عاصمہ جہانگیر کی مخلوط نمازِ جنازہ پر اعتراض بلاجواز قرارمگر عورتوں کو یہ ایک کام کرلینا چاہئے تھا - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

عاصمہ جہانگیر کی مخلوط نمازِ جنازہ پر اعتراض بلاجواز قرارمگر عورتوں کو یہ ایک کام کرلینا چاہئے تھا


لاہور(قدرت روزنامہ)ممتاز تجزیہ کار اور سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ میں خواتین کی شرکت پر اعتراضات کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہہمیں ان چھوٹی چھوٹی باتوں اور چھوٹے چھوٹے نقطوں پربڑے بڑے فتوی نہیں لگانے چاہئیں ، خواتین کا نماز جنازہ میں شریک ہونا ممنوع نہیں ہے ،ہر روزمسجد نبویﷺ اور بیت اللہ میں ادا کی جانے والی جنازے کی نمازوں میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شریک ہوتی ہیں،بہتر یہ تھا کہ عورتیں اپنی قطار الگ بنا لیتیں تاہم اگر شدت جذبات کی وجہ سے ایسا نہیں بھی ہو سکاتو کوئی قیامت نہیں آ گئی . نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ میں کچھ خواتین نے شرکت کی ہے،دیکھیں نماز جنازہ فرض کفایہ ہے ،روایتی طور پر خواتین نماز جنازہ میں شرکت نہیں کرتیں لیکن خواتین کے نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت بھی نہیں ہے ،اگر کسی بستی سے چند لوگ نماز جنازہ میں شرکت کر لیتے ہیں تو بستی کی طرف سے فرض ادا ہو جاتا ہے ،یہ فرض عین نہیں ہے ،گویا ہر شخص پر لازم نہیں ہے کہ سب ہی جنازہ پڑھیں ،اگر ایک بستی یا گھر سے ایک دو لوگ بھی چلے جاتے ہیں تو پھر عورتوں کو نماز جنازہ پڑھنےکی ضرورت نہیں ہوتی. انہوں نے کہا کہ اگر عورتیں مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہیں ،نماز جمعہ پڑھ سکتی ہیں اور دوسری نمازیں پڑھ سکتی ہیں ،تو وہ نماز جنازہ بھی پڑھ سکتی ہیں

،حضور ﷺ کے دور میں تو خواتین باقاعدہ مسجد میں جا کر نماز یں ادا کرتیں تھیں،ہاں عاصمہ جہانگیر کی نمازہ جنازہ میں یہ احتیاط کر لی جاتی تو اچھی بات تھی کہ عورتوں کیالگ صف بنا لی جاتی تو بہتر تھا تاہم پڑھانے والے کو بھی چاہئے تھا کہ وہ کہہ دیتے کہ عورتیں اپنی الگ قطار بنا لیں لیکن اگر جذباتی طور پر اس وقت خواتین کی الگ قطار نہیں بن سکی تو اس میں کوئی ایسا مسئلہ پیدا نہیں ہوا .انہوں نے کہا کہ جب ہم حج اور عمرے کے لئے جاتے ہیں تو روزانہ حرم میں آنے والے جنازوں کی نماز میں عورتیں بھی شریک ہوتی ہیں ،جن مرحومین کی میتیں مسجد نبوی ﷺ یا حرم میں لائی جاتی ہیں تو وہاں عورتیں اور مرد نماز جنازہ ادا کرتے ہیں،ہمیں ان چھوٹی چھوٹی باتوں اور چھوٹے چھوٹے نقطوں پربڑے بڑے فتوی نہیں لگانے چاہئیں ،اگر سید حیدر فاروق مودودی نماز جنازہ کے موقع پر یہ اعلان کر دیتے کہ عورتیں اپنی صف الگ بنا لیں کہ یا آگے ہو جائیں یا پیچھے ہو جائیں تو یہ زیادہ بہتر ہوتا لیکن شدت جذبات میں جب ایک میت سامنے پڑی ہو ایسی بات نہیں بھی ہو سکی تو کوئی قیامت نہیں ٹوٹ گئی ،ہم مسجد نبوی ﷺ اور بیت اللہ میں یہ کام ہوتا ہوا روز دیکھتے ہیں ،اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے .

..

مزید خبریں :