قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے سینیٹ انتخابات پر تحفظات کا اظہار کردیا - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے سینیٹ انتخابات پر تحفظات کا اظہار کردیا


سینیٹ انتخابات میں جمہوری لوگوں نے جمہوریت کا جنازہ نکالا، سینٹ ہائوس آف فیڈریشن اسکے الیکشن میں  زر اور زور کا استعمال ہوگا تو پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گی، جس طرح کا سینیٹ لایا گیا ہے اسی طرح کی قومی اسمبلی بھی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، سینٹ الیکشن  میں پاکستان کی بربادی کی بنیاد رکھ دی گئی، سینٹ  الیکشن غلیظ اور غیر شفاف طریقے سے ہوا،تمام اداروں کا گرینڈ جرگہ ہونا چاہیے،پاکستان میں اداروں کے درمیان ٹکرائوہے،مسلم لیگ جب ہارتی ہے تو اسے ہارس ٹریڈنگ اور جمہوریت  یاد آ جاتی ہے، ایسا قانون بنایا جائے کہ جو رکن اپنا ووٹ بیچے گا اسے مینار پاکستان پر سرعام پھانسی دی جائے،حکومت اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنے اراکین کو عزت دینا سیکھے، بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) نے اپنے ارکان کو بھیڑ بکریاں سمجھا
قومی اسمبلی میںصاحبزادہ طارق اللہ،محمود خان، نوید قمر،نعیمہ کشور،شیریں مزاری،و دیگرکا نکتہ اعتراض پر اظہار خیال
اسلام آباد (آئی این پی)قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے سینیٹ انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہسینیٹ انتخابات میں جمہوری لوگوں نے جمہوریت کا جنازہ نکالا، سینٹ ہائوس آف فیڈریشن ، اسکے الیکشن میں  زر اور زور کا استعمال ہوگا تو پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گی، جس طرح کا سینیٹ لایا گیا ہے اسی طرح کی قومی اسمبلی بھی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے،جس انداز میں سینٹ الیکشن ہوئے ہیں یہ پاکستان کی بربادی کی بنیاد رکھ دی گئی، سینٹ کا اس دفعہ کا الیکشن غلیظ اور غیر شفاف طریقے سے ہوا،تمام اداروں کا گرینڈ جرگہ ہونا چاہیے،پاکستان میں اداروں کے درمیان ٹکرائو خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے،مسلم لیگ جب ہارتی ہے تو اسے ہارس ٹریڈنگ اور جمہوریت  یاد آ جاتی ہے، ایسا قانون بنایا جائے  کہ جو رکن اپنا ووٹ بیچے گا اسے مینار پاکستان پر سرعام پھانسی دی جائے،حکومت اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنے اراکین کو عزت دینا سیکھے، بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) نے اپنے ارکان کو بھیڑ بکریاں سمجھا. ان خیالات کا اظہارصاحبزادہ طارق اللہ،محمود خان اچکزائی،سید نوید قمر،نعیمہ کشور،شیریں مزاری،افتخارالدین و دیگر نے  قومی اسمبلی میں    نکتہ اعتراض پر کیا. نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں انتہائی اہم مسئلے پر اپنی آئینی ڈیوٹی پوری کرنے کھڑا ہوا ہوں نہ میں پاگل ہوں نہ میں زندگی سے بیزار ہوں. تین قسم  کے لوگ  آئین کے تحفظ کی قسم کھاتے ہیں' فوجی' ججز اور پارلیمنٹرینز، آئین سے کھیلا جارہا ہے. انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن  ہے جس میں سب اپنی مرضی سے شامل ہوئے ہیں . سینٹ ہائوس آف فیڈریشن ہے اگر اس کے الیکشن میں  زر اور زور کا استعمال ہوگا تو پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گے. بلوچستان میں سینیٹ  الیکشن ہورہے تھے تو میں نے کہا تھا کہ وہاں ایک فوجی افسر مداخلت کررہا ہے وہ لوگوں کو ڈرا رہا ہے. یہ آئین کی خلاف ورزی ہے میں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ کمیٹی بنا کر ان الزامات کی تحقیقات کرائی جائیں میں غلط ہوں تو مجھے سزا دیں. محمود اچکزئی  نے کہا کہ جس انداز میں سینٹ الیکشن ہوئے ہیں یہ پاکستان کی بربادی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے.  جب نواز شریف کو نکالا گیا تو میں نے کہا کہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی شروع ہوگئی ہے. اس کی پہلی جنگ ہم ہار چکے ہیں اگر ووٹ بیچنا جرم نہیں تو صادق اور جعفر کو بھی معاف کردو. انہوں نے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ جو لوگ آئین کی مخالفت کرے اس کے خلاف بغاوت کی جائے

ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم گلی کوچوں کا رخ اختیار کریں. محمود اچکزئی نے کہا کہ دو پارٹیاں جو ایک دوسرے کی مخالف تھیں ان کو نزدیک لانے کے لئے میاں رضا ربانی کی قربانی دی گئی ہے میں تمام جمہوری قوتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمارے اتحاد کا وقت ہوگیا ہے جو جرنیل ' بیوروکریٹ اور سیاستدان آئین کی قدر نہیں کرتے ہیں اسے پاکستان کا دوست نہیں سمجھتا ،دنیا میں کہیں ایسا نہیں کہ ضمیر بیچنے والے کو محب وطن کہا جائے میں نے اپنے ضمیر نہیں بیچا.  مجھے مارنے والے مجھے مارنا چاہیں تو میں تیار ہوں میری موت پاکستان پر حملہ ہوگا.  پیپلز پارٹی کے رکن نوید قمر نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں جنہوں نے حکومت کے خلاف مل کر امیدوار کھڑا کیا تو کسی صورت نہیں کہہ سکتے  کہ یہ آئین و قانون کے خلاف ہے اگر حکومت پہلے دن سے پارلیمنٹ کو وہ درجہ دیتی جو کہ دینا چاہئے تھا تو شاید ہم  یہ دن نہیں دیکھتے جب وقت آتا ہے تو ہم جمہوری بھی ہوجاتے ہیں' جب وقت نکل جاتا ہے تو  ہم فرعون بن جاتے ہیں. انہوں نے  کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں رضا ربانی کا دور مثالی دور تھا لیکن آخری دنوں میں  آکے ان کو رضا ربانی کی اچھائیاں بھی نظر آئی ہیں تو اس طرح سے نہیں ہوسکتا. اگر بلوچستان کے ممبران کو اپنے وزیراعلیٰ سے گلے تھے تو اس کو حل کرنے کے لئے کیا گیا؟.  جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی صاحبزادہ طارق اﷲ نے کہا کہ سینٹ کا اس دفعہ کا الیکشن  غیر شفاف طریقے سے ہوا. ٹی وی پر ہم سن رہے ہیں کہ بھیڑ بکریوں کا میلہ لگا ہوا تھا. خوش قسمتی ہے کہ شیڈول کے مطابق الیکشن ہوا خیبرپختونخوا میں ایک پارٹی کے پانچ ارکان ہوتے  ہیں ان کے دو سینیٹر کامیاب ہوئے لیکن ایک پارٹی کے پاس پندرہ ارکان ہوتے ہیں اور ان کا ایک سینیٹر کامیاب ہوتا ہے یہ کیا ہوا.   خیبرپختونخوا میں جو ہوا اس کی مذمت کرتے ہیں سب سے حلف لیا جائے کہ  اس نے پیسے لئے ہیں کہ نہیں اور سب سے  یہ حلف لیا جائے کہ ہم نے پارٹی کو پیسے دیئے ہیں یا نہیں یہی حالات رہے تو اس پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی. مسلم لیگ (ن) کے رکن  اسمبلی  رمیش کمار نے کہا کہ ایک مہینے سے سینٹ الیکشن کا عمل چلا ہے سوشل میڈیا اور میڈیا پر جو باتیں چلتی رہیں یہ چیزیں کیوں ہورہی ہیں ہمیں اداروں کو بٹھا کر جرگہ کرنا چاہئے کہ پارلیمنٹ کی  جو توقیر ہونی چاہئے وہ کیوں نہیں ہورہی.  براہ راست الیکٹورل سسٹم کے ذریعے سینٹ بنتی تو جو  ہوا وہ نہیں ہوتا. ہم کیوں براہ راست الیکشن پر نہیں گئے یہ جو چیزیں متنازعہ ہورہی ہیں یہ ہمارے حالات کو بہت پیچھے دھکیل دیں گے. تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری نے کہا کہ کل وزیراعظم کے بیٹے نے ہمارے ایم این اے پر حملہ کیا یہ غلط ہوا ہے ان کا استحقاق مجروح ہوا ہے اس کی مذمت اور تحقیقات کرنی چاہئے  ہم نئے چیئرمین سینٹ کو منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہیں .(ن) لیگ اگر ہار گئی تو گالی گلوچ کرنا قابل قبول نہیں.رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ  جب سینیٹ چیئرمین  کے انتخاب کا نتیجہ آیا  تو  حامد الحق نے نعرہ لگایا  اور وہ اپنا توازن  برقرار نہیں رکھ سکے  اور دوسرے آدمی پر گر گئے ، پیپلز پارٹی کی رکن عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ  ہم صادق سنجرانی  اور سلیم مانڈوی والا  کو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے پر مبارکبا د دیتے ہیں ، خواجہ آصف  اور نواز شریف کے ساتھ ہونے والے واقعات بھی قابل مذمت ہیں کل کو یہ کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں.رکن افتخار الدین نے کہا ہے کہ گزشتہ 23سالوں میں ترکی میں 19سیاسی جماعتوں کی  پابندی لگائی گئی، موجودہ ترک صدر اردگان نے بھی سات ماہ تک جیل کاٹی، ترک عوام نے مارشل لاء کی کوشش کو ناکام بنایا جس کے بعد ترکی میں جمہوریت پروان چڑھی، جس سے ترکی کی معاشی حالت بہتر ہوئی اور عالمی سطح پر ترکی کا وقار بلند ہوا. انہوں نے کہا کہ حالیہ عدالتوں کے فیصلوں سے جو ملکی حالات پر اثر پڑا ہے وہ سب کے سامنے ہے، سینیٹ انتخابات میں بھیڑ بکریوں کی طرح ارکان کو خریدا گیا،پاکستان میں اداروں کے درمیان ٹکرائو خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جس طرح کا سینیٹ لایا گیا ہے اسی طرح کی قومی اسمبلی بھی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہمیں بتایا جائے کہ چیئرمین سینیٹ کس کے ایجنڈے پر چلے گا، انہوں نے تجویز دی کہ عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی  حاصل کردہ نشستوں کی بنیاد پر سینیٹ نشستیں مختص کی جائیں، اداروں کے ٹکرائو کو ختم نہ کیا گیا تو اس ملک کا بیڑہ غرق ہو جائے گا. تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف نے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں سینیٹ میں الیکشن کا طریقہ کار بدلنے کا کہا لیکن کسی نے بھی ہماری بات نہیں سنی، خیبرپختونخوا کے ارکان بکے تو عمران خان نے کہا کہ ہم بکنے والے ارکان کو عبرت کا نشانہ بنائیں گے  جب فاٹا کے ارکان کووزیراعظم اور مریم نواز نے فون کیا اس وقت کسی کو ہارس ٹریڈنگ کا خیال نہیں آیا، بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے ان کو ووٹ نہیں دیا،مسلم لیگ جب ہارتی ہے تو اسے ہارس ٹریڈنگ یاد آ جاتی ہے،شکر ہے کہ آپ کو اب احساس ہوا ہے تو آئیں ایسا قانون بنائیں کہ وہ رکن جو اپنا ووٹ بیچے گا اسے مینار پاکستان پر سرعام پھانسی دے دی جائے مگر آپ ایسا نہیں کریں گے. انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینیٹ انتخابات کا طریقہ کار  بدلنے اور ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے آزادانہ کمیشن قائم کیا جائے. جمعیت علماء اسلام (ف) کی نعیمہ کشور نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں جمہوری لوگوں نے جمہوریت کا جنازہ نکالا ، انتخابی اصلاحات کمیٹی میں تمام جماعتوں نے الیکشن کمیشن کو مضبوط بنایا مگر آج الیکشن کمیشن سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ پر سیاسی جماعتوں سے ثبوت مانگ رہا ہے، الیکشن کمیشن ہارس ٹریڈنگ پر سخت ایکشن لے. انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں سینیٹرز کی دوہری شہریت پر تو نوٹس لے لیا جاتا ہے مگر ہارس ٹریڈنگ پر عدالتیں خاموش رہتی ہیں. پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہا کہ ایوان میں سینیٹ اور الیکشن کے حوالے سے بہت باتیں ہوئیں میں جمہوری کارکن کو مبارکباد دیتی ہوں کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے قیاس آرائیاں تھیں کہ سینیٹ الیکشن سے قبل حکومت کا بوریابستر لپیٹ دیا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا اور جمہوری انداز سے سینیٹ الیکشن مکمل ہوئے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوا ہے. انہوں نے کہا کہ رضا ربانی پیپلز پارٹی کا اثاثہ ہیں، آج حکومت کو رضا ربانی کی بہت یاد آ رہی ہے،مگر حکومت ہی تھی جو بطور چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کو عزت نہیں دیتے تھے، انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں حکومت کو ایک دفعہ نہیں دو دفعہ شکست ہوئی، شکست کھانے کے بعد حکومتی اتحادیوں نے کہا کہ آج پارلیمنٹ کا منہ کالا ہو گیا ہے تو پھر میں اور پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والوں میں کیا فرق رہ گیا ہے، آج حکومت کو ہر سطح پر شکست ہو رہی ہے تو ان کو جمہوریت یاد آ رہی ہے، حکومت اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنے اراکین کو عزت دینا سیکھے، بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) نے اپنے ارکان کو بھیڑ بکریاں سمجھا. شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ اور سینیٹ انتخابات میں تیسری قوت کی مداخلت کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے.
 

..