وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ،دونوں جانب سے کامیابی کے دعوے  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ،دونوں جانب سے کامیابی کے دعوے 


وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اثناء اللہ زہری نے کہا ہے کہ وہ جمہوریت اور جمہوری اقدار پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور تمام معاملات میں نہ صرف مخلوط حکو مت میں شامل ساتھیوں کو بلکہ اپوزیشن سے تعلق رکھتے والے افراد کوبھی ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں. مشاورت اور افہام و تفہیم پرعملدارآمد کرنے کے باعث ہی موجودہ حکومت نے اپنے ساڑھے چار سال نہایت خوش اسلوبی اور احسن طریقے سے گزارے ہیں اور انشااللہ اسی عزت ووقار کے ساتھ اپنی مدت پوری کریگی. ہم جمہوری لوگ ہیں اور تحریک عدم اعتماد کا بھی جمہوری طریقے سے مقابلہ کر یں گے انھوں نے اس یقین کا اظہار کیاکہ ایوان میں اراکین کی واضح اکثریت ان کے ساتھ ہوگی اور مخالفین کو شکست کاسامنا کرنا پڑے گا اسمبلی کے اراکین با شعور منتخب عوامی نمائندے ہیں اور وہ جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے ہر عمل کو سختی سے مسترد کرد ینگے جبکہ اپوزیشن اراکین بلوچستان اسمبلی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمہوری طریقے صوبے کے بہترین مفاد میں پیش کی ، ہم بغاوت نہیں بلکہ اصولوں کی سیاست کررہے ہیں ، وزیراعلیٰ بلوچستان سے سیاسی اختلافات ضرور ہیں مگر مسلم لیگ (ن) نہیں چھوڑیں گے ، ہماری عدم اعتماد کی تحریک کو سینیٹ انتخابات سے ہرگز نہ جوڑا جائے،نئے وزیراعلیٰ کا نام بھی مشاورت کے بعد سامنے لایاجائیگا.تحریک عدم اعتماد جمہوری عمل کا حصہ ہے نواب ثناء اللہ زہری قابل احترام ہیں اوران سے ذاتی نہیں بلکہ سیا سی اختلافات ہیں،اراکان اسمبلی کی سیکورٹی واپس لینا افسوس ناک عمل ہے، عد م اعتماد کی تحریک کوسینٹ انتخابات سے نہ جوڑا جائے، بلوچستان کی سیاست ملک کے دیگر صوبوں کی سیاست سے الگ ہے سینٹ انتخابات میں سیٹ بیچنے والے کو مشیر لگا دیا گیا ہے، ہماری اولین ترجیح وزیراعلی بلوچستان کو ہٹانا ہے ،ساتھیوں کی مشاورت کے بعد ہی اگلے وزیراعلیٰ کا نام سامنے لایا جائے گا .انہوں نے کہاکہ (ن) لیگ کی پریس کانفرنس نے خود ثابت کردیا کہ ان کے ساتھ کتنے اراکین اسمبلی ہیں (ن) لیگ کے پاس اکثریت ہوتی تو ایم پی ایز پریس کانفرنس میں شریک ہوتے، اب (ن) لیگ 5 ارکان اسمبلی کو بھی اکٹھا نہیں کرسکتی ،ہم اکثریت کا دعویٰ نہیں بلکہ ثابت کرینگے .انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) اب وزارت اعلی کا منصب بچانے کی بھی سکت نہیں رکھتی.جبکہ اپوزیشن کے مطابق وزیر اعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف بلوچستان اسمبلی سیکر ٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے 48گھنٹوں بعد 25اراکین اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کی کھل کر حمایت کا اعلان کردیا ،مسلم لیگ (ن) کے 7 ،مسلم لیگ (ق)کے4 ،جمعیت علما ء اسلام (ف)کے8 ،بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل )کے2،مجلس وحد ت المسلمین کے1،عوامی نیشنل پارٹی کے1 ،نیشنل پارٹی کے1اور1آزاد امیدوار نے اب تک وزیر اعلی کی مخالفت کردی ہے بلوچستان کاسیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا اور جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ،دو دن گزرنے کے بعد 65میں سے 25اراکین نے کھل کر تحریک عدم اعتماد کی حمایت کردی ہے حمایت کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے کل 21میں سے 7 ارکان جن میں میر سرفراز بگٹی ،سردار صالح محمد بھوتانی ،میر عامر رند ،میر غلام دستگیر بادینی ،سردار سرفراز ڈومکی ،پرنس احمد علی ،میر جان محمد جما لی ، مسلم لیگ (ق) کے کل 5میں سے4اراکین میرعبدالقدوس برنجو،ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی ،میر عبدالکریم نوشیروانی ،میر امان اللہ نو تیزئی ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے دونوں

اراکین سردار اختر جان مینگل ،میر حمل کلمتی ،عوامی نیشنل پارٹی کے رکن انجینئر زمرک خان اچکزئی،مجلس وحدت المسلمین کے سید آغارضا ،نیشنل پارٹی کے کل 11اراکین میں سے ایک رکن میر خالد لانگو ،آزاد رکن اسمبلی نوابزادہ طارق مگسی اور جمعیت علماء اسلام کے تما م 8اراکین جن میں اپوزیشن لیڈرمولانا عبدالواسع ،سردار عبدالرحمان کھیتران ،عبدالمالک کاکڑ ،خلیل الرحمن دمڑ ، مولوی معاذ اللہ ، مفتی گلاب ،حسن بانو رخشانی ،شاہدہ رؤف شامل ہیں یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومتی اتحادی جماعت پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے اب تک کسی بھی رکن صوبائی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کی حما یت نہیں کی دوسری جانب رکن صوبائی اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے یہ دعوی کیا ہے کہ آئندہ دوروز میں مسلم لیگ (ن) ، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے مزید اراکین اسمبلی منحرف ہوکر تحریک عدم اعتماد کی حمایت کریں گے ،اس سلسلے میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے بلوچستان اسمبلی کااجلاس 9جنوری کو طلب کرلیا ہے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد لانے والے ارکان اسمبلی کوتحریک کامیاب بنا نے کے لئے رائے شماری میں 33ارکان اسمبلی کی حمایت درکار ہوگی. اپوزیشن اور حکومتی حامیوں کے دعوے اپنی اپنی جگہ درست ہوسکتے ہیں لیکن گذشتہ روز وزیراعظم اور جمعیت کے قائد مولانا فضل الرحمان کی ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان کے موقف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جمعیت بھی اپوزیشن کا ساتھ دے گی جبکہ نیشنل پارٹی میں بھی اس معاملے پر درڑایں پڑ چکی ہیں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے ساتھ صرف اور صرف نیشنل پارٹی کے دو باتیں اور پشتونخوامیپ کے اراکین ہیں ممکن ہے کہ اس جماعت کے بھی دو تین ارکان اپوزیشن کا ساتھ دے دیں تو تحریک عدم اعتماد کا کامیاب ہونا یقینی ہوجائے گا ویسے پاکستان کی سیاست اور اراکین اسمبلی کی حمایت اور مخالفت بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا .
 

..

مزید خبریں :

سروے