لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بڑھتی جارحیت بڑے تصادم کا خطرہ  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بڑھتی جارحیت بڑے تصادم کا خطرہ 


بھارت کی جانب سے ایل او سی پر بڑھتی جارحیت کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، چند رپورٹس کے مطابق بھارت ایل او سی پر ٹینک شکن مزائل نصب کر رہا ہے جو کہ خطے میں جنگی کیفیت کو ہوا دینے کے مترادف ہے بھارت کی جانب سے ایسے انتہائی اقدامات خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہیں . گزشتہ ایک سال سے بھارت نے ایل او سی پر جارحیت کو ایک معمول کی کاروائی بنا لیا ہے اور صرف ایک سال میں بھارت نے سینکڑوں مرتبہ ایل او سی پر جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور درجنوں شہریوں کو شہید کیا ہے جنگی اقدامات سے بھارت درحقیقت پاکستان کو کشمیروں کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت سے دستبردار کرانا چاہتا ہے جس میں اس کو کبھی کامیابی حاصل نہ ہو گی ، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے اور پاکستان تمام تر حالات میں اپنے کشمیروں کی حق خود ارادیت کہ حمایت جاری رکھے گا . بھارت کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ انسانیت سوز مظالم سے غیور کشمیروں کو حق خود ارادیت کے مطالبے سے دستبردار کروا سکتا ہے ، حق خود ارادیت کہ اس جدوجہد کو بہادر کشمیروں نے اپنی لاکھوں جانوں کی قربانیوں سے زندہ رکھا ہے اور آج بھی کشمیروں کی تیسری نسل روزانہ کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ اور دیے گئے حق خود اراویت کے حصول کے لیے جانوں کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں . مقبوضہ کشمیر کی گلیوں اور سڑکوں پر پاکستان کے پرچم لہرانے اور پاکستان زندہ آباد کے نعرے کشمیروں کی پاکستان سے وابستگی کا کھلا اظہار ہے جس کا عالمی برادری کو احترام کرتے ہوئے جلد او جلد کشمیر میں استصواب رائے کا انعقاد کرانا چائیے پاکستان کے عوام اور حکومت کشمیروں کی پاکستان سے اس وابستگی کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے تمام تر حالات میں اپنے کشمیروں کی سیاسی ، سفارتی اور خلاقی حمایت جاری رکھیں گے .پاکستان آزاد اور خود مختار ریاست ہے ،کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا ،پاکستان کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے حصول کیلئے آزادانہ طور پر اپنی خارجہ پالیسی کے مطابق کردار ادا کرے، بعض عالمی قوتوں کی طرف سے ہندوستان کی طرف جھکاؤ نہ صرف تشویشناک ہے

بلکہ ہم اس کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ،پاکستان اور ہندوستان کے مابین طاقت کا توازن خطے میں امن کے قیام کیلئے ضروری ہے ،پاکستان اورافغانستان میں باقاعدہ رابطوں کے ذریعے غلط فہمیوں کا خاتمہ کرکے تعلقات کومزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے،دونوں جانب سے معاشی استحکام کو بڑھانے کیلئے افغانستان کو بھی سی پیک میں شامل کرنے کیلئے راہ ہموار کی جائے تاکہ خطے میں معاشی خوشحالی اور پائیدار امن کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے.پاکستان اور افغانستان کے درمیان ماضی میں بہترین تجارتی روابط قائم تھے تاہم دونوں جانب معاشی استحکام کو بڑھانے کیلئے افغانستان کو بھی سی پیک میں شامل کرنے کیلئے راہ ہموار کی جائے تاکہ خطے میں معاشی خوشحالی اور پائیدار امن کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے،تاہم اس کیلئے افغانستان کو بھی اپنی پالیسیاں تبدیل کرتے ہوئے بھارت کے شکنجے سے نکل کر پاکستان کیساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانا ہونگے اگر افغانستان بھارت کی پالیسیوں پر عملدرآمد نہ کرے تو پاکستان میں دہشت گردی بھی کم ہوجائے گی کیونکہ بھارت نے افغانستان کو اپنا اڈہ بنا رکھا ہے .
 

..

مزید خبریں :