تحریک انصاف یا مسلم لیگ (ن)؟؟؟ بشریٰ بی بی کے داماد حیات مانیکا کس جماعت سے الیکشن لڑنے جارہے ہیں ؟ بریکنگ نیوز آگئی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

تحریک انصاف یا مسلم لیگ (ن)؟؟؟ بشریٰ بی بی کے داماد حیات مانیکا کس جماعت سے الیکشن لڑنے جارہے ہیں ؟ بریکنگ نیوز آگئی


پاکپتن (قدرت روزنامہ)صوبائی وزیر مال پنجاب میں عطا محمد مانیکا کے فرزند پی پی 191سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار میاں حیات محمد خان مانیکا نے حلقہ سے تعلق افراد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے والد اس حلقہ سے تین بار مسلسل منتخب ہوئے ہیں اور علاقہ گواہ ہے کہ جتنے ترقیاتی کام ان کے والد نے مکمل کروائے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ آنے والے الیکشن میں ان کے والد جو فیصلہ بھی کریں گے وہ بہت اہمیت کا حامل ہو گا انہوں نے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں گے انہوں نے کہا کہ الیکشن لڑنے کے خواب پر کوئی پابندی نہیں ہے . واضح رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ شادی کے حوالے سے پاکپتن میں سیاسی حوالوں سے بھی کئی نئے پہلو سامنے آرہے ہیں اور ممکنہ طور پر پاکپتن ضلع کی سیاست بدل جائےگی.

ضرور پڑھیں: ن لیگ اور پی پی میں اختلافات بڑھ گئے،اپوزیشن لیڈر شیری رحمن کو ہٹانے کیلئے راجہ ظفر الحق نے سینیٹ میں درخواست جمع کرادی

بشری ٰ بی بی کے داماد میاں حیات مانیکا کو نواز شریف نے ملاقات کے دوران پاکپتن میں ن لیگ کاٹکٹ دینے کا وعدہ کرلیاہے، دوسری طرف خاور فرید مانیکا کے چھوٹے بھائی احمدرضامانیکا اور میاں فاروق مانیکا پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے خواہش مند ہیں .موجودہ صورتحال میں خاور فرید مانیکا جو عمران خان کی پاکپتن آمد پرمیزبانی کے فرائض انجام دیتے تھے اور ان کے ہمراہ دربار پربھی حاضری دیتے تھے اپنے بھائیوں کی سیاسی حمایت کرسکیں گے. دوسری جانب ان کے داماد میاں حیات مانیکا ن لیگ کے ٹکٹ پرالیکشن لڑ رہے ہونگے. ذرائع کاکہنا ہے کہ میاں حیات مانیکا میاں احمد رضا مانیکا کوبھی ن لیگ میں شمولیت کی دعوت دے سکتے ہیں تاہم احمد رضامانیکا ن لیگ کی طرف جانے سے گریزاں ہونگے. سیاسی اعتبار سے مانیکا فیملی کو ماضی میں ان کے والد محترم میاں غلام محمد احمد مانیکا کے دور اقتدار میں جو مقام حاصل تھا ا س کو بھی پیش نظر رکھا جارہاہے. 88ءمیں جب میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے توانہوں نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کےلئے بھر پور کردار ادا کیا. تھا

جس کی وجہ سے بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ بچ گئی تھی جس کا میاں نواز شریف کو رنج تھا اور 90ءکے انتخابات میں میاں غلام محمد احمد مانیکا کے مقابلہ میں میاں محمود احمد خان سجادہ بسی شریف کوقومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کردیا جو الیکشن میں کامیا ب ہوگئے. میاں محمود احمدخان روحانی خانوادے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے درگاہ با بافرید ؒ کے سجادہ نشین دیوان فیملی سے قریبی روابط رکھتے ہیں ، میاں نواز شریف کی فیملی بھی ان کی دل سے عزت وتکریم کرتی ہیں. اپنی انتخابی مہم کے دوران میاں نواز شریف نے ایک بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ میاں محمود خاں جیسے چار ساتھی مل جائیں تو وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے. وزیر اعظم کی حیثیت سے میاں نواز شریف نے بسی شریف ہاؤس میں بھی بڑی تقریب سے خطاب کیا تھا. میاں محمود احمد خان کی فیملی سے تعلق رکھنے والی خاتون میاں غلام محمد مانیکا کی اہلیہ تھیں جبکہ میاں غلام محمد احمد مانیکا خود بھی میاں محمود احمد خان کے نانا حضرت میاں علی محمد خان ؒ کے مرید تھے تاہم سیاسی حوالے سے میاں محمود احمد خاں اور میاں غلام محمد احمد مانیکا کے درمیان کچھ عرصہ دوریاں رہیں. میاں عطامانیکا کے والد محترم بھی حضر ت میاں علی محمد خان بسی شریف والے کے پاس حاضری دیتے تھے. میاں علی محمد خان ؒ کا مزار درگاہ حضرت بابافرید ؒ کے صحن میں واقع ہے. یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ میاں نواز شریف نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے پاکپتن کو حضرت بابافریدؒ کے توسط سے ضلع کادرجہ دیا تھا اور اس بات کااعلان انہوں نے پاکپتن میں درگاہ بابافریدؒ اورسابق ایم پی اے میاں غلام فرید چشتی مرحوم کے ڈیرہ پرعوامی اجتماع میں کیا تھا جس پریکم جولائی 90کو عمل درآمدہوا .. . . . ( م ، ش )

..

ضرور پڑھیں: عمران خان کے آنسوؤں نے کئی لوگوں کو آبدیدہ کر دیا