گرم کھانا کبھی بھی شاپر میں نہ ڈالیں ورنہ - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

گرم کھانا کبھی بھی شاپر میں نہ ڈالیں ورنہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) وقت گزرنے  کے ساتھ انسان ٹیکنالوجی کا عادی اور سہولت پسند ہوتا جا رہاہے جس کی وجہ سے بہت سی بیماریاں انسان کو لاحق ہو رہی ہے جس کا تصور پہلے لوگوںمیں نہیں ہوتا تھا اور کسی کسی کو وہ بیماری لگ جاتی تھی جیسے کینسر وغیرہ . آج کل کے تیز ترین دور میں ہر انسان مصروف ہوتا ہے اور کام کاج کے دوران اتنا وقت نہیں نکال پاتا کہ اپنے لئے کھانا بنا لیں یا گھر سے ہی کھانا لے آئیں .

ضرور پڑھیں: عمران خان کے آنسوؤں نے کئی لوگوں کو آبدیدہ کر دیا

اس کی وجہ سے ہوٹل کی طرف رجوع ہوتا ہے . لیکن اس میں جو سب سے خطرناک بات ہے وہ گرم سالن کا پلاسٹک کے شاپر میں ڈالنا ہے جو کہ انسانی صحت کے لئے زہر ہوتا ہے اور اس سے کینر جیسی بیماری لگ سکتی ہے . اوون عام ھوا اور لوگون نے اسے عجوبہ اور انتہائی آسان طریقہ سے پلاسٹک کے برتن مین کھانا گرم کرنا اپنا شغل بنا لیا اور زھریلا کیمیکل BPA اس کھانے مین شامل ھو کر لوگون کے جسم مین منتقل ھوتا رھا اور کینسر طوفانی سپیڈ سے پاکستان مین آ گیا . ...اب اس پہلی بات کی طرف آتا ھون جب پیٹریکا ھنڈ چوھون کے تولیدی نظام پہ تحقیق کرتے ھوۓ اس موذی کیمیکل تک پہنچی تو امریکہ مین طوفانی انداز مین اس پر تحقیق شروع کر دی اس دوران اب مختلف لوگون کے پیشاب لے کر انہین چیک کیا گیا تو انکشاف ھوا کہ%93 لوگون کے پیشاب مین BPA کیمیکل نارمل ویلیو سے زیادہ آ رھا تھا . اب سائینسدانون نے اس پہ قابو پانے کے لئے پلاسٹک کا ایک سٹینڈر سکیل تیار کیا جسے BPA فری پلاسٹک کا نام دیا گیا . اب امریکہ مین ھر پلاسٹک کے اس برتن کو کھلونون کو اور ھر ایسی پلاسٹک کو ختم کیا جا رھا ھے

جس مین BPA کی مقدار زیادہ ھو حکومت امریکہ نے پابندی لگا دی ھے . اب پلاسٹک کی سات قسمین سامنے آئین جن مین . ‘ 1.. pete .....2 . hope ... 3. v ... 4..Lope .. 5..pp .... 6..ps .... 7..other ...یہ ھین سات قسمین اب ان 7 قسمون مین صرف تین محفوظ قسمین ھین جن مین 2 . 4 . 5 ھین اب یورپ اور امریکہ مین ھر پلاسٹک کی چیز پہ سٹیکر لگا ھوتا ھے جو تکونی شکل کا دائرہ بنا ھوتا ھے اور اس مین مذکورہ نمبر اور قسم لکھی ھوتی ھے جس مین لوگون کو باقائدہ ھدایت ھے کہ دو .. چار .. پانچ قسم کی پلاسٹک محفوظ ھین آپ استعمال کر سکتے ھین اس کے علاوہ قسمون کو کھانے پینے اور کھلونے وغیرہ بھی استعمال ممنوع ھو چکا ھے اور ھم ھین پاکستانی جہان نہ عوام کو شعور ھے اور نہ ھی حکومت نے ایسی کوئی ھدایت عوام کو دی ھے . زھریلے پلاسٹک تو رھا ایک طرف یہان غریب طبقہ کچرے کے ڈھیرون سے پلاسٹک کے شاپر یا دیگر اشیاء اٹھا کر مارکیٹ مین فروخت کرتے ھین جن سے دوبارہ عالی شان شاپر برتن اور کھلونا بن کر مارکیٹ مین پڑا ھوتا ھے جسے غریب سستے دامون اور امیر مہنگے دامون موت کی شکل مین خرید رھا ھوتا ھے یہ تھا پاکستان مین کینسر پھیلنے کا سبب .. جہان حکومت نے آج تک کچھ بھی نہین بتایا

عوام کو اور نہ ھی کوئی پابندی لگی حکومت کے کرنے کے کام تو نہیں ہوتے لیکن ہمیں خود کو شش تو کرنی چاہئے ہمیں چاہئے کہ ایک صحت مند زندگی گزارنے کا سلیقہ جان لین اس کے ساتھ بازاری کھانوں کو جو جیب اور پیٹ دونوں پر بھاری ہوتے ہیں ان سے جان چھڑائیں اور سادہ گھر کا تازہ کھانا کھائے . اور خآص کر پلاسٹک کا استعمال بالکل ترک کردیں . تاکہ کسی بھی قسم کی بیماری جو اس کے استعمال سے لاحق ہوتی ہے ان سے بچا جا سکے .

..

ضرور پڑھیں: پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا آغاز ہی شور شرابے سے ہوا ن لیگ کے اراکین نے اسمبلی اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا