حاجن ،بھارتی فوج کا شہید نوجوان کی لاش دینے سے انکار،لوگوں کا فوجی کیمپ کے باہر دھرنا ،جھڑپوں میں متعدد زخمی  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

حاجن ،بھارتی فوج کا شہید نوجوان کی لاش دینے سے انکار،لوگوں کا فوجی کیمپ کے باہر دھرنا ،جھڑپوں میں متعدد زخمی 


وادی کے مختلف علاقوں میں تعزیتی ہڑتال،کئی مقامات پر پتھراؤ اور شیلنگ،کاروباری مراکز کے ساتھ انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند
انڈین ائر فورس سٹیشن اونتی پورہ پر حملے کی پوچھ گچھ کیلئے ٹھیکیدار سمیت دو افراد زخمی ، لولاب میں تودے کے نیچے دبے 3شہریوں کی لاشیں 6روز بعد نکال لی گئیں ،علاقے میں صف ماتم بچھ گئی ،مزید تودے گرنے کا انتباہ جاری 
سرینگر(ڈیلی قدرت ) مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے علاقے حاجن میں گزشتہ روز بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوان کی تدفین کیلئے عوام سراپا احتجاج ہیں جبکہ بھارتی فوج نے لاش دینے اور شہید کی شناخت جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جس پر لوگوں نے فوجی کیمپ کے باہر احتجاج کیا اور دھرنا دیا ہے ،وادی کے مختلف علاقوں میں تعزیتی ہڑتال،کئی مقامات پر پتھراؤ اور شیلنگ،کاروباری مراکز کے ساتھ انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند. تفصیلات کے مطابق مقبوضۃ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کی تحصیل حاجن میں ایک ہفتے کے دوران بھارتی فورسز نے تین فرضی جھڑپوں میں نوجوانوں کو شہید کیا ہے . گزشتہ روز حاجن کے محلہ شکور الدین میں جعلی مقابلے میں ایک زیر حراست نوجوان کو شہید کر کے کے لاش قبضے میں لے لی گئی تھی اور اس کی شناخت بھی جاری نہیں کی گئی.اس دوران لوگوں نے جمعہ کی صبح فوجی کیمپ کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا اور فوجی حکام سے مطالبہ کیا کہ لاش تدفین کیلئے ان کے سپرد کی جائے تاہم بھارتی فوج نے لاش دینے اور اس کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا جس پر لوگوں کی بڑی تعداد نے فوجی کیمپ کے باہر احتجاج کیا اور دھرنا دے دیا .آخری اطلاعات تک لوگوں کا احتجاج جاری تھا اور فوجی افسران کے ساتھ لاش کی حوالگی کیلئے بات چیت بھی جاری تھی.بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ مارا جانے والا نوجوان لشکر طیبہ کا جنگجو تھا.اس دوران وادی میں تعزیتی ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند رہے اور انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رہی.لوگوں نے خراب موسم کے باوجود مختلف مقامات پر بھارتی فورسز کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور قابض اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں بھارتی اہلکاروں نے لاٹھی،چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا.بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں .حاجن میں مردوزن گھروں سے باہر آکر احتجاج کرنے لگے. پولیس اورفورسز نے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو مشتعل نوجوانوں کی ٹولیوں نے بیک وقت کئی اطراف سے فورسز پر زبردست پتھراؤ شروع کیا. مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے پہلے لاٹھی چارج کیا گیا اور بعد میں اشک آور گیس کے گولے داغے گئے جنگجوکی یاد میں حاجن کے ساتھ ساتھ گردونواح کے بیشترعلاقہ جات میں دکانیں ، تجارتی مراکز، بنک اور دفاتر وغیرہ مکمل طوربند رہے جبکہ گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہنے کی وجہ سے بازار ویران اورسڑکیں سنسان پڑی رہیں .ادھر جھڑپ کے تناظر میں بانڈی پورہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں موبائیل انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی . یہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان تیسری جھڑپ تھی.22فروری کو پری بل علاقے میں طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے میں ایک پیرا کمانڈو زخمی ہوا اور جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے . 26 فروری پیر کو بونہ محلہ حاجن میں جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان گولیوں کے تبادلے کے بعد جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے . اس مختصر جھڑپ میں لشکر طیبہ سے وابستہ ابو حارث نامی غیر مقامی جنگجو شدید زخمی ہوا تھا جو دوران شب ہی زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا اور اسے مقامی مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا.دریں اثناء انڈین ائر فورس سٹیشن اونتی پورہ میں بحیثیت ٹھیکیدار کام کررہے ایک شخص سمیت دو افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ہے.معلوم ہوا ہے کہ عبدالرشید ڈار ولد ولی محمد ساکن ملنگ پورہ ،جوکہ انڈین ائر فورس سٹیشن میں بحیثیت ٹھیکیدار کام کررہاہے، کو پولیس کو جمعرات کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیا. بتایا جاتا ہے کہ وہ گرفتاری کے وقت ائر پورٹ میں ہی کام کررہا تھا.اسکے فورا بعد پولیس نے نصیر احمد ولد غلام نبی بٹ ساکن ملنگ پورہ کو بھی حراست میں لیا.ذرائع کے مطابق دونوں سے گذشتہ دنوں جنگجوؤں کی جانب سے ائر فورس سٹیشن کے متصل ملنگ پورہ میں قائم ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کے کیمپ پر حملے کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کی جارہی ہے.ادھر کپواڑہ میں وادی لولاب کے لشکوٹ جنگل میں 6روز تک مٹی کے ایک بھاری تودے کے نیچے زندہ دفن ہونے والے 3شہریو ں کی لاشوں کو بر آ مد کرلیا گیا ہے. 26فروری کو لولاب کے درد پورہ اور ورنو سے تعلق رکھنے والے 5شہری جنگلی پرندوں کا شکار کرنے کی غرض سے لولاب کے لشکوٹ جنگلی علاقہ کے لئے نکلے تھے تاہم اس دوران بھاری برف باری اور بارشو ں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد یہ شہری راستہ بھول گئے اور بہت دور چلے گئے جہا ں الطاف احمد میر ساکن ریشواری ورنو ،بشیر احمد گنائی ساکن درد پورہ اور غلام محمد لون ساکن ورنو مٹی کے ایک بھاری تودے کے نیچے زندہ دفن ہوگئے جبکہ ضمیر احمد اور محمد اکبر معجزاتی طور بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے .منگل تک ہر روز شہریوں کی لاشوں کو نکالنے کی کارروائیاں جاری رہیں تاہم ناکامی ہوئی.بدھ کو لولاب سے54افراد پر مشتمل ٹیم کو لشکوٹ جنگلی علاقہ، جہا ں یہ حادثہ پیش آ یا تھا، روانہ کیا گیا . اس ٹیم میں لولاب سے تعلق رکھنے والے نوجوانو ں نے پولیس اور فوج کے ساتھ رضاکارانہ طور جانے کے لئے کمر کس لی اور بدھ کی شام لشکو ٹ پہنچ کر وہا ں ایک فوجی کیمپ میں رات گزاری اور جمعرات کی صبح بچاؤ کارروائی شروع کی گئی .سب ڈویژنل مجسٹریٹ لولاب کے مطابق جمعرات کی دو پہر سخت محنت کے بعد زندہ دفن ہونے والے 3شہریو ں کی لاشو ں کو نکالا گیا تاہم شام تک پولیس فوج اور رضاکار نوجوان لاشو ں کو لیکر ورنو اور درد پورہ نہیں پہنچ سکے تھے کیونکہ پیدل چلنے میں 4سے 5گھنٹے لگ جاتے ہیں.ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ خالد جہانگیر نے لاشوں کو وہا ں سے لانے کے لئے ہیلی کاپٹر کا انتظام بھی کیا تھا لیکن آخری وقت میں ہیلی کاپٹر وہاں نہیں اتر سکا .ا س دوران ورنو اور درد پورہ میں دوربارہ ماتم کی لہر دوڑ گئی اور لوگو ں کی بھاری تعداد ورنو اور درد پورہ پہنچ کرنماز جنازہ میں شرکت کیلئے جمع ہوئے .دریں اثنا ڈیزاسٹر منیجمنٹ ، امداد و باز آباد کاری اور تعمیر نو کے وزیر جاوید مصطفی میر نے ان تین افراد کے لواحقین، جو لشکوٹ جنگلات میں تودے کی زد میں آکر جاں بحق ہوئے تھے، کی لواحقین کے حق میں چار چار لاکھ روپے ایکسگریشیا ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے.وزیرنے ڈویژنل کمشنر کشمیر اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹوں کی اتھارٹیوں سے کہا کہ وہ ایسے واقعات کا نوٹس لیں جنہیں ہونے سے بچایا جاسکے تاکہ مستقبل میں مزید جانوں کا زیاں نہ ہو.ایس اے ایس ای کی طرف سے بارہمولہ ، گلمرگ ، پھرکیاں .زیڈ گلی اور کپواڑہ . چوکی بل .ٹنگڈار ، بانڈی پورہ اور کرگل کے لئے درمیانہ درجے کے تودے گرآنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے. پونچھ ، راجوری ، ریاسی ، رام بن ، ڈوڈہ ، کشتواڑ، ادھمپور ، اننت ناگ ، کولگام ، بڈگام ، لیہہ اضلاع اور سرینگر جموں قومی شاہراہ پر ہلکے تودے گر آنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے .ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے تودے گر�آنے والے علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو احتیاطی تدابیر عملانے کی صلاح دی ہے .
 

..