لپ سٹک - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

لپ سٹک


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) ایک صاحب کسی جگہ لپ سٹک کے خلاف تقریر کر رہے تھے‘ ان کا کہنا تھا لپ سٹک استعمال کرنے والی عورتیں جہنمی ہوتی ہیں اور انہیں حشر کے دن اس بے ہودگی کاحساب دینا ہو گا وغیرہ وغیرہ‘ تقریر سننے والوں میں سے کسی نے ہاتھ اٹھا کر عرض کیا ”حضور‘ آپ کی تو اپنی بیگم لپ سٹک استعمال کرتی ہے‘ وہ صاحب کھسیانے ہو گئے اور بولے لیکن میری بیوی کو لپ سٹک جچتی بھی تو بہت ہے. عصرِ حاضر کے تناظر میں عہد رسالت کی عدالتی کارروائیاں بے شک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا اُسوہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے. پیدا ہونے سے لے کر وفات تک پائے جانے والے تمام شعبہ ہائے زندگی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی کا نمونہ ہمارے لیے موجود ہے.

زندگی کا کوئی بھی شعبہ اٹھالیں ، سنت کے مطابق زندگی گزارنے کا کوئی نہ کوئی اصول ضرور ملتا ہے. اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو تقریباً ہر شعبۂ زندگی پر فائز کرکے آنے والوں کے لیے نمونہ بنایاہے. آپ کی حیات مبارکہ میں سفر ہو یا حضر ، داخلی معاملات ہوں یا خارجی ، خلوت ہو یا جلوت، امن ہو یا جنگ الغرض ہر شعبہ اور معاملہ میں سیرت النبی صلی اﷲ علیہ وسلم پر عمل کرنے کے بہترین اصول نمایاں ہیں. بے شک اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو معلم بناکر دنیا میں بھیجا ، لیکن اگر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت کا بغو ر مطالعہ کیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو صرف معلم بناکر نہیں بھیجا بلکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کہیں معلم کی حیثیت سے نمایاں ہوتی ہے ، کہیں ایک بہترین قانون ساز کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آتی ہے اور کہیں بہترین مربی اور تربیت ساز کی حیثیت سے واضح ہوتی ہے.

اسی طرح آقا کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک شعبہ اور منصب قضا کا بھی ہے. آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بحیثیت قاضی کئی فیصلے نافذ فرمائے . قضا کا شعبہ نہایت اہم شعبہ ہے . اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اﷲ رب العزت نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا.اﷲ رب العزت نے قرآن کریم میں عدل کرنے کو تقویٰ کے قریب قرار دیا ہے. قرآن مجید کی متعدد آیات میں عدل کرنے کا حکم دیا گیاہے. چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ اور فرمادیجیے میں اس کتاب پر ایمان رکھتا ہوں جو اﷲ نے نازل فرمائی ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل قائم کروں‘‘. (سورۃ الشوریٰ: ۱۵). ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: ’’اور کہہ دیجیے کہ میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے‘‘.(سورۃ الاعراف ۲۹). ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ اور جب آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں‘‘. (سورۃ المائدہ: ۴۲) آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عدالت سے انصاف کا حصول نہایت آسان تھا. کسی بھی قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عدالت سے جلد از جلد اور بآسانی انصاف حاصل کرلیتا. اسی طرح آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عدالت سے کوئی بھی مجرم بغیر سزا پائے نہیں لوٹتا تھا، اگرچہ اس کا تعلق کسی اعلیٰ قبیلے سے ہوتا. آپ صلی اﷲ علیہ وسلم مجرم کے حق میں کسی کی سفارش قبول کیے بغیر سزا سنادیتے اور اس پر عملدرآمد کردیا جاتا. آقا کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے لوگوں کو بھی حدود اﷲ میں سفارش کرنے سے بھی منع فرمایا.چنانچہ ارشاد فرمایا: اﷲ کی حدود دور و نزدیک سب پر قائم کرو اور کہیں تمہیں لوگوں کی ملامت اس عمل سے روک نہ دے. (ابن ماجہ : ۲۰۵۸) مزید ارشاد فرمایا: حدودِ الٰہی میں سے کسی حد میں جس شخص کی سفارش حائل ہوگئی تو وہ اﷲ کے حکم میں اﷲ کی مخالفت کرنے والا ہے. (ابو داؤد: ۳۰۶۶) آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بذاتِ خود اس پر عمل کرکے قیامت تک آنے والوں کے لیے ایک عظیم مثال قائم کی ہے . حدود اﷲ میں سفارش قبول نہ کرنے کے متعلق ایک مشہور حدیث شریف متعدد کتبِ حدیث میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ ایک چوری کرنے والی مخزومی عورت کے معاملے نے قریش کو پریشان کردیا. لوگوں نے مشورہ کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ انہوں نے کہا: اسامہ رضی اﷲ عنہ کے سوا کوئی اس کی جرأت نہیں کرے گا

کیونکہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چہیتے ہیں. حضرت اسامہ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اﷲ کی حدود میں سفارش کرتے ہو؟ پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ ان میں جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑدیتے ، جب کوئی ادنیٰ شخص چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے . اﷲ کی قسم ! اگر محمد( صلی اﷲ علیہ وسلم )کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا. (بخاریـ ۶۷۸۸) آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عدالت میں چوری کے متعدد واقعات رونما ہوئے جن میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بعض اوقات چور کو اقبالِ جرم کرنے پر سزا سنائی اور بعض اوقات آپ صلی اﷲ علیہ وسلم چوری کے معاملے میں تفتیش و تحقیق کے بعد مجرم کو سزا کا حقدار ٹھہرا تے تھے، محض کسی کے کہنے یا الزام لگانے پر فیصلہ نہیں سناتے تھے .حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے ایک چادر چوری کی تھی. لوگوں نے کہا: اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اس نے چوری کی ہے. رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا نہیں خیال کہ اس نے چوری کی ہے. چور نے اثبات میں جواب دیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور کاٹ دو. پھر اسے داغو اور میرے پاس لے آؤ ، جب اس کا ہاتھ کاٹ کر لایا گیا تو فرمایا: اﷲ سے توبہ کر ، اس نے جواباً کہا: میں اﷲ سے توبہ کرتا ہوں. آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تیری توبہ قبول کرے. (سنن نسائی : ۴۸۷۷) حضرت صفوان رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیت اﷲ کا طواف کیا اور نماز پڑھی ، پھر اپنی چادر کو لپیٹا اور اسے سر کے نیچے رکھ کر سوگئے . ایک چور آیا، اس نے چادر کو ان کے سر کے نیچے سے نکال لیا. انہوں نے اس چور کو پکڑ لیااور کہا: اس آدمی نے میری چادر چوری کی ہے. آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا : کیا تم نے اس کی چادر چوری کی ہے ؟ تو اس نے اثبات میں جواب دیا . آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس چور کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو. صفوان کہنے لگے: میں یہ نہیں چاہتا کہ میری چادر کے بدلے میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے . آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کام تم نے پہلے کیوں نہیں کیا؟ (سنن نسائی: ۴۵۳۵) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ چور ی کا معاملہ اگر قاضی کے روبرو آجائے تو قاضی اسے سزا دیے بغیر نہیں چھوڑ سکتا .

..

مزید خبریں :

سروے