چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا (ن) لیگ کے خلاف نیا پلان تیار، ملکی سیاست کو گرما دینے والی خبر آ گئی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا (ن) لیگ کے خلاف نیا پلان تیار، ملکی سیاست کو گرما دینے والی خبر آ گئی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف کے لیے مشاورت کا عمل شروع ہوگیا ہے. ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے لیے مشاورت شروع کردی ہے، سینیٹر شیری رحمان قائد حزب اختلاف کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں جب کہ پی پی قیادت پارٹی کے اندر مشاورت کے ساتھ ساتھ اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لے گی. ذرائع کے مطابق چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے ساتھ دینے والی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائی گی جب کہ ایوان بالا میں اپوزیشن کی بڑی جماعت ہونے کے ناطے پی پی قائد حزب اختلاف اپنا لانا چاہتی ہے.واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار صادق سنجرانی چیئرمین اور سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے تھے. جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے سینیٹ الیکشن پر مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سب چابی والے کھلونے ہیں جو کل ایک ہی جگہ جاکر جھک گئے.اسلام آباد میں پارٹی کے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ ہم نے قلیل مدت میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، آج دل چاہتا ہے کہ کہیں منصوبوں کا افتتاح کرنے جاؤ، اس میں میرا بھی خون پسینہ گرا ہوا ہے، یقین ہے شاہد خاقان عباسی اور شہبازشریف بھی مجھے اس وقت مجھے یاد کرتے ہوں گے.میاں نواز شریف نے اس موقع پر شعر پڑھا کہہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستان میںہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئےسابق وزیراعظم کا کہنا تھا

کہ جو میرے ساتھ ہوا اس کے بعد کسی چیز کا افتتاح کرنے کا دل نہیں چاہتا، انسان کا دل ٹوٹ جاتا ہے لیکن میرا دل اتنا بھی نہیں ٹوٹا کہ پیچھے ہٹ جاؤں، جو مشن چن لیا ہے اس کی تکمیل تک کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا، یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے.انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ہمارے ستر سال گزرے، اگلے ستر سال ویسے نہیں گزرنے چاہئیں، اگلے ستر سال بہتر بنانے کے لیے آپ کے قدم سے قدم ملا کر چلوں گا، آپ کو مجبور کروں گا کہ میرے ساتھ چلیں.میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کا منشور اب صرف ان چار الفاظ پر ہوگا کہ ’ووٹ کو عزت دو‘، کوئی نعرہ لگائے نہ لگائے لاکھوں کے مجمہ یہی نعرہ لگارہا ہے، اس کا مطلب ہے عوام کے حق حکمرانی کو اور انہیں عزت دو، یہ نعرہ اپنی ذات کے لیے نہیں لگاتا، میری ذات کی کوئی حیثیت نہیں، اگر اب کسی کی حیثیت ہے تو قوم ملک اور آنے والی نسلوں کی ہے.(ن) کے قائد نے کہا کہ سب کو گواہ بناکر کہتا ہوں مجھے کوئی ذاتی مفاد یا لالچ نہیں، اپنے قوم ملک اور عوام کی بات کرتا ہوں، پاکستان کے لیے کوئی جدوجہد کرنا چاہتا ہوں وہ قوم اور آنے والی نسلوں کے لیے ہے، ووٹ کی عزت ہوگی تو آپ کی عزت ہوگی، ملک کی عزت ہوگی، غیر ملکیوں کی نظروں میں عزت ہوگی.میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ اگلے الیکشن کو عوام نے ایک ریفرنڈم بنادینا ہے، آج اپنے کسی کیے کی سزا نہیں بھگت رہا، روز عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہوں، مجھے کوئی بتادے کہ تم نے فلاں جگہ کرپشن کی ہے، یہ کس چیز کے مقدمے ہیں، یہ ووٹ کے احترام کی بات کرتا ہوں اس چیز کے مقدمے ہیں، قوم کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتا ہوں.انہوں نے کہا کہ میرا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، میرا ایجنڈا صرف پاکستان اور اس کی ترقی ہے، جو کہا کرکے دکھایا، ملک میں بجلی آگئی اور دہشت گردی ختم ہوگئی، سی پیک چل رہا ہے، لاکھوں کو روزگار مل رہا ہے، پاکستان بلندیوں کی طرف جارہا ہے، ملک کی عزت ہورہی ہے تو مجھے اس چیز کی سزا دی جارہی ہے.سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم جسے ووٹ دیتی ہے آج وہی نشانہ بناہوا ہے، وہی سب سے زیادہ دلوں میں کھٹکتا ہے، مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں بس اپنی قوم کی پرواہ ہے.انہوں نے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کل ملک میں ایک تماشہ لگا، بڑے اصولوں کی بات کرتے ہیں، کل دیکھا کس طرح سے ایک ہی بارگاہ میں سب جاکر جھک گئے، بنی گالہ، بلاول ہاؤس والے اور کے پی کے سے چلنے والے قافلے بھی وہیں جاکر جھک گئے، ایک ہی جگہ پر جاکر سجدہ کردیا، کس کے آگے جاکر جھکے ہو، اس کی کیا خدمات ہیں پاکستان کے لیے، کتنا قد کاٹ ہے، وہ کیا شخص ہے کسی کو کوئی پتا نہیں، یہ سب چابی والے کھلونے ہیں، کیا کہوگے اس جگہ پر کیوں جھکے، کیسے سجدہ ریز ہوگئے.

..