مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر توہین رسالت کا الزام ۔۔۔۔۔مگر یہ سلسلہ تو خود میاں نواز شریف نے شروع کیا تھا اور اب بھگت رہے ہیں ۔۔۔۔حامد میر کا تہلکہ خیز انکشاف – Daily Qudrat

مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر توہین رسالت کا الزام ۔۔۔۔۔مگر یہ سلسلہ تو خود میاں نواز شریف نے شروع کیا تھا اور اب بھگت رہے ہیں ۔۔۔۔حامد میر کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (قدرت روزنامہ07-دسمبر-2017) صف اول کے صحافی اور نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں ..

...مجھ پر قتل کا جھوٹا الزام ایک بار پھر لگا تو میں نے حکومت کے لوگوں سے کہا کہ آپ کو حقیقت کا علم ہے، پھر آپ اس کا اظہار کیوں نہیں کرتے؟ لیکن محسوس یہی ہوا کہ شاید یہ یہی چاہتے ہیں کہ اگر ہم عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں تو انہیں بھی کھانے دیں. پھر آج ہم صرف جسمانی حملوں کی زد میں نہیں. 2014ء میں میرے جسم میں گولیاں پیوست ہوئیں تو دوسری طرف پچھلے سال مجھے توہین رسالت کا مجرم بنا دیا گیا. یہ سب سے تکلیف دہ بات ہے. مری میں ایک لڑکی کا غیرت کے نام پر قتل ہوا، زندہ جلائی گئی تو میں نے اس پر کالم لکھا کہ عورتوں کو زندہ جلانا اچھی بات نہیں. کچھ طاقتور لوگ میرے خلاف اُٹھے اور اس کالم میں سے توہین رسالت برآمد کرلی. لال مسجد کی ”شہداء فائونڈیشن“ کو میرے خلاف کھڑا کردیا. سب کو معلوم تھا کہ اس کالم میں دور دور تک توہین رسالت نہیں. اسلام آباد کے پولیس افسران کو عدالت میں جاکر صرف یہ کہنا تھا کہ اس کالم کا توہین رسالت سے تعلق نہیں. لیکن وہ بھی نہیں کہہ سکے. یہ پولیس افسران نجی ملاقاتوں میں کہتے کہ آپ درست کہتے ہیں. اس کالم میں توہین رسالت کہیں نہیں. پھر کچھ علمائے کرام نے مدد کی. انہوں نے فتوے دیے کہ اس کالم میں کوئی توہین رسالت نہیں. جنرل راحیل شریف ریٹائرڈ ہوئے تو دباؤ کچھ کم ہوا اور میں اس کیس سے نکل گیا. یہ آغاز تھا اور یہ سلسلہ بعد میں دراز ہوا. اسی زمانے میں بول ٹی وی پر عامر لیاقت صاحب نے میرے اوپر توہین رسالت کا الزام لگانا شروع کیا. میں سب سے پہلا آدمی تھا جس پر یہ الزام لگا. میں نے اس وقت اپنے ساتھیوں سے کہا بھی کہ شروعات مجھ سے ہوئی ہیں، خاموشی اختیار کی تو آپ میں سے بھی کوئی نہیں بچے گا. میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ میں آپ لوگوں سے تعاون کا طلب گار نہیں، میری مدد اللہ کرے گا، لیکن دیکھنا یہ تم لوگوں پر بھی حملہ آور ہوں گے. میرے بہت سے ساتھی ”جیو“ میں تھے، وہ اظہارِ ہمدردی کرتے، لیکن میرے حق میں کوئی نہیں بولا. چنانچہ جو میں نے کہا تھا، وہ درست ثابت ہوا. ڈاکٹر عامر لیاقت نے کسی کو نہ چھوڑا. ہر کسی پر توہین رسالت کا الزام لگا دیا. میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں صحافی اپنی جان سے گئے. انہیں جیلوں کا سامنا کرنا پڑا. ان پر جھوٹے مقدمات بنے. ایک نہیں، اس کارزار میں کئی صحافیوں نے جانیں قربان کیں. لیکن توہین رسالت کے جھوٹے الزام کا ہتھیار نواز شریف دور میں استعمال ہونا شروع ہوا. عجیب بات یہ ہے کہ آج وہی ہتھیار خود ان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے. یہ جو فیض آباد میں دھرنا تھا، اس میں یہی تو کہا جا رہا تھا کہ آپ نے ختم نبوت حلف نامے میں بدنیتی کی بنیاد پر ترمیم کی. یہ دراصل پورے معاشرے کی ناکامی ہے. ہمارے اہلِ فکر و دانش بھی اس کے ذمہ دار ہیں. علمائے کرام پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے. میں اسے اجتماعی ناکامی کہوں گا. اناپرستی، ذاتی غصہ، انتقام کا جذبہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے توہین رسالت کا الزام لگانے سے بھی ہم نہیں ہچکچاتے. یہ آپس کی لڑائی بھی حکمران طبقے نے شروع کروائی ہے. اس نے جب دیکھا کہ 2007ء میں پرویز مشرف نے میڈیا پر پابندی لگائی تو تمام صحافی اکٹھے تھے. سب نے مشترکہ طور پر مشرف کے خلاف تحریک شروع کی. آپ کو یاد ہوگا یہ تحریک وکیل چلا رہے تھے یا پھر میڈیا اس میں پیش پیش تھا. جس کا افتخار چوہدری نے فائدہ اُٹھایا. میں آپ کو یہ بھی یاد دلاؤں کہ صحافی سلیم شہزاد کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا. اس پر پاکستان کا پورا الیکٹرونک میڈیا اکٹھا ہوا اور پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا.

اس کیمپ کے سامنے قطار میں پانچ چھ ٹی وی چینلز کے کیمرے ہوتے. کوئی تفریق نہیں تھی. قطار میں ایک جگہ حامد میر پروگرام کررہا ہے، دوسرے کیمرے کے سامنے کاشف عباسی نظر آرہے ہیں. تیسرے کے سامنے ندیم ملک، چوتھا کیمرہ مہر عباسی اور پانچویں کے سامنے کوئی اور... پورا الیکٹرونک میڈیا متحد. اسی کا نتیجہ تھا کہ دباؤ میں آکر حکومت کو کمیشن بنانا پڑا. اس کا کیا نتیجہ نکلا، الگ موضوع ہے، لیکن یہ اتحاد سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا. چنانچہ اس اتحاد سے خوفزدہ ہوکر اسے ختم کیا گیا. اس کے لیے پہلے صحافتی تنظیمیں توڑی گئیں، پھر مالکان اور کارکن صحافیوں کو آپس میں لڑایا گیا. جب 2014ء میں مجھ پر حملہ ہوا، میں ہسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں پڑا ہوں، بہت سے ٹی وی چینلز اور اینکر کہہ رہے تھے کہ اسے پلاسٹک کی گولیاں لگی ہیں. اس نے ڈرامہ رچا رکھا ہے. بعد میں اگرچہ ان سب نے مجھ سے معذرت کر لی اور کچھ تو ان میں سے ”جیو“ بھی آگئے. کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے کارکن صحافیوں کو اب اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے. اختلافات ختم کرنے چاہییں. خاص طور پر جو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ ہے، اس میں گروپ بندی کا خاتمہ کرنا ہے. اس کے لیے کچھ کوششیں ہوئی ہیں. ہم اگر اکٹھے ہوں گے تو پاکستان کا میڈیا سروائیو کرسکتا ہے، بصورتِ دیگر مجھے لگتا ہے کہ دن بدن پاکستان کا میڈیا اپنی آزادی کھو رہا ہے. اس وقت چینلز کی اسکرینیں دیکھیں تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ میڈیا بہت آزاد ہے، لیکن یہ لوگوں کی بہت بڑی غلط فہمی ہے. پاکستان کا میڈیا دن بدن اپنی آزادی کھو رہا ہے. دن بدن سمجھوتے (compromises) بڑھ رہے ہیں. اب میں نے بہت سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے کہ اگر میں کسی معاملے میں پچاس فیصد بھی سچ نہیں بول سکتا تو کیا مجھے اسے جاری رکھنا چاہیے یا چھوڑ دینا چاہیے؟ کبھی کبھی آپ کے اندر ایک کشمکش شروع ہو جاتی ہے. آج کل میں اندرونی اضطراب اور کشمکش کا شکار ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیونکہ اب کافی ہوگیا، تین چار سال سے یہی سوچ سوچ کر وقت گزر رہا ہے کہ مشکل وقت ختم ہو رہا ہے. کچھ مہینے اور انتظار کرلیا جائے. بڑا دباؤ مجھ پر یہ تھا کہ کچھ لوگ مجھے پاکستان سے بھگانا چاہتے تھے، وہ خواہش ان کی پوری نہیں ہوسکی. بہت بڑا دبائو تھا جو میں نے برداشت کر لیا. لیکن اس وقت جو دباؤ ہے، وہ اندرونی ہے. آپ اسکرین پر سچ بول رہے ہیں، جھوٹ بول رہے ہیں؟ اگر آپ جھوٹ نہیں بھی بول رہے، تو کیا پورا سچ بول پا رہے ہیں یا نہیں؟ جب آپ تھوڑا سا سچ بولتے ہیں تو آپ کے ساتھی ہی آپ سے کہتے ہیں: یار! تمہیں تو ہیرو بننے کا شوق ہے، تم ہماری زندگی خطرے میں کیوں ڈال رہے ہو؟ ”اگر اتنا ہی خوف تو پھر یہ پروفیشن ہی چھوڑدیں.

..

ڈیلی قدرت کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں



قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

To Top