عام انتخابات میں ہمارا بیانیہ ”ووٹ کو عزت دو“ نہیں کارکردگی ہوگا ، وزیر اعظم - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

عام انتخابات میں ہمارا بیانیہ ”ووٹ کو عزت دو“ نہیں کارکردگی ہوگا ، وزیر اعظم


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عام انتخابات میں ہمارا بیانیہ ”ووٹ کو عزت دو“ نہیں بلکہ کارکردگی ہوگا ، نواز شریف ایک بااصول اور دیانتدار آدمی ہیں ان کے بیان کی غلط ترجمانی کی گئی ، اسد درانی کی کتاب میں متنازعہ موضوعات پر قومی سلامتی کمیٹی میں بحث ہونی چاہئے ،موجودہ حالات میں کوئی حکومت کام نہیں کر سکتی ، نیب جو کچھ کر رہا ہے اس سے ملک کو نقصان ہورہا ہے .اب ٹیکس نہ دینے والے گاڑی نہیں خرید سکیں گے .

ضرور پڑھیں: چوہدری پرویز الٰہی سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب لیکن حمزہ شہباز اور خواجہ سعد رفیق کی ایوان سے ایسی تصاویر سامنے آگئیں کہ ہرکوئی دنگ رہ گیا، یہ تو آپ نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ۔۔۔

جیونیوز سے انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نگران وزیر اعظم کیلئے اپوزیشن کیساتھ اتفاق نہیں ہو سکا البتہ کل آخر ی ملاقات ہے اگر اتفاق نہ ہوا تو پھر پارلیمانی کمیٹی کے لئے دودو نام دے دیں گے ، مجھ امیدتھی کے ہم طے کرلیں گے لیکن بد قسمتی سے یہ نہیں ہوا لیکن ابھی بھی میں پر امید ہوں شائد کل فیصلہ ہوجائے . انہوں نے کہا کہ جو بھی بندے نگران وزیر اعظم کیلئے نامزد کئے گئے ہیں وہ کسی بھی پارٹی کے بندے نہیں ہیں لیکن پیپلز پارٹی کو ہمارے ناموں سے اتفاق نہیں اور ہمیں ان کے ناموں سے اتفاق نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ انتخابات متواز ن ہو نا چاہئے اگر نہ ہو تو پھر انتخابات جھگڑے میں چلے جاتے ہیں جس سے ملک وقوم کا نقصان ہو تا ہے ، الیکشن شفاف ہو اور شفاف ہوتا ہو انظر آئے . میڈیا میں ایسی خبریں پھیلانے سے سیاسی جماعتوں کو نقصانات ہوتے ہیں. امیدواروں کے دوسری پارٹیوں میں ٹو ٹ کر جانے کے بھی اثرات ہوتے ہیں. ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرناچاہئے اور فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ چیز نظر آئے کے انتخابات ایک آزاد اور شفاف ماحو ل میں ہو رہے ہیں. وزیر اعظم نے کہا کہ جو کچھ سینٹ میں ہوا ، جو جنوبی پنجاب میں ہوا اور جو لوگ ٹوٹ کر گئے ہیں اس پر ہمیں تحفظا ت ہیں اور ہم نے اس کااظہار کیا ہے . انہوں نے کہا کہ ہم اپنا بیانیہ عوام کے سامنے رکھ سکتے ہیں اور اپنے تحفظات کا اظہار کر سکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ لو گ جماعتیں چھوڑ جاتے ہیں لیکن میرا شکوہ ان کے ساتھ یہ ہے کہ چار سال اور 11ماہ تو آپ ہمارے ساتھ رہے لیکن آخری تیس دنوں میں آپ کو اصول اور اخلاقیات یاد آگئیں تین دن اور گزار لیتے پھر چاہے چلے جاتے ، ایسے لوگوں کے جانے سے بہتری پیدا ہوتی ہے . وزیر اعظم نے کہا کہ انتخابات میں ہم ایک ہی بیانیہ لیکر چلیں گے اور ہمارا بیانیہ کارکردگی ہے جو الیکشن میں پیش کریں گے ، ہمارا بیانیہ ووٹ کوعزت دو والا بیانیہ نہیں . ہماری جماعت اصولوں پر الیکشن لڑ رہی ہے اقتدار کے اصولوں پر الیکشن نہیں لڑ رہی اور ہم 2013کے نسبت کئی گنا زیادہ بہتر پاکستان نگران حکومت کو دے کر جا رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہم مطمن ہیں کہ ہم جوبیانیہ لیکر عوام کے سامنے 2013میں گئے تھے اس کا ایک بڑا حصہ ہم نے پورا کردیا ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ نوازشریف کا نام کسی کیس میں نہیں اور نہ ان کا نام کسی گواہ نے لیا لیکن آپ ان پر کیس چلا رہے ہیں، نواز شریف جیل جانے کیلئے تیار ہیں لیکن عوام ہر چیز سے باخبر ہیں . وہ دن میں دودو پیشیاں بھگت رہے ہیں، جو الزام ان پر ہے اس کی سزا آپ ان کودے چکے ہیں ان کو اسمبلی سے نکال دیا ، وزارت عظمیٰ سے نکال دیا ، پارٹی سے نکال دیا لیکن نواز شریف کا ہمیشہ ایک ہی موقف رہاہے اور یہ وقت بتائے گا. نواز شریف کا جوریکارڈ ہے انہوں نے ماضی سے سیکھا اور اپنی سمت درست کی ، نواز شریف بہترین انسان ہیں اور ملک سے وفادار انسان ہیں اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو میں اس پارٹی کے ساتھ کبھی نہ ہوتا . ان کابیان بھارت میں چھپا تھا جوغلط طریقے سے پیش کیا گیا اور اس کی غلط ترجمانی کا اثر زائل کرنے کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا . نواز شریف کی مجھ سے خفگی نہیں ہوئی .بیان کے اثرات پر بیانیہ دینے کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ضروری تھا . حقیقت میں بیان کسی نے پڑھا نہیں بیان سے جو نتیجہ اخذ کیا گیا اس کے خاتمہ کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا تاکہ ایک مشترکہ قومی بیانیہ دیا جائے .انہوں نے کہاکہ آئی ایس آئی اوررا کے سابقہ سربراہان نے ملکر ایک کتاب لکھی ہے لیکن کچھ ایسی پوسٹیں ہوتی ہیں کہ آپ ان سے متعلقہ معاملات پور ی زندگی شائع نہیں کر سکتے لیکن جب آپ ایسی کتا ب لکھتے ہیں تو متعلقہ ادارے کودینی پڑتی ہے اس لئے دیکھنا ہوگا کہ ایسا ہوا یا نہیں ، اس لئے اگر اس کتاب میں کچھ متنازعہ چیز ہے تو اس پر قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں غور کیا جائے گا اور اس پر بحث کی جانی چاہئے . انہوں نے کہا کہ اگر سویلین اور فوجی قیادت میں اعتماد ہو تو معاملہ آگے چلتا ہے ، میں نے اس کوبہتر کرنے کی کوشش کی ہے اور اب دونوں طرف سے ایک دوسرے کو سمجھنے میں بہتری آئی ہے ، قومی معاملات میں سوچ ایک ہی ہے .ہمارے بہت سے معاملات حل طلب ہیں جن کے حل کے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں ہے . اب یہ طے کرنا ہوگا کہ ملک کیسے چلایا جائے گا، جو آج حالات ہیں ان میں ملک چلانا ممکن نہیں ، جب بیورو کریسی کام نہیں کر پائے گی تو ملک ترقی نہیں کرے گا ، اس وقت ملک میںعدلیہ اور نیب کی وجہ سے جو حالات پیدا ہو چکے ہیں اس ملک ترقی نہیں کرسکتا .میں سینکڑوں ارب روپے کے معاملات پر فیصلہ نہیں کر رہا کیونکہ بیورو کریسی پٹ اپ کرنے کو تیار نہیں کیونکہ ان کوڈر ہے کہ نیب بلا لے گا یا کوئی ادارہ بلا لے گا .انہوں نے کہا کہ آئین کی ترجمانی ہوتی ہے اس کے لئے اشخاص ہوتے ہیں وہ اپنے عمل سے دیکھتے ہیں کہ جو ہم کر رہے ہیں کیا اس سے ملک چل پائے گا لیکن میں نے جو اندازہ لگا یا ہے اس کے مطابق موجودہ حالات میں ملک کاچلنا مشکل ہے چاہے کوئی بھی حکومت ہو . حکومت پر لازم ہے کہ آخری منٹ تک کام کرے کیونکہ ملک تو چھٹی نہیں کر سکتا . مستقبل میں بھی جو حکومت آئے گی اس کو انہی مشکلات کاسامناہوگا . پہلے معاملات اتنے پیچیدہ نہیں ہوتے تھے لیکن میڈیا اورنیب کے اثرات نے مشکل بنادیا ہے ، نیب آمر نے وفاداریاں توڑنے کے لئے بنایا تھا لیکن بدقسمتی سے ہم اس کو ختم نہیں کر سکے ، اس وقت نیب کے جو حالات ہیں وہ ملک کے مفاد میں نہیں ہیں.اس وقت بیانیہ دیا جانا چاہئے کہ نیب جو کر رہا ہے یہ ملک کے مفاد میںہے یا نہیں ،نیب جو کر رہا ہے اس سے ملک کو دس فیصد فائدہ ہو رہا ہے اور90فیصد نقصان ہور ہا ہے .چین سے قرض لینے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دنیا کا کام ایسے ہی چلتا ہے لوگ قرض لیتے ہیں اور پھر کام کرتے ہیں، ایمنسٹی سکیم میں سب سے بڑاچیلنج عدالت کا ہے جب تک عدالت سے وضاحت نہیں آئے گی تو کوئی بھی اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائے گا یہ وہی باتیں ہیں جو ابھی میںپہلے کر رہا تھا ، یہ ایمنٹسی سکیم نہیںتھی بلکہ ہم نے لوگوں کوموقع دیا کہ وہ ٹیکس نیٹ میں آجائیں اگر 20کروڑلوگوں کے ملک میں 7لاکھ ٹیکس دینے والے ہوں تو یہ شرمندگی کی بات ہے .انہوں نے بتایا کہ اب ٹیکس نہ دینے والے گاڑی نہیں خرید سکیں گے اب ہم ایک پالیسی اسمبلی سے منظور کروا کرکے چھوڑ کر جا رہے ہیں کوئی بھی حکومت آتے اس پالیسی میں تبدیلی نہیں کر پائے گی .

..

ضرور پڑھیں: آصف زرداری کی مجبوریوں کا احساس ہے اس لیے گلہ نہیں کریں گے‘سعد رفیق