دس سال تک گونگابن کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے والے اُس جھوٹے نبی کا ایسا شعبدہ کہ جو کوئی اس کے چہرے کو دیکھتا اسکا دل ۔۔۔
Can't connect right now! retry

دس سال تک گونگابن کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے والے اُس جھوٹے نبی کا ایسا شعبدہ کہ جو کوئی اس کے چہرے کو دیکھتا اسکا دل ۔۔۔

لاہور (قدرت روزنامہ14جنوری2017)شعبدہ بازی اور شیطان کی پیروی کرتے ہوئے جن بدبختوں نے نبوت کا جھوٹادعویٰ کیا بالاخر وہ اپنے باطلانہ عقائید کے ساتھ انجام تک پہنچے ،ان سیاہ کار کذابوں میں ایک اسحاق اخر س مغربی بھی تھا جس کے پیروکار عمان میں آج بھی پائے جاتے اور گمراہی کا سبب بن رہے ہیں .خلیفہ ابوجعفر منصور عباسی کے دور خلافت میں اس بدبخت نے جنم لیا اور مخلتف مذہبی کتابوں کا مطالعہ اور زبانیں سیکھ کر اس نے گمراہی کا ایسا دلفریب جال پھیلایا کہ عام اور خاص بھی اسکے شیطانی شعبدوں کو دیکھ کر اسے سامنے سرنگوں ہوگئے تھے.

اسحاق اخرس 135 ھ میں اصفہان میں ظاہر ہوا. ان ایام میں ممالک اسلامیہ پر خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی کا پرچم اقبال لہرا رہا تھا.

محقیقین نے اس کی دکان آرائی کی کیفیت اس طرح لکھی ہے کہ پہلے اس نے صحفِ آسمانی قرآن، تورات، انجیل اور زبور کی تعلیم حاصل کی. پھر جمیع علوم رسمیہ کی تکمیل کی. زمانہ دراز تک مختلف زبانیں سیکھتا رہا. مختلف اقسام کی صناعیوں اور شعبدہ بازیوں میں مہارت پیدا کی. اور ہر طرح سے باکمال اور بالغ النظر ہو کر اصفہان آیا اور دس سال تک گونگا بنا رہاتھا . اصفہان پہنچ کر اس نے ایک عربی مدرسہ میں قیام کیا اور یہیں کی ایک تنگ و تار یک کوٹھڑی میں اس نے اپنی زبان پر ایسی مہر سکوت لگائے رکھی کہ ہر شخص اسے گونگا یقین کرتا رہا. اس شخص نے خود کو جاہل ثابت کرنے کے اشاروں کنایوں سے اپنا تاثر قائم کیا . دس سال کی طویل مدت میں کسی کو وہم و گمان تک نہ ہوا کہ وہ علم و علوم رکھتا ہے . اسی بنا پر یہ اخرس یعنی گونگے کے لقب سے مشہور ہو گیاتھا. ہمیشہ اشاروں سے اظہار مدعا کرتا. لوگ اس کے ساتھ اشاروں کنایوں سے تھوڑا بہت مذاق کر کے تفریح طبع کرتے تھے . اتنی صبر آزما مدت گزار لینے کے بعد آخر وہ وقت آگیا جبکہ مہر سکوت توڑ دی اور لوگوں کو اپنے شعبدوں سے متاثر کرنے لگا. اس نے نہایت رازداری کے ساتھ ایک نہایت نفیس قسم کا روغن تیار کیا. اس روغن میں یہ صفت تھی کہ اگر کوئی شخص اسے چہرے پر مل لیتا تو اس درجہ حسن و تجلی پیدا ہو تی کہ کوئی شخص شدت انوار سے اس کے’’ نورانی چہرے‘‘ کو دیکھنے کی تاب نہ لا سکتا.

اسی طرح اس نے خاص قسم کی دورنگ دار شمعیں بھی تیار کر لیں . یہ کام کرنے کے بعد ایک رات جبکہ تمام لوگ محو خواب و استراحت تھے، اس نے وہ روغن اپنے چہرہ پر ملا اور شمعیں جلا کر سامنے رکھ دیں. ان کی روشنی میں چہرہ میں ایسی رعنائی اور دلفریبی اور چمک دمک پیدا ہوئی کہ آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں. اس کے بعد اس نے اس زور سے چیخنا شروع کیا کہ مدرسہ کے تمام مکین جاگ اٹھے. جب لوگ اس کے پاس آئے تو اٹھ کر نماز میں مشغول ہو گیا اور ایسی خوش الحانی اور تجوید کے ساتھ بہ آواز بلند قرآن پڑھنے لگا کہ بڑے بڑے قاری بھی عش عش کر گئے. مدرسہ کے علمااور طلبا پر اسکا گہرا اثر ہوا اور یہیں سے اسکی جھوٹی نبوت کا سفر شروع ہوگیا.اسکی شیطانی تجلیات کا چرچا راتوں رات پھیل گیا اور وزرا جوق در جوق اسکو دیکھنے چلے آئے.اسحاق کا جادو چل گیا اور اسکے پیروکاروں نے ایک بھاری جمعیت اور اثر اس تیزی سے پیدا کیا کہ خلیفہ نے جب اسکی سرکوبی کرنا چاہی تو اسے پہلے پہل کامیابی نہ ہوئی لیکن پھر خلیفہ ابو جعفرمنصور نے بھرپور معرکہ کے بعد اسکو جہنم رسید کردیا.

..