کی حمایت میں ہر حد عبور کررہے تھے جس سے مخالفین میں بے چینی بڑھ رہی تھی جبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں بہر حال حکومتی اتحاد اور اپوزیشن اپنے اپنے طور پر مقاصد کے حصول کیلئے کوشاں ہیں ویسے اگرجائزہ لیا جائے تو ملک میں سیاسی گریٹر ہونا ہوتی ہے تو آغاز بلوچستان سے ہوتا ہے دیکھنا یہ ہے کہ بالاخر اب تحریک عدم اعتماد کا کیا نتیجہ نکلتا ہے .
 

. .

مزید خبریں :

سروے