ایس ایم ایس کے ذریعے طلاق ، شرعی مسئلہ کی حقیقت جان کر آپ کے پیروں تلے سے زمین نکل جائے گی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ایس ایم ایس کے ذریعے طلاق ، شرعی مسئلہ کی حقیقت جان کر آپ کے پیروں تلے سے زمین نکل جائے گی


لاہور (قدرت روزنامہ )طلاق ایک حساس مسئلہ ہے لیکن لاعلمی کی وجہ سے اس پیچیدہ اور مذاق بھی بنا لیا گیا ہے.موبائیل اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی طلاق واقعہ ہونے اور نہ ہونے کے بحث طلب مسائل جنم لے چکے ہیں. بعض لوگوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جانے لگا ہے کہ اگر کوئی شوہر ایس ایم ایس کے ذریعہ سے بیوی کو طلاق بھیج دے تو کیا طلاق واقع ہوجاتی ہے.کئی لوگوں کے نزدیک ایس ایم ایس تفریح کا بھی درجہ رکھتا ہے اور اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا .اس بارے میں اگر چہ یہ خدشہ موجود ہے کہ کوئی دوسرا فرد کسی کے موبائل کو استعمال کرتے ہوئے ایسا خوفناک میسج بھیج دے تو کیا اس سے بھی طلاق ہوجاتی ہے. بہت سے لوگ اس بات کو بھی سنجیدگی سے لے لیتے ہیں اور تصدیق کئے بغیر ایس ایم ایس پر قیاس و حجت قائم کرلیتے ہیں.ایس ایم ایس سے طلاق کے حوالہ سے معروف عالم دین اور مفتی شبیر قادری سے جب بیلجئیم میں رہنے والی ایک خاتون ماریہ نے یہ سوال کیا کہ کیا ایس ایم ایس کے ذریعے دی گئی طلاق واقع ہوتی ہے؟ اگر شوہر نے میسج کیا کہ ’’طلاق ہے‘‘ دوبارہ میسج کیا کہ ’’طلاق ہے‘‘ پھر تیسرے میسج میں تین بار ’’طلاق ہے‘‘ لکھا توکیا اس سے طلاق واقع ہوگئی؟ اس پر انہوں نے

جواب دیا کہ اگر شوہر ہوش و حواس میں طلاق دے تو واقع ہو جاتی ہے، خواہ زبانی دی جائے‘ کاغذ پر لکھ کر دے یا ایس ایم ایس کے ذریعے ارسال کرے. ایس ایم ایس کے ذریعے دی گئی طلاق بھی اسی طرح معتبر ہے جس طرح زبانی دی گئی طلاق ہے. آپ کے مسئلہ میں شوہر نے طلاق کا لفظ تین بار بولا ہے. اگر اس نے یہ لفظ تاکید (stress/emphasis) کے لیے تین بار بولا ہے اور وہ حلفاً اس بات کا اقرار کرتا ہے تو شرعاً ایک طلاق واقع ہوئی ہے. اس صورت میں دورانِ عدت بغیر نکاح کے رجوع ہو سکتا ہے اور عدت کے بعد تجدیدِ نکاح کے ساتھ رجوع ہوگا. لیکن اگر اس نے تین بار الگ الگ طلاق کا ارادہ کیا تھا تو تین طلاق واقع ہو چکی ہیں اور آپ کا رجوع ممکن نہیں ہے.

..

مزید خبریں :

سروے