شہر میں ٹریفک جام رہنا معمول عوام عذاب میں مبتلا - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

شہر میں ٹریفک جام رہنا معمول عوام عذاب میں مبتلا


صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومتی اور ٹریفک پولیس کے دعوؤں کے برعکس ٹریفک پلاننگ کا فقدان ، جگہ جگہ ٹریفک جام ، اندرون شہر کی گنجان آباد شاہراہوں پر چلنا محال خواتین ،بچے اور ضعیف العمر افراد کی مشکلات میں اضافہ ٹریفک پولیس دھندے میں مصروف ، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جہاں ایک طرف آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہاہے تو دوسری جانب سرکاری محکموں میں گاڑیوں کی بے دریغ خریداری اور پھر ملازمین میں بندر بانٹ اسکے علاوہ کرپشن سے حاصل رقم اور سونے پر سہاگہ افغانستان سے کابلی گاڑیوں کی اسمگلنگ اور اندرون پاکستان سے چوری شدہ گاڑیوں کی فروخت اور عوام کی سستے داموں خریداری اور شہرکی سڑکوں کی کم چوڑائی اور تجاوزات کے باعث ٹریفک ہمہ وقت جام رہتی ہے جو عوام کیلئے وبال جان بن چکی ہے ٹریفک پولیس کیہر چند روز بعد دعوے ہوتے ہیں

کہ شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر کر دیا گیا ہے فلاں جگہ پر ڈبل پارکنگ ، نو پارکنگ کے بورڈ لگا دیئے ہیں لیکن سب کچھ اسکے برعکس ہورہاہے صبح گیارہ بجے سے دوپہر 3بجے اور پھر شام بانچ بجے تارات آٹھ بجے تک اندرون وسطی شہر تو اپنی جگہ گردونواح سرکی روڈ ، سمنگلی روڈ، جوائینٹ روڈ ، کاسی روڈ ، وغیرہ اور وسط شہر کی گلیوں بازاروں میں ٹریفک جام رہتاہے پیدل گذرنا بھی عذاب بن جاتا ہے دکانداروں نے جگہ جگہ یوڈ نگ ان یوڈنگ شروع کر رکھی ہے جبکہ مین شاہراہوں پر رکشے اور موٹرسائیکل کھڑی کرکے نوجوان خوش گپیوں میں لگیرہتے ہیں ،اور ٹریفک اہلکار نذرانے وصول اور قریبی دکانوں، چوراہوں پر کھڑے چائے کی چسکیاں لیتے نظرآتے ہیں مگر ٹریفک کے معاملات پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ،حکومت اور مقامی انتظامیہ کو اس اہم مسئلہ پر توجہ دینی چاہئے
 

..

مزید خبریں :