اسلام آباد میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، مظاہرین سے شدید جھڑپیں – Daily Qudrat

اسلام آباد میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، مظاہرین سے شدید جھڑپیں

 اسلام آباد(قدرت روزنامہ25-نومبر-2017)سیکورٹی فورسز دھرنے کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے وسیع علاقے کو کلیئر کرانے میں کامیاب ہوگئی ہیں تاہم مرکزی اسٹیج بدستور قائم ہے اور وہاں پر مظاہرین اور ان کی قیادت موجود ہے جن کا سیکورٹی اہلکاروں نے محاصرہ کیا ہوا ہے. ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کی آخری ڈیڈلائن بھی ختم ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے آپریشن شروع کردیا جس کے نتیجے میں مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور علاقہ میدان جنگ بن گیا.

آپریشن میں پولیس، رینجرز اور ایف سی حصہ لے رہی ہیں. سیکورٹی فورسز مظاہرین کی بڑی تعداد کو منتشر کرنے میں کامیاب ہوچکی ہیں اور فیض آباد کا وسیع علاقہ کلیئر کرایا جاچکا ہے تاہم احتجاج کے لیے بنایا گیا مرکزی اسٹیج بدستور قائم ہے اور وہاں پر مظاہرین اور ان کی قیادت موجود ہے جن کا سیکورٹی اہلکاروں نے محاصرہ کیا ہوا ہے، جب کہ گرد و نواح کے علاقوں اور گلیوں میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جس کے نتیجے میں جڑواں شہروں میں صورت حال شدید کشیدہ ہے. آپریشن کا سن کر راولپنڈی سے مظاہرین کی بڑی ریلی فیض آباد کے لئے روانہ ہوئی تاہم پولیس نے ڈنڈا بردار مظاہرین کو شمس آباد میں روک لیا اور ان پر شیلنگ کی. مظاہرین نے سیکیورٹی کے لئے لگائے گئے بیریئر توڑ دئیے اور پولیس پر پتھراؤ کی جارہا ہے جب کہ مری روڈ کو بھی مکمل طور پر بلاک کردیا گیا ہے. علاقے میں کشیدگی ہے اور مظاہرین و پولیس میں تصادم جاری ہے. آج صبح سویرے سیکورٹی اہلکاروں نے فیض آباد میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے پیش قدمی کی تو مظاہرین نے سامنے سے پتھراؤ شروع کردیا. تاہم پولیس کی پیش قدمی جاری رہی اور انہوں نے مظاہرین کے قریب پہنچ کر ان پر لاٹھی چارج شروع کردیا.اس دوران سیکورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے جن میں مظاہرین اور اہلکار دونوں شامل ہیں. پولیس کے لاٹھی چارج کے جواب میں مظاہرین نے بھی اہلکاروں پر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا. پولیس نے بڑی تعداد میں مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے. اب تک 50 سے زیادہ افراد کو حراست میں لے کر مختلف تھانوں میں منتقل کیا جاچکا ہے. آپریشن کے آغاز میں پولیس کو فوری کامیابی حاصل ہوگئی اور انہوں نے 80 فیصد علاقے کو کلیئر کرالیا تاہم پھر مظاہرین کے قدم سنبھل گئے. قریبی مساجد سے دھرنا دوبارہ دینے کے اعلانات بھی کیے گئے جس کے نتیجے میں مظاہرین بڑی تعداد میں واپس آگئے اور پولیس کے ساتھ ان کا دو بدو تصادم ہوا ہے. شدید شیلنگ کی وجہ سے علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا. دھویں کے گہرے بادل چھا گئے اور ہر طرف پتھر بکھرے پڑے ہیں. اب تک فیض آباد کے وسیع علاقے کو کلیئر کرایا جاچکا ہے تاہم کہیں کہیں مظاہرین کی ٹولیوں اور پولیس میں تصادم جاری ہے

. ایکسپریس ہائی وے اور راول ڈیم پر مظاہرین اور پولیس میں تصادم جاری ہے. بہت سے مظاہرین راول پنڈی کی طرف بھی فرار ہوگئے ہیں. دھرنے کے مرکزی مقام پر بنائے گئے اسٹیج پر مظاہرین اور ان کی قیادت موجود ہے جبکہ پولیس نے ان کا محاصرہ کیا ہوا. واضح رہے کہ اسلام آباد میں 20 روز سے مذہبی جماعتوں کا دھرنا جاری تھا اور مظاہرین  الیکشن کے کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت سے متعلق ترمیم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے تھے. دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا. انتظامیہ نے مظاہرین کو دھرنا ختم کرنے کے لیے آج صبح 7 بجے تک کی ڈیڈ لائن دی تھی جو ختم ہونے پر آپریشن کیا گیا. اس سے قبل سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعدد بار دھرنا ختم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے تاہم احتجاج ختم نہیں کیا گیا. دھرنا ختم کرنے کے لیے حکومت نے اس سے پہلے دو بار ڈیڈلائن دی تھی تاہم دھرنا ختم نہیں کیا گیا جس پر انتظامیہ نے آج صبح 7 بجے تک کی تیسری اور آخری وارننگ دی گئی تھی جو گزرنے پر آپریشن شروع کردیا گیا.

..

ڈیلی قدرت کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں



قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

To Top