”کوہاٹ کی میڈیکل طالبہ عاصمہ رانی قتل نہیں ہوئی بلکہ رسم ’غگ‘ کا نشانہ بنی جس کے تحت۔۔۔“تہلکہ خیز دعویٰ منظرعام پر
Can't connect right now! retry

”کوہاٹ کی میڈیکل طالبہ عاصمہ رانی قتل نہیں ہوئی بلکہ رسم ’غگ‘ کا نشانہ بنی جس کے تحت۔۔۔“تہلکہ خیز دعویٰ منظرعام پر

کوہاٹ (قدرت روزنامہ)کوہاٹ میں میڈیکل طالبہ کے قتل کے کیس میں نیاموڑآگیا ہے اور نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کو قتل نہیں کیاگیابلکہ وہ قبائلی رسم ’غگ‘ کا نشانہ بنی جس کے تحت کوئی بھی لڑکا لڑکی کے گھر کے باہر چار فائر کرتا ہے اور لڑکی سے شادی کا دعویدار بن جاتا ہے اور پھر کوئی اور مرداس لڑکی سے شادی نہیں کرسکتاتاہم آر پی او کوہاٹ نے کہاہے کہ عاصمہ کا قتل غگ جیسا ہے لیکن غگ نہیں . 

جیونیوز کے مطابق حکومت کے انکار کے باوجود غگ کی رسم تاحال موجود ہے ، اس رسم کے تحت کوئی بھی لڑکا لڑکی کے گھر کے سامنے جا کر چار فائرکرتاہے جس کے بعد لڑکی پر اس لڑکے کا دعویٰ ہوجاتا ہے ،اس دعوے کے بعد دشمنی کے ڈر سے کوئی دوسرا مرد بھی لڑکی سے شادی نہیں کرتا اور اگر دعویدار لڑکا خود شادی سے انکار بھی کردے تو وہ لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی رہتی ہیں اور خیبرپختونخوا و فاٹا میں ایسی لاتعداد خواتین موجود ہیں .

..