میں اس لڑکی کی مدد کرنے کے لیے رک گیا
Can't connect right now! retry

میں اس لڑکی کی مدد کرنے کے لیے رک گیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ14جنوری2018) ایک دفعہ میں اور میرے دوست مل کر ایک میٹنگ اٹینڈ کرنے شکاگو گئے اور اپنی گھر والیوں کو باور کروا گئے کہ جمعے کی رات تک واپسی ہو جائے گی. جمعہ کے دن جب ہم سب ائیر پورٹ پر پہنچے تو تھوڑا لیٹ ہو گئے تھے اور پلین بورڈ ہو رہا تھا.

ہمیں ڈر لگا کہ کہیں ہم رہ ہی نہ جائیں . ہم پانچ دوست تھے. بھاگے جا رہے تھے کہ ائیر پورٹ پر ایک ٹیبل پر سیبوں کا ایک سٹال لگا ہو تھا، بھاگتے ہوئے ہم سے اس ٹیبل کو ٹھوکر لگی اور سارے سیب نیچے گر گئے.

ہم پھر بھی لگا تار بھاگتے رہے کیونکہ وقت نہیں تھا کہ مڑ کر دیکھتے. میں نے ایک بار پیچھے دیکھا تو وہ سٹال ایک لڑکی نے لگایا ہوا تھا اور سونے پر سہاگا وہ اندھی تھی. اب تواب تو میں بالکل بھی اسے ایسی حالت میں روتا چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا. میں نے اپنے ایک دوست کو جو پکڑا اور بولا کہ میری بیوی کو تسلی دے دینا کہ میں اس سےاگلی فلائٹ پکڑ کر گھر پہنچ جاؤں گا، پریشان مت ہو. ٹھیک ہے؟ اور میں واپس اس سٹینڈ کے پاس آگیا. میں نے اس کے سارے سیب اکٹھے کیے اور ایک ٹوکری میں ڈال دیے.میں نے غور کیا تو کچھ سیب ٹھوکر لگنے سے خراب ہو گئے تھے. وہ کھوکھلے اور پلپلے ہو گئے تھے. میں نے خراب اور نرم سیب علیحدہ کیے اور ساتھ والی ٹوکری میں ڈال دیے. پھر پھول اٹھا کر ٹوکریوں کے گرد پھر سے سجا دیے. ایسے لگتا تھا جیسے ٹیبل کو کبھی ٹھوکر لگی ہی نہ ہو.میں جانے لگا تو مجھے خیال آیا کہ اس بیچاری کا اتنا نقصان بھی تو ہو گیا کہ آدھے سیب خراب ہو گئے تھے. میں نے بیس ڈالر جیب سے نکالے اور اس کو مخاطب کیا: بچے! پلیز آپ یہ بیس ڈالر لے لو.

غلطی سے آپ کے سٹینڈ سے ٹکرا گئے تھے. کچھ سیبوں پر خراشیں آگئی ہیں تو ان کے لیے آپ یہ پیسے رکھ لو. وہ لڑکی رو رہی تھی شاید اس لیے کہ وہ جانتی تھی کہ ائیر پورٹ پر تو ہمیشہ اتنی ہی نفسا نفسی مچی رہتی تھی، اور اگر وہ آدمی رک کر اس کی مدد نہ کرتا تو کوئی اور نہیں کرنے والا تھا.اوپر سے کیونکہ وہ خود اندھی تھی تو وہ اپنا سٹال خود دوبارہ لگا بھی نہیں سکتی تھی. میں نے اسے شکریہ بولا کہ اب جا کر اگلی فلائٹ کا ٹکٹ لوں اور بیٹھ کر ائیر پورٹ پر ہی انتظار کروں کہ وہ بولی : آپ فرشتے ہیں کیا؟ میں حیران رہ گیا. میں نے بولا پلیز ایسی بات مت کرو. آپ اپنا خیال رکھنا اور میں ٹکٹ لینے چلا گیا. میں گھر پہنچ کر بھی اس سوال کو بھول نہیں سکا. میرا دل عجیب بے چینی میں تھا کہاگر ہم سب اتنا احساس کرنے والے ہوتے تو وہ کبھی بھی ایسا سوال نہ کرتی. کاش کہ سب لوگ ایک دوسرے کی مدد کریں تو کسی کو مدد کی ضرورت نہ رہے. اس دن کے بعد میں اپنا خود محاسبہ کرنے لگا کیونکہ میں نے کچھ ایسا اچھا کام کیاکہ اس نے مجھے فرشتہ سمجھا. میرا دل کرتا تھا کہ میں اصل میں فرشتہ بن جاؤں.کیا خدا ہے؟ایک آدمی ایک نائی کے پاس گیا اور اس سے بولا کہ بھائی ذرا میری حجامت تو بنا دو. نائی نے کام شروع کیا تو معلوم پڑا کہ وہ تو اپنے کام میں بہت مہارت رکھتا تھا. ابھی وہ حجامت بنا ہی رہا تھا کہ اللہ جانے کیسے ہم دونوں خدا کے ہونے یا نہ ہونے پر بات کرنے لگے. اس نائی نے بڑے کڑوے لہجے میں اپنی رائے ظاہر کی کہ میرے خیال میں تو کوئی خدا نہیں ہوتا اگر کوئی رب ہوتا تو دنیا میں اتنے ظلم و ستم کسی پر بھی نہ ڈھائے جاتے. دیکھو فلسطین ، سومالیہ، بوسنیہ ، مقبوضہ کشمیر کی کیا حالت ہے لیکن کیا کسی نے ان کو بچایا. ہماری سڑکوں ، گلیوں، بازاروں، چوراہوں پر کھڑے فقیروں کو دیکھو. وہ بچے جو اتنی کم عمر میں مزدوری کر رہے ہیں ان کی طرف دیکھو اور مجھے بتاؤ کہ جب یہ سارے مظلوم لوگ بغیر کسی چھت کے بھوکے پیٹ سو جاتے ہیں تو تمہارا خدا کدھر ہوتا ہے. کتنے لوگ لاوارث ہیں، کتنے لوگ ڈرگز استعمال کرتے ہیں. چوری چکاری اور غلط حرکتوں میں پڑے ہوئے ہیں اور کوئی خدا انہیں ہدایت نہیں دیتا تو تم کیسے کہہ دیتے ہو کہ خدا نے سارا نظام سنبھال رکھا ہے.میں تو دنیا کی مفلسی، پریشان حالی اور نفسا نفسی دیکھ کر اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کوئی رب نہیں ہے جو دنیا کے ہر انسان کی حفاظت میں جتا ہو. اس وقت وہ نائی کیونکہ میرے بال بنا رہا تھا، میں نے سوچا کہ یہ اسے جواب دینے کا وقت نہیں تھا. لیکن میں اس کی بات سے ذرہ بھر بھی اتفاق نہیں رکھتا تھا. میرا اللہ کے وجود پر بھروسہ بہت قوی تھا اور میں اس سے بالکل مختلف عقیدے کا انسان تھا. جب اس نے میری حجامت کر دی اور میری شیو بنا دی تو میں نے اسے اس کے پیسے دیے اور دکان سے باہر آگیا. ابھی گلی کی طرف مڑا ہی تھا کہ میری نظر ایک ایسے آدمی پر پڑی جس کی شیو بڑھی ہوئی تھی اور بال کندھوں سے نیچے آرہے تھے. اس نے خود کا ایسا حلیہ ترتیب دیا ہوا تھا کہ واضح تھا کہ وہ اپنا کوئی خیال نہیں رکھتا تھا. میں نے اسے بغل میں کیا اور نائی کی دکان میں واپس چلتا بنا. مجھے پھر اندر داخل ہوتے دیکھ کر نائی چونک گیا. میں نے اندر جا کر بولا کہ اس دنیا میں کوئی نائی نہیں ہوتے. وہ بولا بھائی کیسی عجیب بات کر رہے ہو؟ ابھی ابھی میں نے تمہاری کیا خوب حجامت بنائی .اپنے آپ کو ذرا آئینے میں دیکھو کیسے لش پش لگ رہے ہو اور کہتے ہو کہ نائی نہیں ہوتے. اس آدمی نے جواب دیا کہ تم نے بولا کہ ایسے لوگ ہیں جن پر ظلم ہو رہا ہے تو خدا نہیں ہوتا، تو یہ دیکھو اس آدمی کے بال دیکھو اس کی بڑھی ہوئی شیو دیکھو اور مجھے بتاؤ کہ اگر نائی ہوتے ہیں تو دنیا میں کوئی بھی ایسی حالت میں کیونکر ہے؟ وہ بولا نہیں نہیں..بھائی اصل میں بات یہ ہے کہ نائی تو ہر چوراہے پر ایک دکان کھولے بیٹھا ہے ...حقیقت یہ ہے کہ جو لا پرواہ ہوتے ہیں وہ نائی کے پاس خود نہیں جاتے. میں مسکرانے لگا اور میں نے اس کے نزدیک ہو کر نرمی سے بولا کہ میرے دوست بالکل ٹھیک بولا آپ نے اور بالکل اسی طرح خدا تو ہے مگر جو بھی مشکل میں گھرا ہے وہ خود اس کے پاس نہیں جاتا. اپنے کاموں کے بننے کے لیے وہ اللہ سے رجوع ہی نہیں کرتا. جو دعا ہی نہ مانگے، عبادت ہی نہ کرے تو پھر اللہ کا کیا قصور کہ اس کی دنیاوی زندگی بری ہے یا وہ کسی ظلم و ستم کا نشانہ بن جاتا ہے. زیادہ تر وہ لوگ ڈرگز، چوری چکاری اور دو نمبری کرتے ہیں جو اللہ سے دور ہوتے ہیں.اپنے آپ کو چیک کریں کہ آپ اللہ کے کتنے فرمانبردار ہیں اور کتنے مقرب ہوں گے. آپ کو سب سمجھ آجائے گا کہ آپ کے دنیاوی حالات کیسے ہیں اور کیوں ویسے ہیں.

..