سینیٹ انتخابات ،اپوزیشن اتحاد کامیاب ،قوم پرستوں کے چہرے بھی بے نقاب  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

سینیٹ انتخابات ،اپوزیشن اتحاد کامیاب ،قوم پرستوں کے چہرے بھی بے نقاب 


سینیٹ میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں اپوزیشن اتحاد نے حکمران اتحاد کو شکست دیدی. پی پی پی ، پی ٹی آئی اور آزاد ارکان پرمشتمل اپوزیشن اتحاد کے حمایت یافتہ امیدوار میر صادق سنجرانی57 ووٹ لیکر چیئرمین سینیٹ اور سلیم مانڈوی والا54ووٹ لیکر3سال کیلئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے، انکے مقابلے میں حکمران اتحاد کے چیئرمین کے امیدوار راجہ ظفر الحق نے 46اور ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار عثمان خان کاکڑ44ووٹ حاصل کر سکے، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں 103اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے عمل کے دوران 98 سینیٹرز نے ووٹ پو ل کئے ، تمام ووٹ منظور ، کوئی مسترد نہ ہوا، ایوان بالا میں انتخاب مکمل ہونے کے بعد گیلری میں بیٹھے مہمانوں کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی ،چیئرمین سینیٹ کے حلف لینے کے دوران ایوان نعروں سے گونجتا رہا ،نومنتخب چیئرمین سینیٹ نے نعرے بازی کرنے والے کارکنوں کو ایوان سے نکلوا دیا. دوسری جانب سینیٹ کے52نومنتخب ارکان نے حلف بھی اٹھایا جب کہ اسحاق ڈار بیرون ملک ہونے کے باعث حلف نہ اٹھا سکے‘ نہال ہاشمی کی خالی نشست پر نومنتخب سینیٹر اسد اشرف نے بھی باقی سینیٹرز کے ہمراہ حلف اٹھایا،52سینیٹرز 6سال کیلئے ملک کے ایوان بالا کے رکن بنے جب کہ نہال ہاشمی کی نشست پر ضمنی الیکشن میں منتخب ڈاکٹر اسد اشرف 3 سال کے لیے منتخب ہوئے اس موقع پر گیلری میں موجود مہمانوں کی جانب سے’’ ایک زرداری سب پہ بھاری ‘‘،’جئے بھٹو‘’اگلی باری پھر زرداری‘کے نعرے لگائے گئے جبکہ گیلری میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کے حق میں بھی شدید نعرے بازی کی گئی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ایم کیو ایم نے بائیکاٹ کیا .چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی نے نومنتخب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا سے حلف لیا .ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد بھی ایوان میں شدید نعرے بازی کی گئی جس پر چیئرمین سینیٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نعرے بازی کرنے والوں کو گیلری سے نکالنے کی ہدایت کی.اپوزیشن اتحاد کی فتح کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اپنی شکست کا غصہ نکالتے ہوئے کہا کہکل تک ایک دوسرے کو چور، ڈاکو ، نقلی خان اور بیماری کہنے والے آج گلے مل رہے تھے ، بہروپیوں کے چہرے عوام کے سامنے آگئے ہیں ، نقلی جمہوری چہروں اور قوتوں نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں دھاندلی کی، جمہوری لوگوں اور نامور لیڈروں کو سیاست سے ختم نہیں کیا جاسکتا، ووٹوں کو خریدا گیا، لوگوں کو ایک دوسرے سے ملوایا گیا،ابھی بڑا مرحلہ 2018ء کا الیکشن باقی ہے، تمام مشکلات کے باوجود نواز شریف اصولوں پر ڈٹ کر کھڑے ہیں، آئندہ انتخابات میں ووٹ کو عزت دو کے نظریئے کی جیت ہوگی ،ملک میں دو ٹیمیں بن چکیں ایک جمہوری الیون اور دوسرا جمہورا الیون ہے، جمہورا الیون میں ڈگڈگی بجتی ہے عمران خان ناچتے ہیں، سنجرانی صاحب کا انتخاب نہیں بھرتی ہوئی ہے،

پیپلز پارٹی والے اب بھٹو کی قبر پر کس منہ سے جائینگے؟آج ان لوگوں کا بھیانک چہرہ سامنے آ گیا ہے جو تبدیلی اور انقلاب کے نعرے لگاتے تھے نواز شریف نے خریدوفروخت کی اور نہ کی خریدوفروخت ہونے دی وہ آج بھی اصولوں پرکھڑا ہے .آج ہم نے وہی منظر دیکھا جو 2014ء میں امپائر کی انگلی پر ناچنے والے کا تھا .ابھی ایک بہت بڑا مرحلہ باقی ہے ، عوام انتخابات میں اس شخص کو ووٹ دینگے جو اصولوں پر کھڑا ہے وہ شخص محمد نواز شریف ہے. پاکستان کے عوام اسی اصولی شخص کے ساتھ کھڑے ہیں . بلوچستان ، کے پی کے، پنجاب میں جس طرح ووٹ خریدے گئے وہ آج ظاہر ہوگئے ہیں . آج بھٹو صاحب کا بھرم بھی ختم ہو گیا ہے جو نعرے لگاتے تھے بھٹو زندہ ہے آج پیپلز پارٹی کے رویئے کے بعد بھٹو شہید ہوگئے ہیں . نامعلوم افراد اور انگلی پر ناچنے والی کٹھ پتلیاں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی رہی ہیں . مریم اورنگزیب نے کہا کہ جن لوگوں نے ووٹ کی خریدوفروخت کی اور ایک دوسرے کیساتھ ہاتھ ملایا وہ ظاہر ہوگئے ہیں ، پہلے بلوچستان کی حکومت ختم کی گئی اور آج اسی کا تسلسل دہرایا گیاہے. ہم سمجھتے ہیں کہ نواز شریف اور (ن) لیگ کے نظریے کو فتح ہوگی . مسلم لیگ (ن) کا مقصد سسٹم کو چلتے رکھنا تھا افواہیں پھیلائیں گئی کہ سینیٹ کے انتخابات نہیں ہونگے، اسمبلیاں تحلیل کرنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہوئی . سینیٹ الیکشن کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ کئی لوگوں کے اصل چہرے بے نقاب ہوگئے ہیں. یہ لوگ اصول پسند، تبدیلی اور سٹیٹس کو کے خلاف باتیں کرتے تھے . زرداری جو ایک بیماری تھا وہ بنی گالہ تک پہنچ چکی ہے یہ سیاسی بہروپئے ہیں جو خود اسمبلی آتے نہیں مگر ووٹ کی طاقت سے صدر اور وزیراعظم بننا چاہتے ہیں . پیپلز پارٹی نے رضا ربانی کی بجائے سنجرانی کو سپورٹ کیاان لوگوں کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی. یہ بھٹو کی قبروں پر کس منہ سے جائینگے . آصف علی زرداری جلد اعلان کرینگے کہ ان کا بھٹو سے کوئی تعلق نہیں، تبدیلی کی سیاست سب کلیئر ہو کر سامنے آگئی ہے. آج تحریک انصاف کی اصول پسندی اور سیاست خرید کر دکھائی گئی . حکومت اور اسکے اتحادیوں کی سینیٹ انتخابات میں جیت واضح نظر آرہی تھی تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جیت میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا کردار واضح ہے اب جیت کے بعد ن لیگ میں پڑی دراڑیں بھی بتدریج کھل کر سامنے آنا شروع ہوجائیں گی اور آئندہ انتخابات سے قبل بہت کچھ سامنے آجائے گا حیران کن امریہ ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر حاصل خان بزنجو نے کہاکہ آج عملی طور پر ثابت ہوگیا ہے کہ بالادست طاقتیں پارلیمنٹ سے زیادہ طاقتور ہیں مجھے اس ایوان میں بیٹھے ہوئے شرم آتی ہے بلڈنگ گرانے کے بعد بلوچستان کا نام لیا جارہا ہے حاصل بزنجو کو معلوم ہونا چاہیے کہ کم وبیش ساڑھے چار سال انکی جماعت بلوچستان میں ن لیگ کی اتحادی اور برسر اقتدار تھی انکی جماعت نے بلوچستان تو درکنار جن علاقوں سے انکے اراکین اسمبلی کامیاب ہوئے تھے وہاں کون سے ترقیاتی کام کرائے تھے پھر انہی کی جماعت کے ریکوڈک بارے عالمی عدالت میں کردار سے بھی عوام بخوبی آگاہ ہیں ہمہ وقت جو سیاستدان بلوچستان میں قوم پرستی کے دعوے کرتے تھے اور کرتے ہیں ان کا کردار بھی عوام کے سامنے آگیا ہے ہمہ وقت بلوچستان کے حقوق کے دعوے ہوتے ہیں اب جب بلوچستان کا ہی امیدوار حیران میں تھا تو اسکا ساتھ نہیں دیا بلکہ وفا ق کا ساتھ دیا کیونکہ نواز حکومت انہیں نوازتی رہی ہیں ہمارے سیاستدانوں کو مفاد پرستی اور منافقت کی سیاست چھوڑنا ہوگی بصورت دیگر جس طرح انکے چہرے بے نقاب ہورہے ہیں عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق خود ان کا احتساب کرنے سے گریز نہیں کریں گے .
 

..

مزید خبریں :