مقبوضہ کشمیر ،شوپیاں ہلاکتوں کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری،جھڑپوں میں 15افراد زخمی،حریت قیادت کی رہائی کا مطالبہ  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

مقبوضہ کشمیر ،شوپیاں ہلاکتوں کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری،جھڑپوں میں 15افراد زخمی،حریت قیادت کی رہائی کا مطالبہ 


مختلف مقامات پر لوگوں کا قابض فوج پر پتھراؤ،بھارتی اہلکاروں کی جانب سے آنسو گیس،لاٹھی چارج اور پیلٹ کا بے دریغ استعمال،حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک سمیت کئی رہنما تھانوں اور جیلوں میں قید،علی گیلانی بدستور نظر بند 
وادی میں صورتحال کشیدہ،انتظامیہ نے تعلیمی اداروں کی بندش میں پیر تک توسیع کر دی ،امتحانات ملتوی، کاروباری مراکز تجارتی ادارے بند،انٹر نیٹ ،موبائل اور ریل سروس معطل ،بار ایسوسی ایشن کا احتجاج،عدالتوں کا بائیکاٹ 
سرینگر(ڈیلی قدرت ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے مزاحمتی خیمے کا ’’ شوپیاں چلو‘‘ پروگرام روکنے کے دوسرے دن بھی حالات معمول پر نہ آ سکے،شہری ہلاکتوں کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری،فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 15افراد زخمی ہو گئے ،مختلف مقامات پر لوگوں کا قابض فوج پر پتھراؤ،بھارتی اہلکاروں کی جانب سے آنسو گیس،لاٹھی چارج اور پیلٹ کا بے دریغ استعمال ،حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک سمیت کئی رہنما تھانوں اور جیلوں میں قید،علی گیلانی بدستور نظر بند ،مظاہرین کا قائدین کی رہائی کا مطالبہ ،وادی میں صورتحال کشیدہ،انتظامیہ نے تعلیمی اداروں کی بندش میں پیر تک توسیع کر دی ،امتحانات ملتوی، کاروباری مراکز تجارتی ادارے بند،انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل .تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے شہری ہلاکتوں کیخلاف گزشتہ روز حریت قیادت کی جانب سے’’شوپیاں چلو‘‘ پروگرام روک دیا تھا اور سید علی گیلانی جو کہ بندشیں توڑ کر ریلی کی قیادت کرنا چاہتے تھے انھیں زبردستی گھر میں نظر بند اور میر واعظ عمر فاروق کو حراست میں لے کر تھانہ نگین منتقل کر دیا تھا. بھارتی فورسز نے محمد اشرف صحرائی، حاجی غلام نبی سمجھی، غلام احمد گلزار، حکیم عبدالرشید، بلال صدیقی،محمد یوسف مکرو،محمد اشرف لایا، عمر عادل ڈار، سید امتیاز حیدراور خواجہ نذیر احمد کو بھی تھانوں میں بند کر دیا تھا تاہم بھارت کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود دوسرے روز بھی لوگوں نے بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا.لوگوں نے سید علی گیلانی کی نظر بندی ختم کرنے ،میر واعظ عمر فاروق ،یاسین ملک اور دیگر حریت رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا.اس دوران مختلف مقامات پر فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 15افراد زخمی ہو ئے .شہری ہلاکتوں اور حریت قائدین کی گرفتاریوں کیخلاف جمعرات کو لوگوں نے بندشوں اور سخت سکیورٹی کے باجود مظاہرے کئے . اس دوران درجنوں نوجوانوں نے پولیس لائنزکے باہر تعینات اہلکاروں پر پتھراو کیا،جبکہ پتھراو کررہے لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسوں گیس کے گولے داغے اور پیلٹ چلاے جس کی وجہ سے 10 افراد زخمی ہوگئے.عینی شاہدین کے مطابق شوپیاں پہنو ،میمندر،سوفانامن اورکنہ پورہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئی.ادھر بنہ بازار میں پولیس اور مظاہرین کے بیچ جھڑپیں ہوئیں،جس کے دوران فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آوار گولوں کے ساتھ پیلٹ بھی چلائے جس کی وجہ سے5 افراد زخمی ہوے جن میں2کو سرینگر اسپتال منتقل کیا گیا .زخمی ہوئے نوجوانوں میں فیضان احمد تیلی ولد عبدالرحمان تیلی اور ارسلان احمد تورے ولد بشیر احمد تورے ہیں. پیلٹ کا شکار ہونے والے افرادمیں سے ارسلان احمد تورے ولد بشیر احمد تورے ساکنہ بنہ بازا ر آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہوا جسے بعد میں سرینگر منتقل کیا گیا .ادھر دن بھر ضلع کی کچھ مسا جد میں اسلام و آزادی کے ترانے گونجتے . شہر خاص کے حساس علاقوں میں سنگبازی کے واقعت رونما ہوئے،جبکہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آوار گولے داغے.عینی شاہدین کے مطابق جب فورسز نے علاقوں سے جانے کی کوشش کی،تو نوجوانوں نے راجوری کدل اور کاوڈارہ میں فورسز پر سنگبازی کی،جو کہ بعد میں نالہ مار تک پھیل گیا. اس دوران مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپ میں فورسز نے اشک آوار گولے داغے. سرینگر کے لسجن بائی پاس کے علاوہ نوگوام اور کنی پورہ چارورہ میں بھی فورسز اور مطاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں،جس کے دوران نوجوانوں نے فورسز پر سنگبازی کی،جبکہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے انکا تعاقب بھی کیا،اور اکا دکا ٹیر گیس کے شل بھی داغے. پاپہ چھن بانڈی پورہ میں نوجوانوں کے ایک گروپ نے سی آر پی پر پتھراو کیا ہے. اس دوران ایک سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہوا ہے ڈسٹرکٹ ہسپتال کے بی ایم او نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی آر پی ایف اہلکار کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا ہے اس کے ناک اور دانتوں کو زخم آیا ہے علاج کے بعد واپس لے گئے ہیں. شوپیاں قصبے میں کرفیو جیسی صورتحال نظر آئی. قصبہ اور حساس مقامات پر اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا،جبکہ شوپیاں کے داخلی اور اخراجی راستوں پر سخت بندشیں عائد کر کے فورسز اور پولیس کے سخت پہرے لگا دئیے گئے تھے. شوپیان میں حساس مقامات پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے چوراہوں پر کانٹے دار تار بچھائی گئی تھے اور ضلع کو جانے والے راستوں کو فورسز کی جانب سے سیل کر کے رکھا گیاتھااس دوران سری نگرکے شہرخاص میں حساس پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں مکمل اورجزوی پابندیاں عائدکی گئیں .سرینگر کے شہر خاص کے حساس علاقوں کو ناکہ بندی کی گئی تھی،جس کے پیش نظر ان علاقوں میں سخت بندشیں اور قدغنیں عائد کی گئی تھی.تمام بندش زدہ علاقوں میں عام لوگوں کی نقل وحمل پرپابندی عائدرہی جبکہ پولیس اورفورسزکی ٹکڑیوں نے شہرخاص میں بالخصوص تمام اہم رابطہ سڑکوں پرخاردارتاریں ڈال کرگاڑیوں اورپیدل آمدورفت ناممکن بنادیاتھا.شہرخاص کے لوگوں نے بتایاکہ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی .انہوں نے کہاکہ کرفیوجیسی بندشوں اوربڑی تعدادمیں پولیس وفورسزاہلکاروں کی تعیناتی کے باعث وہ گھروں میں محصوررہے .مقامی لوگوں نے بتایاکہ سخت بندشوں کے چلتے تاریخی جامع مسجدکے اطراف واکناف میں سخت سیکورٹی حصاربنایاگیاتھا،اوراس مرکزی جامع مسجدکی جانب جانے والے سبھی راستے اورگلی کوچھ سیل رکھے گئے تھے . اس دوران جنوبی کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال رہی،جبکہ فورسز اور پولیس کو تعینات کیا گیا.اننت ناگ میں فورسز اور پولیس نے حساس مقامات پر فورسز کے پہرے بٹھا دئے گئے تھے.ادھر ضلع پلوامہ میں بھی حساس مقامات پر اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا،اور انہیں متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی تھی. کولگام میں تمام چھوٹی بڑی سڑکوں پر جہاں مکمل سیل کیا گیا تھا،جبکہ اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو ممکنہ احتجاجی مظاہروں سے نپٹنے کیلئے تیار رکھا گیا تھا. حریت قیادت کی گرفتاریوں اور شہری ہلاکتوں کیخلاف وادی میں ہمہ گیر ہڑتال رہی جس کی وجہ سے کاروباری اداروں کے علاوہ تجارتی مراکز مقفل رہیں اور بازار صحرائی مناظر پیش کرنے لگے،وہی مسافربردار گاڑیوں کے پہیہ بھی جام ہوگئی،اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بند رہیں،تاہم کئی علاقوں میں نجی گاڑیاں سڑکوں پر حرکت کرتی ہوئیں نظر آئی.ہمہ گیر ہڑتال کال سے سرینگر کے علاوہ وادی کے دیگر اضلاع اور تحاصیل صدر مقامات میں تمام طرح کی دکانیں ،کاروباری ادارے،بازار،بینک او رغیر سرکاری دفاتر بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا.سول لائنز کے لال چوک ،ریگل چوک ،کوکر بازار ،آبی گذر ،کورٹ روڈ ،بڈشاہ چوک ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ،مہاراجہ بازار ،بٹہ مالو اور دیگر اہم بازاروں میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہے اور ٹرانسپورٹ سروس معطل رہی.ہڑتال کی وجہ سے شہرمیں ہر قسم کی سرگر میاں متاثر رہی اور لوگوں نے زیادہ ترگھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے شہر میں خاموشی چھائی رہی . تجا رتی مرکز اور شہر کے دیگر سیول لائنز علاقوں میں اس صورتحا ل کا کافی اثر دیکھنے کو ملا.گاندربل سے نمائندہ ارشاد احمد کے مطابق شوپیان کی ہلاکتوں کے پورے ضلع گاندربل میں مکمل طور پر پر ہڑتال رہی.گاندربل،تولہ مولہ،صفاپورہ،کنگن سمیت دیگر علاقوں میں بھی دوکانیں،تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر معطل رہی تاہم نجی گاڑیاں چلتی رہی.اس دوران شوپیان چلو کے پیش نظر کئی مقامات پر پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی .بڈگام میں بھی مکمل ہڑتال سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی،جبکہ چاڈورہ،بیروہ،ماگام اور کنی پورہ میں بھی ہڑتال رہا.شوپیاں میں مکمل ہڑتال کے بیچ ہواور کشیدگی کا ماحول رہا.نامہ نگار شاہد ٹاک کے مطابق قصبہ کے علاوہ حساس مقامات پر فورسز اور پولیس اہلکاروں کی اضافی کمک کو تعینات کیا گیا تھا،اور انہیں کسی بھی طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہنے کی تاکید کی گئی تھی.نامہ نگار نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ضلع کے اخراجی اور داخلی راستوں پر فورسز کے پہرے بٹھا دئیے گئے تھے.اسلام آباد(اننت ناگ) سے نامہ نگار ملک عبدالاسلام نے بتایا ک ضلع کے بجبہاڑہ،آرونی،سنگم، کھنہ بل،دیلگام،مٹن،سیر ہمدان،کوکرناگ،وائل،سیر ہمدان،سنگم بجبہاڑہ،آرونی سمیت دیگر علاقوں میں مثالی ہڑتال دیکھنے کو ملی.ڈورو ،ویری ناگ ،قاضی گنڈ اورکوکر ناگ میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران تمام دکانیں بند رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک غائب رہا.اس دوران انتظامیہ نے قصبہ میں کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ کو روکنے کیلئے حساس مقامات پر فورسزکو تعینات کیا تھا .اس دوران کولگام میں بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے زندگی کی رفتار تھم گئی جبکہ پلوامہ کے کئی علاقوں میں بندشوں اور قدغنوں کے بیچ مکمل ہڑتال کی گئی.وسطی کشمیر میں بڈگام اور گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال کا سماں نظر آیا جس کے دوران معروف و مصروف بازار صحرائی منظر پیش کر رہے تھے.نامہ نگار عازم جان کے مطابق بانڈی پورہ ضلع میں ہڑتال .اس دوران حاجن میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی.بارہمولہ اور کپوارہ میں ہڑتال کی وجہ سے نظام زندگی پوری طرح سے مفلوج رہا جس کے دوران تمام کاروباری اور عوامی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئیں.نامہ نگار مشتاق الحسن کے مطابق قصبہ ٹنگمرگ، چندی لورہ، درورو ، ریرم ،کنزر ،دھوبی وان، ماگام ،بیروہ، کھاگ، نارہ بل میں مکمل ھر ٹال سے عام زندگی مفلوج ہوکے رہ گئی جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب رہا . نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق کپوارہ میں امکانی گڑ بڑ سے روکنے کیلئے بڑے پیمانے پر فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا،جبکہ سنگبازی سے نپٹنے کیلئے اوزار اور ساز سامان سے لیس ان اہلکاروں کو متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی تھی. اس دوران بانہال سے بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس کو تیسرے روز بھی معطل رکھا.ادھر جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیاں میں انٹر نیٹ مسلسل بند رہا.ادھر راجوری کی تمام مذہبی تنظیموں نے شوپیان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کو شرمناک بتاتے ہوئے ریاستی اور مرکزی سرکار پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیرکے دائمی حل کویقینی بنائیں تاکہ کشت وخون کا کھیل بند ہو. راجوری گجرمنڈی میں نوجوانوں نے احتجاجی دھرنا دیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا اس دھرنے میں حال ہی شوپیان میں فورسزکی طرف سے مہلوکین کے حق میں فاتحہ خوانی اور دعائیہ مجلس کا اہتمام کیا گیا جبکہ اس موقعہ پر تمام لوگوں نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر مختلف پیغامات بھی درج تھے . ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مذہبی تنظیموں کے رہنماوں نے بتایا کہ ماراماری کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ امن وامان کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ملک آپس میں بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کشمیرکا دائمی حل نکالیں تاکہ آئے روز کے خون خرابے سے عام لوگوں کو راحت مل پائے . انہوں نے بتایا کہ شوپیاں میں اپنی نوعیت کا دوسرا ایسا واقعہ ہے جس میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جونہایت ہی خطرناک بات ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں میں فورسزکے خلاف کافی غم وغصہ پایا جارہاہے . انہوں نے ریاستی سرکار اور عدلیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ عام شہری ہلاکتوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائیں تاکہ آئندہ اس طرح کے انسانیت سوز واقعات رونمانہ ہونے پائیں. انہوں نے مزید بتایا کہ عرصہ دراز سے سرحدیں گولہ باری سے گونج رہی ہیں جن کا براہ راست اثرسرحدی آبادی پر پڑرہا ہے جو معاشی اور مالی نقصانات کا باعث بنا ہواہے لیکن ریاستی اور مرکزی سرکار سرحدوں کے تناوکو کم کرنے میں ناکام ثابت ہورہی ہیں . انہوں نے بتایا کہ گولہ باری یاپھر گولی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتے ہیں اسلئے ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ عام لوگوں کے تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیرکا دائمی حل نکالیں تاکہ ریاست میں امن وامان قائم ہوسکے . وہیں احتجاجی مظاہرین نے شوپیان میں فورسزکی طرف سے عام شہری ہلاکتوں کی مجسٹریل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے .تاکہ متاثرہ کنبوں کو انصاف مل سکے .انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر وادی کے حالات پرتشدد رہے تو خطہ پیر پنجال بھی اس کی زد میں آسکتا ہے جس کی ذمہ داری ریاستی سرکار پر عائد ہوگی .کپوارہ// شوپیاں ہلاکتو ں کے خلاف کپوارہ بار ایسوسی ایشن نے احتجاج کرتے ہوئے عدالتو ں کا بائیکاٹ کیا .بار صدر ایڈوکیٹ غلام محمد شاہ کی سر براہی میں ایک تعزیتی میٹنگ منعقدہوئی جس میں جاں بحق کئے گئے شہریو ں کوخراج عقیدت پیش کیا گیا .بارایسوسی ایشن کپوارہ نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں ملو ث اہلکارو ں کو سزا دی جائے . بار ایسو سی ایشن نے کہا کہ عام شہریو ں کی ہلاکت کاکوئی جو از ہی نہیں .ایڈوکیٹ شاہ نے فوج کے بیان کو مسترد کیا اور مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی تحقیقات عمل میں لائی جائے اور قصور وارو ں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں .دریں اثناء ریاستی سرکار نے وادی میں مزید 2دنوں کیلئے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کشمیر میں سوموار سے باضابطہ طور پر اسکول کھلیں گے. سرمائی تعطیلات کے بعد وادی میں آٹھویں جماعت تک کیلئے 5مارچ کو اسکول کھلنے والے تھے،تاہم شوپیاں میں شہری ہلاکتوں کے بعد پیر کو ایک مرتبہ پھر اسکول بند رکھے گئے.اس دوران وزیر تعلیم سید الطاف بخاری نے بعد میں مخدوش صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے تعطیلات میں مزید2دنوں کا اضافہ کیا.اس دوران انتظامیہ نے وسطی کشمیر اور شمالی کشمیر میں مزید2دنوں جبکہ جنوبی کشمیر میں3دنوں تک تعطیلات میں مزید اضافہ کیا. ڈائریکٹر ایجوکیشن ڈاکٹر غلام نبی ایتو نے تعطیلات میں دو دنوں کا اضافہ کرنے کی تصدیق کی.میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ایتو نے کہا اسکول انتظامیہ نے فیصلہ لیا ہے کہ جنوبی کشمیر میں3دنوں جبکہ وسطی کشمیر اور شمالی کشمیر میں2دنوں کیلئے مزید اسکول اور تعلیمی ادارے بند رہے گے.انہوں نے کہا کہ سرینگر سمیت وسطی اور شمالی کشمیر میں سنیچر جبکہ جنوبی کشمیر میں پیر کے روز اسکول کھلیں گے.اس دوران بورڑآف اسکول ایجوکیشن نے تمام امتحانات کو فی الحال ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے اس حوالے سے نئی تاریخوں کا اعلان علیحدہ طور کیا جائے گا.
 

..