توہین عدالت مقدمات  ،سپریم کورٹ نے نواز ،شہباز،بے نظیر،مشرف، گیلانی سمیت کئی کیخلاف درخواستیں نمٹا دیں  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

 توہین عدالت مقدمات  ،سپریم کورٹ نے نواز ،شہباز،بے نظیر،مشرف، گیلانی سمیت کئی کیخلاف درخواستیں نمٹا دیں 


 سعد رفیق ،دانیال عزیز،طلال چوہدری ، کیپٹن (ر) صفدر ،نیئر بخاری اور فردوس عاشق اعوان کیخلاف دائر درخواستیں بھی غیر موثر قرار،درخواستیں عمران خان ،جماعت اسلامی،پاکستان لائرز فورم،محمود اختر نقوی،اقبال حید اورشاہد اورکزئی کی طرف سے دائر کی گئی تھیں  نواز شریف کے   جو بیاناتبتائے جا رہے ہیں وہ  پاناما جے آئی ٹی سے متعلق ہیں، عدالتوں سے متعلق جو ریمارکس اب دیئے جارہے ہیں، وہ ہمیں مل رہے ہیں اور مناسب وقت پر ان ریمارکس سے متعلق کیس سنیں گے، عمران خا ن کا معاملہ  الگ کر کے دیکھیں گے،سینیٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتے ،چیف جسٹس کے ریمارکس 

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سپریم کورٹ نے سابق وزرائے اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی، بینظیر بھٹو، سابق صدر پرویز مشرف اور وزیراعلی پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عدالتوں سے متعلق جو بیانات اب دیئے جارہے ہیں، ان پر مناسب وقت پر سماعت کریں گے.منگل کو مختلف سیاسی رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی. سماعت کے دوران درخواست گزار محمود اختر نقوی نے موقف اختیارکیا تھا کہ معززعدالت کا فیصلہ آیا تو نوازشریف جلوس کی شکل میں روانہ ہوا، ہر جگہ نوازشریف عدالت کے فیصلے پرتقریرکرتے رہے، کہا گیا ہے یہ احتساب نہیں مذاق ہے، نوازشریف نے جے آئی ٹی پرتنقید کی.اس پر چیف جسٹس نے درخواست نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جو بیانات آپ بتارہے ہیں وہ  پاناما جے آئی ٹی سے متعلق ہیں، عدالتوں سے متعلق جو ریمارکس اب دیئے جارہے ہیں، وہ ہمیں مل رہے ہیں اور مناسب وقت پر ان ریمارکس سے متعلق کیس سنیں گے'.عدالت عظمی نے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے متعلق محمود اختر نقوی کی درخواستیں بھی نمٹادیں.اس موقع پر شہباز شریف کے خلاف درخواست دائر کرنے والے گزار محمود نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلی پنجاب نے بیان دیا کہ ملک میں ججز اور جرنیلوں نے انصاف نہیں کیا.جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ بات تو سچ ہے، اس ملک کے ساتھ کسی نے انصاف نہیں کیا، ہم نے حقیقی معنوں میں اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں، اگر ذمہ داریاں ادا کی جاتیں تو آج حالات یہ نہ ہوتے.بعد ازاں عدالت نے نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں غیر موثر ہونے پر نمٹا دیں.سپریم کورٹ میں سابق صدر جنرل(ن) پرویز مشرف کے 2 عہدوں کے خلاف درخواست بھی غیر موثر قرار دے کر نمٹا دی گئی.سابق صدر پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے کے خلاف نظر ثانی درخواستیں جماعت اسلامی، عمران خان اور پاکستان لائرز فورم کی جانب سے 2007 میں دائر کی گئی تھیں.علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو، یوسف رضا گیلانی، سابق چیئرمین سینیٹ نیر بخاری اور فردوس عاشق کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں بھی غیر موثر قرار دے کر نمٹادیں. سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف توہین عدالت کی درخواست 1997 میں سید اقبال حیدر کی جانب سے دائر کی گئی تھی .سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بینظیر بھٹو فوت ہوچکی ہیں جبکہ درخواست گزار سید اقبال حیدر کا بھی انتقال ہوچکا ہے، جس پر عدالت نے درخواست کے غیر موثر ہونے پر اسے نمٹا دیا. سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں شاہد اورکزئی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں. سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت بھی ہوئی، جس میں چیف جسٹس نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کہاں ہیں ان کی درخواست زائد المعیاد ہے، جس پر عدالت نے عدم پیروی پر درخواست خارج کردی.عدالت نے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کیخلاف دائر درخواست بھی نمٹا دی .عدالت نے خواجہ سعد رفیق کے خلاف محمود اختر نقوی کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بظاہر توہین عدالت کی کوئی بات نہیں نظر آ رہی ، عدلیہ کو غیرجانبدار ہونا چاہیے جن معاملات پر نوٹس لینا تھا لے چکے ہیں.سماعت کے دوران درخواست گزار محمود اختر نے بتایا کہ عبدالرحمن ملک کو 2012 سے 2015 تک لی گئی مراعات واپس دینے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوا اور وہ ڈیفالٹر ہیں. درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ رحمان ملک کو دہری شہریت کیس میں تنخواہیں اور مراعات واپس کرنا تھی جو انہوں نے واپس نہیں کیں.اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سابق وزیر داخلہ کے خلاف سنگین نوعیت کی عدالتی آبزرویشن موجود ہے جبکہ انہوں نے بطور سینیٹر مانیٹر فنڈز واپس نہیں کیے اور ان فنڈز کی واپسی کے لیے الیکشن کمیشن اور سینیٹ نے کوئی کارروائی بھی نہیں کی، بعد ازاں عدالت نے عبدالرحمن ملک کو نوٹس جاری کردیا.اس موقع پر عدالت میں موجود سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل حشمت حبیب نے کہا عمران خان نے بھی توہین عدالت کی اس کیس کو چلانا چاہتے ہیں یہ مقدمہ 2014سے زیر التوا ہے .جس پر  چیف جسٹس نے کہا کہ اب نئی توہین عدالت کو دیکھ رہے ہیں، جس پر حشمت حبیب نے کہا کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کا کیس چلانا چاہتا ہوں، جس پرعدالت نے ریمارکس دیے کہ ٹھیک ہے ہم مقدمے کی کوئی تاریخ فکس کردیتے ہیں. چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس معاملے کو تمام درخواستوں سے الگ کر کے مقرر کریں گے. چیف جسٹس نے سابق چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے کہا سینیٹ کی اندرونی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتے.اس کے علاوہ سپریم کورٹ میں مسلم لیگ(ن)  کے رہنماں، وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور امیر مقام کے خلاف بھی توہین عدالت کیسز کی سماعت ہوئی.سماعت کے دوران چیف جسٹس اور درخواست گزار کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا.سماعت کے دوران درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ تقریر میں کہا گیا کہ بھٹو کی پھانسی جائز تھی اور عدلیہ کو گاڈ فادر کہا گیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ یہ توہین عدالت ہے.جس پر درخواست گزار نے کہا کہ تقریر میں کہا گیا کہ عدلیہ کو غیر جانبدار ہونا چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ بات بالکل درست ہے، عدلیہ کو غیر جانبدار ہونا چاہیے.درخواست گزار نے کہا کہ مسلم لیگ(ن)  کے رہنما نہال ہاشمی نے بھی توہین عدالت کی.جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نہال ہاشمی کے خلاف ہم نے دوسرا توہین عدالت کا نوٹس لے لیا ہے وہ بیچارہ پہلے ہی پھنسا ہوا ہے، جس پر درخواست گزار نے کہا کہ مجھے بھی نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کیس میں فریق بنائیں تاہم عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی خدائی خدمت کا وقت گزر چکا ہے.خیال رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما نہال ہاشمی کو دھمکی آمیز تقریر اور توہینِ عدالت کیس میں ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد انہوں نے اڈیالہ جیل میں قید گزاری تھی.بعد ازاں 28 فروری کو نہال ہاشمی کو ایک ماہ کی قید کی سزا کے بعد اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر عدلیہ اور ججز کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی، جس پر عدالت نے دوبارہ نوٹس لیا تھا.جس کے عدالت نے نہال ہاشمی کو طلب کیا تھا جبکہ ان کی جانب سے جمع کرایا گیا تحریری جواب مسترد کردیا تھا جس کے بعد نہال ہاشمی پر 26 مارچ کو ایک مرتبہ پھر توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے.

..

مزید خبریں :