قرآن مجید کی وہ پیشن گوئی جس پر حضرت ابوبکر ؓ نے شرط لگائی اور جو بعد میں سچ ثابت ہوئی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

قرآن مجید کی وہ پیشن گوئی جس پر حضرت ابوبکر ؓ نے شرط لگائی اور جو بعد میں سچ ثابت ہوئی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) محمد الرسول اللہ ﷺ جب اس دنیا میں تشریف لائے تو کرہ ارض کے سیاسی افق پر دو طاقتیں مرکزی حیثیت رکھتی تھیَ ایک رومن ایمپائر اوردوسری ایرانی سلطنت. رومن ایمپائر مسیحی مذہب کی نام لیوا تھی اور ایرانی سلطنت مجوسیت کی علمبردار .

ان دونوں ریاستوں میں 603ء یعنی حضرت محمدؐ کی نبوت سے 8برس پہلے خوفناک جنگوں کا آغاز ہوا.ان جنگوں کی وجہ یہ تھی کہ سلطنت روم میں قیصرماریس کا تختہ الٹ دیا گیا اور اس کی جگہ فوکاس( Phocas) سلطنت پر قابض ہو گیا. اس زمانے میں حکومتوں کا یوں بدل جانا کوئی انوکھا واقعہ نہیں انوکھا واقعہ نہیں تھا مگر فوکاس جس طرح حکومت پر قابض ہوا وہ بہت ہی دل ہلا دینے والا واقعہ تھا. ایک تو فوکاس کا قیصر ماریس کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا. دوسرا یہ کہ اس نے قیصر ماریس کے پانچوں بیٹے اس کی آنکھوں کے سامنے ذبح کر دئیے اور اس کے بعد اسے بھی موت کی نیند سلا دیا گیا اور پھر اسی پر بس نہیں کیا‘ بلکہ سبکے سروں کو کاٹ کر شہر کے بڑے بڑے چوراہوں میں لٹکا دیا گیا. چند دنوں کے بعد ماریس کی بیوی اورمفرور شہزادیوں کوبھی قتل کر دیا گیا.

یوں پورے کا پورا خاندان انتہائی سفاکی سے ختم کر دیاگیا.قیصر ماریس کی حکومت کے خاتمے اور اس کے خاندان کے ساتھ کیے جانے والا یہ سلوک ایرانی حکمران خسروپرویز کے لیے ناقابل برداشت تھا. کیونکہ دونوں کے درمیان بڑے اچھے تعلقات تھے. اس کی وجہ یہ تھی کہ قتل ہونے والے قیصر ماریس نے ایرانی سلطنت کے حکمران خسرو پرویز پربڑے احسان کیے ہوئے تھے. اسی وجہ سے یہ ایرانی حکمران خسرو پرویز ماریس کو اپنا باپ کہتا تھا. فوکاس کے ماریس پر کیے اس ظلم پر خسرو بہت برہم ہوا اور اس نے اعلان کیاکہ جب تک روم پر فوکاس کی حکمرانی ختم نہیں ہوجاتی وہ چین سے نہیں بیٹھے گا اور اپنے محسن قیصر ماریس کا بدلہ لے کر رہے گا. چنانچہ603ء میں اس نے روم پر حملہ کر دیا. چند ہی برسوں میں وہ فوکاس کو شکستوں پر شکستیں دیتا ہوا شام میں انطاکیہ کے شہر پہنچ گیا. جس سے شہر روم کے بڑے بڑے لوگ فکر مند ہو گئے.انہوں نے مشورے کے بعد افریقہ کے گورنر سے مدد طلب کی . اس نے اپنے بیٹے ہر قل(Heraclus) کو اپنے طاقت ور بحری جہاز سے ذریعے قسطنطنیہ بھیجا. ہر قل نے آتے ہیں فوکاس کو چلتا کیا اور اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ماریس کے ساتھ کیا تھا یعنی اس کے سارے خاندان کو ختم کر دیا اور فوکاس سمیت سب کے سر قلم کر کے چوراہوں پر لٹکا دیئے.

یہ 610ء کاواقعہ ہے اور اسی برس دنیا میں ایک عظیم واقعہ ہو چکا تھا. مکہ میں اللہ کے آخری نبی حضرت محمدﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان کر دیا تھا.فوکاس کا بدلہ اسے مل چکا تھا‘ اس خبر کے بعد ایران کے خسرو پرویز کو چاہیے تھا کہ وہ بھی جنگ بند کر دیتا کیونکہ اس کی جنگ کا اصل مقصد فوکاس کو سزا دینا تھا نہ کہ روم کی سلطنت کو ختم کرنا! مگر خسرو نے یہ کام نہ کیا بلکہ اس کے برعکس اس نے ہر قل کی صلح کی درخواست کو رد کردیا اور کہا کہ وہ روم کی اینٹ سے اینٹ بجا کر دم لے گا. دراصل

..