نواز شریف پر جوتوں سے حملہ ،وجہ اور ملزمان کا اعتراف ۔۔! - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

نواز شریف پر جوتوں سے حملہ ،وجہ اور ملزمان کا اعتراف ۔۔!


سابق وزیرا عظم نواز شریف لاہور میں مفتی نعیمی کی برسی کے موقع پر جامعہ نعیمیہ میں سمینار میں شرکت کیلئے پہنچیتھے جونہی نواز شریف اسٹیج پر خطاب کیلئے پہنچے تو وہاں پر جامعہ نعیمیہ سے 4سال قبل فارغ ہونے والا محمد منور نے نواز شریف پر جوتا اچھال دیا اور اسٹیج پر چڑھ کر لبیک یارسول اللہ کا نعرہ لگایا جوتا نواز شریف سینے اور کان پر لگا واقع کے وفوری بعد وہاں پر موجود شرکاء نے محمد منور کو اسٹیج سے نیچے دھکیلا اس موقع پر محمد منور کے مزید 2ساتھی ساجد اور عبدالغفور بھی مزاحمت کرتے ہوئے آگے آئے جنہیں نواز شریف کے گارڈز اور انکے کارکنوں نے پکڑلیا اور انکی خوب درگت بنائی قانون نافز کرنے والے اداروں نے جوتا پھینکنے والے محمد منور اور ان کے 2ساتھی عبدلغفور اور ساجد کو تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیادوران تفتیش ملزم محمد منور نے بتایا کہ اس نے ختم نبوت قانون میں ترمیم کی وجہ سے نواز شریف پر جوتا پھینکا ہے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف پر جوتا پھینکنے اور خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے جیسے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاہی پھینکا یا جوتا پھینکنا کوئی اچھا طریقہ نہیں ہے اور اسے واقعات کا تدارک ہونا چاہیے عام لوگوں کو کہتا ہوں کہ وہ بھی ایسے واقعات سے پرہیز کریں سیاست میں اختلافات اپنی جگہ لیکن احترام کا ایک علیحدہ رشتہ ہوتا ہیپیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ عدم برداشت کے کلچر کو فروغ نہیں دینا چاہیے ایسے واقعات سیاسی رہنماؤں کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں اور پیپلزپارٹی تو آغاز سے ہی ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کرتی رہی پی پی پی کوہ چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ایسے واقعات جمہوری رویوں کے خلاف سازش ہیں کیونکہ سیاست میں برداشت اور رواداری کو مقدم رکھا جانا چاہییسیاست تو برداشت کا نام ہے

آخر ایسے شاخسانے کیوں ہورہے ہیں اور ایسے واقعات کے پھیچے کوں ملوث ہے تحقیقات ہونی چاہیے اور لیڈروں کو بھی محتاط ہوکر اداروں پر تنقید کرنی چاہیے کیونکہ ایسے واقعات کا جواب پھر قوم اپنے رد عمل میں دیتی ہے اسفندیارولی نے بھی واقع کی خدمت کرتے ہوئے یہ نازیبا سلسلہ جاری رہا تو کوئی قیادت بھی ایسے واقعات سے محفوظ نہیں رہے گی یہ رویے معاشرے میں پھیلتی ہوئے عدم برداشت کا نتیجہ ہیں سب کو ان ناشاہستہ حرکات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہییسعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت سے مخالف عناصر کا حملہ ہے خدار اسے لوگوں کو درخواست کرتا ہوں کہ ملک کو چلنے دو اور دشمن کا کان آسان نہ کرو اور یہ نواز شریف سمیت خواجہ آصف اور احسن اقبال پر حملے ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے حملہ نواز شریف پر نہیں بلکہ ملکی سالمیت پر حملہ ہے ایسے واقعات کی سپورٹ نہیں بلکہ حوصلہ شکنی کرنی چاہیے یہ انفرادی معاملہ نہیں بلکہ اسکے پھیچے سیاسی مخالفین ملوث ہوسکتے ہیں تفتیش کے بعد تمام حقائق قوم کے سامنے لاہیں گے، جامعہ نعیمیہ کے مہتم اعلیٰ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے نواز شریف کے ساتھ پیش آنیوالے واقعے کو ’’سازش ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس معاملے میں پولیس کودرخواست نہیں دیں گے حکومت اور دیگر اداروں کو خود اس واقعے میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کر نا ہوگی جسکے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر کے سازش اور اس کے ماسٹر مائنڈ کومنظر عام پر لایا جائے .نواز شریف ہمارے مہمان او رہم ان کے میزبان تھے اور جو واقعہ پیش آیاہے یہ قطعاًاسلام کی سوچ نہیں . اس واقعہ سے جس قدر نواز شریف کو دکھ پہنچاہے اس سے بڑھ کر ہمیں دکھ ہوا ہے . انہوں نے کہا کہ جامعہ نعیمیہ نے ہمیشہ شدت پسندی اور دہشتگردی کی مذمت کی ہے اور ہم خود دہشتگردی کا شکار بھی ہوئے ہیں . واقعہ سازش ہے ،ہم سکیورٹی ایجنسیز سے مطالبہ کریں گے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جائیں یہ سازش کہاں تیار کی گئی اور اس کے ماسٹر مائنڈ کون لوگ ہیں انہیں منظر عام پر لایا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے . یہ کسی ایک فرد نہیں بلکہ ادارے پر بھی حملہ ہے اس لئے ریاست کو خود قانونی کارروائی کو آگے بڑھانا چاہیے . عقیدہ ختم نبوت کے معاملے پر جامعہ نعیمیہ کا موقف بڑا واضح ہے .سیاستدانوں سے تنگ آئے نوجوانوں کے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اس میں بڑی وجہ سیاستدانوں کی تقاریر میں انکا جھوٹ بولنا جھوٹے دعوے کرنا تو شامل ہے لیکن نواز شریف کی یہ بے عزتی توہین رسالت کے سلسلہ میں ہوتی ہے جسکا اعتراف جوتے پھینکنے والوں نے بھی کیا ہے پارلیمنٹ سے قادیانیوں کو مسلمان قرار دلانے کیلئے آئینی بل کی منظوری احتجاج پر واپسی پھر جھوٹ پر پردہ اور پھر واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کی تشکیل اور کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانا ثبوت ہے کہ اس قبیح جرم میں حکومت شامل تھی اور ہے اور سب کچھ نواز شریف ہی کے کہنے پر محض حصول اقتدار کے لئے کفری قوتوں قادیانیوں کے سرپرستوں کو خوش کرنے کیلئے کیا گیا ہے تاہم انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اور وہ ذات اقدس اپنے پیارے محبوب نبی کریمؐ کی شان میں کسی صورت گستاخی برداشت نہیں کرے گی بہتر ہے کہ نواز شریف اعتراف گناہ کرکے اللہ سے معافی مانگیں اور مستقبل میں ایسے قبیح گناہ سے اجتناب کریں .
 

..

مزید خبریں :