ہلاکتوں کیخلاف وادی کے طول و ارض میں ہمہ گیر ہڑتال،زندگی تھم گئی ، مین سٹریم،وکلا، تاجر اور صنعت کار سراپا احتجاج - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ہلاکتوں کیخلاف وادی کے طول و ارض میں ہمہ گیر ہڑتال،زندگی تھم گئی ، مین سٹریم،وکلا، تاجر اور صنعت کار سراپا احتجاج


یاسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق کے بعد انجینئر رشید بھی ساتھیوں سمیت گرفتار،حریت قیادت بدستور نظر بند ،وادی کے شرق وغرب میں مکمل پہیہ جام،انٹر نیٹ اور ریل سروس بدستور معطل، پائین شہر میں دوسرے روز بھی بندشیں، دکانیں ،کاروباری ادارے،بازار،بینک او رغیر سرکاری دفاترسمیت تعلیمی ادارے بند رہے،بار ایسوسی ایشن کا احتجاجی مظاہرہ،پلوامہ میں گرینیڈ دھماکہ، سی آر پی ایف اہلکار زخمی،رینزی پورہ پنجگام میں ہوائی فائرنگ،کوئی نقصان نہیں ہوا
سرینگر(اے این این ) ہلاکتوں پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال کے پیش نظر وادی کے شرق و غرب میں دوسرے روز بھی مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال سے زندگی کی رفتار تھم گئی.پائین شہر کے حساس علاقوں میں بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا.

ضرور پڑھیں: ن لیگ اور پی پی میں اختلافات بڑھ گئے،اپوزیشن لیڈر شیری رحمن کو ہٹانے کیلئے راجہ ظفر الحق نے سینیٹ میں درخواست جمع کرادی

اس دوران وادی میں دوسرے روز بھی ریل سروس بند رہی،جبکہ بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کو منقطع رکھا گیا.گزشتہ روز مشترکہ مزاحمتی قیادت نے مکمل ہڑتال اور سیکریٹریٹ کا رخ کرنے کی کال کا اعلان کیا تھا. ہڑتال سے کاروباری اداروں کے علاوہ تجارتی مراکز مقفل رہی وہیں مسافربردار گاڑیوں کے پہیہ بھی جام رہے،اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بند رہی.ہمہ گیر ہڑتال کال سے سرینگر سمیت تمام ضلاع اور تحاصیل صدر مقامات میں تمام طرح کی دکانیں ،کاروباری ادارے،بازار،بینک او رغیر سرکاری دفاترسمیت تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا. شوپیان ہلاکتوں سے پورے ضلع گاندربل میں مکمل طور پر ہڑتال رہی.گاندربل،تولہ مولہ،صفاپورہ،کنگن سمیت دیگر علاقوں میں بھی دوکانیں،تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر معطل رہی تاہم نجی گاڑیاں چلتی رہی.منی گام،وتہ لار، گنگر ہامہ اور فتح پورہ میں احتجاج کیا گیا.وتہ لار اور فتح پورہ میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جہاں پولیس پر پتھراو کیا گیا ،جوابا پولیس نے آنسو گیس اور مرچی گیس کی شلنگ کی.ادھر چھندنہ گاندربل میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع بٹ کے گھر پر تعزیت پرسی کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا . پروفیسر کو اتوار کی شام ہی سپرد خاک کیا گیا تھا جس میں ہزاروں لوگ شریک تھے. کنگن ،گنڈ ،کلن میں کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر مسافر بردار گاڑیوں کی آمد رفت بھی معطل رہی .بڈگام میں بھی مکمل ہڑتال سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی،جبکہ چاڈورہ،بیروہ،ماگام اور کنی پورہ میں بھی ہڑتال رہا.شوپیاں میں مکمل ہڑتال کے بیچ کشیدگی کا ماحول رہا.حساس مقامات پر فورسز اور پولیس اہلکاروں کی اضافی کمک کو تعینات کیا گیا تھا،اور انہیں کسی بھی طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہنے کی تاکید کی گئی تھی.اس دوران قصبے کے کئی مقامات پر مظاہرین اور فورسز کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں.اننت ناگ نے بتایا کہ ضلع کے بجبہاڑہ،آرونی،سنگم، کھنہ بل،دیلگام،مٹن،سیر ہمدان،کوکر ناگ،وائل،سنگم بجبہاڑہ،آرونی سمیت دیگر علاقوں میں مثالی ہڑتال دیکھنے کو ملی.ضلع کے ڈورو ،دیالگام،کوکر ناگ،ویری ناگ اور قاضی گنڈ میں بھی مکمل ہڑتال رہی ،جس دوران سڑکوں پر سناٹا چھایا ہوا تھا .ادھر ضلع پلوامہ میں بھی حساس مقامات پر اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا،اور انہیں متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی تھی. پلوامہ، نیوہ، کاکہ پورہ، پانپور،قوئل، رتنی پورہ،مورن،ہال، کیگام،ملنگ پورہ،اونتی پورہ،چکورہ، ترال، ڈاڈسرہ اور دیگر مقامات پر مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہی.پلوامہ اور شوپیان اضلاع میں کہیں سائیکل والا بھی نظر نہیں آرہا تھا.کولگام ضلع میں مکمل ہڑتال کے دوران ہر قسم کی آمد و رفت بند رہی. بانڈی پورہ ضلع میں ہڑتال رہی. حاجن میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی.بارہمولہ اور کپوارہ میں ہڑتال کی وجہ سے نظام زندگی پوری طرح سے مفلوج رہا جس کے دوران تمام کاروباری اور عوامی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئیں. اجس نائندکھے سمبل وٹہ پورہ اشٹنگو ودیگر مقامات پر مکمل ہڑتال رہی ہے. کپوارہ میں مکمل ہڑتال سے زندگی پٹری سے نیچے اتر گئی. امکانی گڑ بڑ سے روکنے کیلئے بڑے پیمانے پر فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا. ٹنگمرگ، چندی لورہ، درورو ، ریرم ،کنزر ،دھوبی وان، ماگام ،بیروہ، کھاگ، نارہ بل میں مکمل ٹال سے عام زندگی مفلوج ہوکے رہ گئی جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب رہا .بارہمولہ اور سوپور میں بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی.حساس علاقوں میں اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھاشوپیان میں پانچ شہریوں اور پانچ جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے خلاف جموں سرینگر شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال سمیت دیگر کئی علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے معمولات کی زندگی متاثر ہوکر رہ گئی. ہڑتال کی وجہ سے دکانیں ، کاروباری ادارے ، سکول اور ٹرانسپورٹ بند رہا اور معمول کی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئیں. شہرخاص میں حساس پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دوسرے روز بھی مکمل اورجزوی پابندیاں عائدکی گئیں .مہاراج بازار،خانیار،نوہٹہ،صفاکدل،رعناواری تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت بندشیں جبکہ کرالہ کھڈ اور مائسمہ تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جزوی طور پر بندشیں عائد کی گئی تھی.تمام بندش زدہ علاقوں میں عام لوگوں کی نقل وحمل پرپابندی عائدرہیں.مقامی لوگوں نے بتایاکہ سخت بندشوں کے چلتے تاریخی جامع مسجدکے اطراف واکناف میں سخت سیکورٹی حصاربنایاگیاتھا،اوراس جامع مسجدکی جانب جانے والے سبھی راستے اورگلی کوچے سیل رکھے گئے تھے . انتظامیہ نے وادی کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر ریل خدمات کو کلی جبکہ موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو جزوی طور پر معطل کرکے رکھ دیا ہے.وادی میں شہری ہلاکتوں کے خلاف تاجروں اور صنعت کاروں نے بھی احتجاج درج کیا،جس کے دوران کشمیر اکنامک الائنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہاں سمیت درجنوں تاجروں کو پولیس نے حراست میں لیا. مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے سیکریٹریٹ کے باہر دھرنا دینے کی کال کے پیش نظرکشمیر اکنامک الائنس اور کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کی طرف سے پیر کو احتجاج کیا گیا.احتجاجی تاجر آبی گزر میں جمع ہوئے اور سیکریٹریٹ کی طرف رخ کرنے کی کوشش کی.مظاہرین نے ریاستی دہشت گردی کو بند کرو،وادی میں قتل عام بند کرو کی نعرہ بازی کرتے ہوئے ریذیڈنسی روڑ پر آنے کی کوشش کی.لیکن پولیس نے انکی کوشش ناکام بنا دی اورمحمد یاسین خان کو دیگر7ساتھیوں سمیت حراست میں لیکر کوٹھی باغ تھانہ میں مقید کیا.اس سے قبل محمد یاسین خان نے بتایا کہ سرکار اقوام عالم کو یہ کہہ کر بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ بے روزگاری اور نوجوانوں کو مواقع کی عدم دستیابی کا نتیجہ ہے.انہوں نے کہا کہ تاہم یہ پروپگنڈا ہے،جو کہ اب غلط ثابت ہو رہا ہے.خان نے بتایا کہ سڑکوں پر ہمارے آنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ دنیا کو کشمیر میں ہورہیظلم کے بارے میں آگاہ کیا جائے. کشمیر اکنامک الائنس کے ایک اور دھڑے نے بھی شہر میں احتجاجی مظاہرہ برآمد کرتے ہوئے ہلاکتوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا. شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار کی قیادت میں تاجر،صنعت کار،دکاندار،ٹھیکیدار اور دیگر لوگ آبی گزر میں جمع ہوئے اور سیکریٹریٹ کی جانب پیش قدمی کرنے لگے.احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے،جن پر شہری ہلاکتوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا. تاہم احتجاجی تاجروں کو ریذیڈنسی روڑ پر پولیس اہلکاروں نے حراست میں لیا جن میں فاروق احمد ڈار،کشمیر ٹریڈرس فیڈریشن کے ترجمان اعلی اعجاز شہدار اور حاجی نثار سمیت نصف درجن مظاہرین کو حراست میں لیکر کوٹھی باغ تھانہ پہنچایا.اس سے قبل فاروق احمد ڈار نے بتایا کہ ہر گزرتے دن کشمیر میں ہلاکتوں کے گراف میں اضافہ ہو رہا ہے.انہوں نے کہا کہ وادی کو انسانی لہو میں غلطاں کیا جا رہا ہے،جس کی مزید اجازت نہیں دی جائے گی.کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے جھنڈے تلے قبل از دوپہر سرینگر کی پریس کالونی میں درجنوں صنعت کار نمودار ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی.احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے. احتجاجی صنعت کاروں کوپولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی.مظاہرین نے اس موقعہ پر مزاحمت کرنے کی کوشش کی،تاہم بعد میں وہ منتشر ہوئے.اس موقعہ پر کشمیر چیمبر آف کامرس انڈسٹریز کے صدر جاوید احمد ٹینگہ نے ہلاکتوں پر روک لگانے کا مطالبہ کیا.انہوں نے کہا کہ سرکار ایسے اقدامات اٹھائے،جن سے فوری طور پر انسانی لہو بہنے کا سلسلہ بند ہوجائے.دریں اثناء پولیس نے انجینئر رشید کی سیکریٹریٹ گھیراؤ کی کوشش کے دوران کئی کارکنوں کو گرفتار کیا.انجینئر رشید کی قیادت میں عوامی اتحاد پارٹی کے کارکنوں نے مگر مل باغ سے سیکریٹریٹ کی جانب پیش قدمی کی،تاہم سیکریٹریٹ کے نزدیک پہنچتے ہی پولیس نے انکی کوشش ناکام بناتے ہوئے انجینئر رشید سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا.اس موقعہ پر طرفین میں سخت مزاحمت بھی ہوئی.اس سے قبل انجینئر رشید نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نئی دلی نے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے اور کہا کہ وہ ا ب کشمیر کو اپنا تاج اور کشمیریوں کو اپنے لوگ ماننے کا اخلاقی حق کھو چکی ہے . جب تک نہ نئی دلی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے گی اور استصواب رائے کرائے گی تب تک کشمیر میں گرنے والے خون کے ہر قطرے کی ذمہ داری براہ راست نئی دلی پر عائد ہوگی چاہے مرنے یا مارنے والا کوئی بھی کیوں نہ ہو .انہوں نے کہا کہ نئی دلی کو چاہئے کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف تمام آپریشن فوری طور بند کرے اور مسئلہ کشمیر کی اصلیت کو مان کر مذاکرات کی میز پر آئے .انجینئر رشید نے وزیر اعلی محبوبہ مفتی سے کہا وہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ آیا دلی کی فرمابردار بن کر کشمیریوں کی نسل کشی کو جواز فراہم کرنا چاہتی ہے یا پھر اپنے ضمیر سے پوچھ کر مار دھاڑ کا کھیل بند کراکے جموں کشمیر کے سیاسی تنازعہ کے حل کیلئے اپنا رول نبھانا چاہتی ہے .اس سے پہلے یاسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا جبکہ سید علی گیلانی اور اشرف صحرائی سمیت چوٹی کی حریت قیادت گھروں میں نظر بند ہے .دریں اثناء شہری ہلاکتوں کے خلاف وکلا نے بھی صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مارچ کیا، تاہم پولیس نے انکی سیکریٹریٹ تک جانے کی کوشش ناکام بنادی. ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے بینر تلے وکلا نے پیر کو ہلاکتوں کے خلاف مارچ کیا. وکلا نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے جن پر حق خود ارادیت کشمیریوں کا بنیادی حق ہے،اور اقوام متحدہ اس کو عملائے کی تحاریر درج کی گئی تھیں.احتجاجی وکلا میں بار صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کے علاوہ جنرل سیکریٹری جی این شاہین،سابق صدر ایڈوکیٹ نذیر احمد رونگہ اور دیگر وکلا شامل تھے،تاہم وکلا نے جب سیکریٹریٹ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی،تو پولیس نیانہیں روکا. اس موقعہ پر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم نے ہلاکتوں کی مذمت کی. انہوں نے کشمیر کی موجودہ صورتحال اور خون ریزی پر بھارت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہو رہی ہے.ادھر پلوامہ کے مین چوک میں فورسز پر گرینیڈ پھینکا گیا جس سے ایک اہلکار زخمی ہوا. ادھر پنجگام وڈر میں فورسز نے محاصرہ سے قبل ہوا میں کچھ راؤنڈ فائر کئے.معلوم ہوا ہے کہ بعد دوپہر قریب 4بجے ٹہاب چوک پلوامہ میں شہید پارک کے نزدیک فورسز کی ایک گاڑی کو نشانہ بنانے کی غرض سے مشتبہ جنگجوؤں نے گرینڈ پھینکا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں سی آر پی ایف کا ایک اہلکار زخمی ہوا.ادھر رینزی پورہ وڈر میں پنجگام گاؤں کے نزدیک فورسز نے محاصرہ سے قبل ہوا میں چند گولیاں فائر کیں جس سے آس پاس کے علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا.تاہم بعد میں فورسز نے محاصرہ نہیں کیا.
 

..

ضرور پڑھیں: عمران خان کے آنسوؤں نے کئی لوگوں کو آبدیدہ کر دیا