دور ِنبویؐ کا ایسا کنواں جس سے پانی کے علاوہ کروڑوں ریال کی آمدن بھی ہوتی ہے، مگر کیسے؟نبی کریم ﷺ کے جلیل القدر صحابیؓ کے نام سعودی حکومت سینکڑوں سال گزرنے کے بعد پانی اور بجلی کا بل آج بھی کیوں بھیجتی ہے، دلچسپ معلومات - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

دور ِنبویؐ کا ایسا کنواں جس سے پانی کے علاوہ کروڑوں ریال کی آمدن بھی ہوتی ہے، مگر کیسے؟نبی کریم ﷺ کے جلیل القدر صحابیؓ کے نام سعودی حکومت سینکڑوں سال گزرنے کے بعد پانی اور بجلی کا بل آج بھی کیوں بھیجتی ہے، دلچسپ معلومات


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) مدینہ منورہ کی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سائنسی محقق عبداللہ محمد کابر نے بتایا ہے کہ دور نبوی کے سات کنوؤں میں سے بئر رومہ1400سال بعد بھی لوگوں کی پیاس بجھارہا ہے،عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مدینہ منورہ کو کنوؤں کا شہر بھی کہا جاتا ہے. سیرت مطہرہ کے مطالعے کے دوران مدینہ منورہ میں دور نبوت میں کئی کنوؤں کا تذکرہ ملتا ہے.

ان میں ایک کنواں خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے خرید کر فی سبیل اللہ وقف کردیا تھا. کتب سیر میں اس کنویں کا نام بئر رومہ ملتا ہے. حضرت عثمان کا حضرت عثمان کا یہ صدقہ جاری 1400 سو سال سے پیاسوں کی پیاس بجھاتا چلا آ رہا ہے.بئر رومہ مسجد نبوی سے کچھ فاصلے پر کھجوروں کے ایک باغ کے درمیان واقع ہے. اس باغ میں مختلف انواع کی کھجوروں کے درخت ہیں. ان میں سب سے اہم عجوہ کھجور ہے. اس کے علاوہ وہاں پر مختلف پھول دار پودے بھی گائے جاتے ہیں.مدینہ منورہ کی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سائنسی محقق عبداللہ محمد کابر نے بتایا کہ صحابی رسول سید نا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا وقف کردہ کنواں عہد نبوت کے سات کنوؤں میں سے ایک ہے.

دیگر چھ کنوؤں کو اریس، غرس، بضاعہ، بصہ، حاء اور العھن کہاجاتا ہے.بئر رومہ کے متعلق مزید معلومات یقیناََ قارئین کیلئے نہایت دلچسپ ہو گی.قارئین کو بتاتے چلیں کہ سعودی عرب کے ایک بینک میں خلیفہء سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آج بھی کرنٹ اکاونٹ ہے.!!یہ جان کر آپ کو حیرت ہو گی کہ مدینہ منورہ کی میونسپلٹی میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر باقاعدہ جائیداد رجسٹرڈ ہے . آج بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر بجلی اور پانی کا بل آتا ہے. کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد نبوی کے پاس ایک عالی شان رہائشی ہوٹل زیر تعمیر جس کانام عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوٹل ہے ؟؟ تفصیل جاننا چاہیں گے ؟؟ یہ وہ عظیم صدقہ جاریہ ہے جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صدق نیت کا نتیجہ ہے.جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پینے کے صاف پانی کی بڑی قلت تھی. ایک یہودی کا کنواں تھا جو مسلمانوں کو پانی مہنگے داموں فروخت کرتا تھا. اس کنویں کا نام “بئر رومہ” یعنی رومہ کنواں تھا.مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور اپنی پریشانی سے آگاہ کیا. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کون ہے جو یہ کنواں خریدے اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دے .

ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں چشمہ عطاء کرے گا ” حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہودی کے پاس گئے اور کنواں خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا . کنواں چونکہ منافع بخش آمدنی کا ذریعہ تھااس لیے یہودی نے فروخت کرنے سے انکار کر دیا. حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ تدبیر کی کہ یہودی سے کہا پورا کنواں نہ سہی ، آدھا کنواں مجھے فروخت کر دو، آدھا کنواں فروخت کرنے پر ایک دن کنویں کا پانی تمہارا ھو گا اور دوسرے دن میرا ہو گا.. یہودی لالچ میں آ گیا . اس نے سوچا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دن میں پانی زیادہ پیسوں میں فرخت کریں گے ،اس طرح زیادہ منافع کمانے کا موقع مل جائے گا.

..

مزید خبریں :