بلوچستان کے رواں مالی سال کا خسارے کا بجٹ  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

بلوچستان کے رواں مالی سال کا خسارے کا بجٹ 


بلوچستان کے رواں مالی سال کا3 کھرب 53 ارب روپے سے زائد بجٹ پیش کر دیا گیاجن میں غیر ترقیاتی اخراجات 3 کھرب64 کروڑ جبکہ ترقیاتی اخراجات88 ارب روپے سے زائد جبکہ خسارہ61 ارب روپے سے زائد ہے کل آمدن کا تخمینہ 2 کھرب 90 ارب روپے ہے رواں مالی سال میں 8 ہزار35 اسامیاں مختص کی گئی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں10 اضافہ کر دیا گیا جس میں ریونیو اخراجات کا تخمینہ2 کھرب23 ارب روپے سے زائد جبکہ وفاقی اخراجات کے لئے 40 ارب روپے سے زائد شامل ہے صوبے کے اپنے وسائل سے آمدنی کا تخمینہ 5 ارب روپے جبکہ وفاقی سے حاصل ہونیوالی آمدنی 2 کھرب43 ارب روپے سے زائد ہے بجٹ میں بیروزگاری کے خاتمے کیلئے 8035آسامیوں کا اعلان کیا گیا امن وامان کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 34ارب روپے محکمہ اسکولز کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 9.43ارب صحت کیلئے 4.19ارب میڈیکل کالج نصیرآباد کیلئے 3ارب بیروزگار نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے 1.2ارب جان لیوا بیماریوں کے علاج کیلئے ایک ارب روپے مختص5.1ارب روپے کی لاگت سے عمارتوں سے محروم اسکولوں کی عمارات فراہم کی جائیں گی لگژری گاڑیوں کی خرید حکومتی خرچے پر ہوٹلوں میں میٹنگ وتقریبات کے انعقاد ،حکومتی خرچے پر ظہرانے ودیگر طعال پر مکمل پابندی رہے گی جبکہ ایم فل کی طرح ایم ایس پاس کرنے والوں کو بھی پانچ ہزار روپے ماہانہ الاؤنس دیتے کیمپس کیلئے زمین کی خریداری کیلئے ایک ارب 20کروڑ روپے بوستان میں 100میگاواٹ کا شمسی توانائی پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے صوبائی مشیر خزانہ ڈاکٹر رقیہ ہاشمی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت روز اول سے ہی جن رہنماء اصولوں کو مد نظر رکھے ہوئے ہیں ان میں صوبے میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ،تعلیمِ ،صحت اور فراہمی آب جیسے سماجی منصوبوں میں بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کیلئے ٹھوس اور مربوط کوششیں ،غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ کرکے وسائل کو ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے استعمال میں لانا ،بہتر اور موثر انداز میں وصولیوں کے ذریعے وسائل پیدا کرنے کی مشینری کو ازسر نو منظم کرنا ،ہر سطح پر مالیاتی نظم وضبوط قائم کرنا اور بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی کوششوں کو تقویت دیناہے ،صوبہ امن اور ترقی کے راستے پر گامزن ہے بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں موجود ہ صوبائی حکومت نے طویل عرصے میں صوبے کو درست سمت پر گامزن کردیاہے اب دہشت گرد نہیں بلکہ سرمایہ کار بلوچستان آرہے ہیں نوجوان پہاڑوں پر نہیں بلکہ یونیورسٹی کا رخ کئے ہوئے ہیں ان کے ہاتھوں میں بندوق کی بجائے قلم ہے .ہمیں عہد کرناہوگا

کہ اب شکوے اور شکایات کی بجائے محنت کرتے ہوئے سب کے ساتھ مل کر صوبے کی ترقی میں کرداراداکرینگے بلوچستان کو ضمانت قدیم سے ہی منفرد حیثیت حاصل ہے یہ ملک کے 44فیصد رقبے پرمشتمل ہے بلکہ اس کی آبادی ایک کروڑ23لاکھ افراد سے زائد ہے بلوچستان کو محل وقوع کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے بلکہ یہ جنگلی حیات کیلئے بھی انتہائی اہم علاقہ ہے یہاں صنوبر کے بہت بڑے جنگلات موجود ہیں بلکہ بلوچستان 775کلومیٹر طویل ساحلی پٹی بھی رکھتاہے ہمارے ساحلی علاقے معاشی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ، بلوچستان میں زیر زمین معدنی ذخائر کو دریافت کرنے اور انہیں استعمال میں لانے کی ضرورت ہے ہمارے پاس سونا ،چاندی ،تانبے کے علاوہ قدرتی گیس تیل اور کوئلے کے بہت وسیع ذخائر موجود ہیں 1952ء میں بلوچستان سے دریافت ہونے والے گیس میں ملک کی معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردار اداکیاہے آج ایک مرتبہ پھر طویل ساحلی پٹی ،قیمتی قدرتی وسائل ،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے باعث بلوچستان نہ صرف ملک کی ترقی کا زینہ بن رہاہے بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے اہم مرکز کے طورپر بھی ابھر رہاہے موجودہ بجٹ ان مقاصد کو پیش نظر رکھ کر بنایاگیاہے جس سے عام آدمی کے مسائل حل کئے جاسکیں .

ضرور پڑھیں: ن لیگ اور پی پی میں اختلافات بڑھ گئے،اپوزیشن لیڈر شیری رحمن کو ہٹانے کیلئے راجہ ظفر الحق نے سینیٹ میں درخواست جمع کرادی

آئندہ بجٹ کی خاص بات صوبے کے ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرناہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس کو پیش نظر رکھ کر یہ بجٹ پیش کیاجارہاہے ان مقاصد کے حصول سے ہم بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن کرسکتے ہیں سی پیک گیم چینجر کی حیثیت رکھتاہے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت چین اورپاکستان کے درمیان تاریخی رابطوں کو بحال ،مزید مستحکم اور پائیدار بنانا ہے اس منصوبے کے تحت پاکستان میں انفراسٹرکچر کو مزید بہتر طورپر تعمیرکرنا اور اس سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک توسیع دینا شامل ہیں .ہم اس اہم وکلیدی نوعیت کے منصوبے پر فخر کرتے ہیں جس سے نا صرف ملکی معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہونگے بلکہ اس کے ذریعے صوبائی حکومت کی معاشی تقدیر بھی بدلے گی اور روزگار کے وسیع مواقعوں کے ساتھ ساتھ ترقی کے نئے دور کاآغاز ہوگا.مشیر خزانہ ڈاکٹر رقیہ ہاشمی کاکہناتھاکہ گوادر ملکی معاشی ترقی میں اہم کرداراداکریگا اس کی ترقی کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے .صوبائی حکومت نے اپنے طور پر رواں مالی سال کیلئے اچھا بجٹ پیش کیا ہے تاہم یہ خسارے کا بجٹ ہے خسارہ پورا کرنے کیلئے یقیناًقرضے لئے جائیں گے یا پھر ترقیاتی کاموں پر کٹ لگے گا رہ گیا وفاق سے رقوم کا حصول تو وہ پہلے بھی معاملات وعدوں پر ہی رہے ہیں اور آئندہ بھی ایسی ہی توقعات ہیں صوبائی حکومت نے بجٹ میں کسی قسم کے ٹیکسز نہیں لگائے گئے جبکہ حکومت کو پراپرٹی ٹیکس پر توجہ دینی چاہیے تھی کم وبیش 120گز سے زائد مکانات پر پراٹی ٹیکس لگانا اور اگر پہلے عائد ہے تو اس میں اضافہ کرنا چاہیے تھا کیونکہ بڑے مکانات پر ٹیکس سے غریب اور متوسط طبقہ متاثر نہیں ہوگا امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے وافر رقم رکھی گئی ہے لیکن صرف رقم مختص کرنے یا اسلحہ خریدنے سے یہ مسئلہ نہیں ہوگا .
 

..

ضرور پڑھیں: عمران خان کے آنسوؤں نے کئی لوگوں کو آبدیدہ کر دیا