قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ،الزامات یکسر مسترد  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ،الزامات یکسر مسترد 


قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا ،جس میں وزیر دفاع اور خارجہ خرم دستگیر خان ،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی ،چیف آف ائیر اسٹاف ایئر مارشل مجاہد انور خان ،ڈی جی انٹرسروسزانٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر)ناصر خان جنجوعہ اور دیگر سینئر سول اور فوجی حکام نے شرکت کی .اجلاس میں ممبئی حملوں سے متعلق 12مئی 2018کو روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے حالیہ بیان کا جائزہ لیا گیا .

ضرور پڑھیں: ن لیگ اور پی پی میں اختلافات بڑھ گئے،اپوزیشن لیڈر شیری رحمن کو ہٹانے کیلئے راجہ ظفر الحق نے سینیٹ میں درخواست جمع کرادی

اجلاس میں متفقہ طور پر بیان کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹھوس حقائق کے برعکس بیان کو پیش کرنا بدقسمتی ہے.

ممبئی کیس کے التواء کا ذمہ دار پاکستان نہیں بھارت ہے. بھارت نے تفتیش کے دوران دیگر ردعمل کے علاوہ متعدد بار تعاون سے انکار کیا اور مرکزی ملزم اجمل قصاب تک رسائی دینے سے بھی انکار کیا .اجمل قصاب کی عجلت میں پھانسی کیس مکمل نہ ہونے کا اہم سبب بنی .ااس وقت پاکستان سمجھوتہ ایکسپریس اور بھارتی جاسوس کلبوشن یادو کے حوالے سے بھارتی تعاون کا تاحال منتظر ہے .قومی سلامتی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام محاذوں پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا. اطلاعات کے مطابق کونسل کے جاری اعلامیہ کے بعد وزیراعظم خاقان عباسی نے نواز شریف کے دربار میں حاضری دی تو نواز شریف نے شاہدخاقان عباسی سے آتے ہی طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں میرے بیان کو مسترد کرکے کیا حاصل ہوا ؟ اور آپ مجھے بتائیں کہ میرے انٹرویو میں کونسی غلطی تھی جس پر شاہد خاقان عباسی قدرے خاموش رہنے کے بعد بولے کہ آپ میرے لیڈر ہیں جو احکامات آپ دیں گے ان پر عمل کیا جائے گا.جبکہ نواز شریف نے اس کے بعد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر میں غدار ہوں اور ملک دشمن ہوں تو قومی کمیشن بنایا جائے جبکہ اپوزیشن جماعتیں مطالبہ کررہی ہیں کہ نو از شریف پر آئین سے غداری کا مقدمہ چلایا جائے ہماری عدلیہ اور حساس اداروں کو اس افراتفری ملک کو بدترین صورتحال سے دوچار کرنے کی سازشوں کا نوٹس لیتے ہوئے ان امور واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے بلا امتیاز کمیشن بنانا پھر اسکی رپورٹ پر عملدرآمد کرنا چاہیے تاکہ یہ سلسلہ بند ہوسکے .
 

..

ضرور پڑھیں: عمران خان کے آنسوؤں نے کئی لوگوں کو آبدیدہ کر دیا