کئی دہائیوں تک امریکہ کے لیے درد سر بنے رہنے والے اسامہ بن لادن کے اہل و اعیال کہاں موجود ہیں ؟ یہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں ؟تازہ ترین تفصیلات نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

کئی دہائیوں تک امریکہ کے لیے درد سر بنے رہنے والے اسامہ بن لادن کے اہل و اعیال کہاں موجود ہیں ؟ یہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں ؟تازہ ترین تفصیلات نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ31جنوری2018) انتخاب کئی دہائیوں تک امریکی انتظامیہ کے لیے درد سر بنے رہنے والے اسامہ بن لادن اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں مگر اب القاعدہ تنظیم کے بانی اور سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کی دوسری نسل میں اکثریت کو عربی زبان سے زیادہ اردو اور پشتو زبانیں بولنے پر زیادہ عبور حاصل ہے. یہ بچے روایتی افغان لباس کے عادی ہیں جب کہ اسامہ کی بیویوں نے روایتی سیاہ خلیجی برقعوں کو افغانی برقعوں سے تبدیل کر لیا.

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسامہ کے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں میں کسی ایک جغرافیائی ٹھکانے کی شباہت ظاہر نہیں ہوتی. ان میں سنہرے بال اور نیلی آنکھوں والے بھی ہیں جب کہ دیگر بعض خلیجی خدوخال کے مالک ہیں.اسامہ نے اپنے بیٹے محمد کی شادی القاعدہ کے مصری شدت پسند رہ نما ابو حفص المصری کی بیٹی سے کی جب کہ اسامہ کے بیٹے سعد نے شادی کے لیے اپنے والد کے ایک سوڈانی ساتھی کی بیٹی کا انتخاب کیا. حمزہ بن لادن نے ابو محمد المصری کی بیٹی سے شادی کی جب کہ عثمان بن لادن نے تنظیم کے رہ نما سیف العدل کی بیٹی صفیہ کو اپنی دوسری بیوی بنانے کا فیصلہ کیا.جہاں تک اسامہ کی بیٹیوں کا تعلق ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اسامہ نے خلیج کے عرف کا خیال رکھتے ہوئے کوشش کی کہ دامادوں کا انتخاب سعودی یا خلیجی مردوں میں سے ہی کیا جائے.

قندھار میں قیام کے دوران 1999 میں اسامہ نے اپنی 12 سالہ بیٹی فاطمہ کی شادی سلیمان ابو غیث الکویتی سے کی. اسی طرح اپنی ایک دوسری 11 سالہ بیٹی خدیجہ کی شادی مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے عبداللہ الحلبی سے کی. البتہ متعلقہ دستاویزات سے اسامہ کی بیٹیوں مريم، سميہ اور ایمان کی شادیوں کے بارے میں معلومات نہیں ملتی ہیں.ایبٹ آباد دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسامہ کا بیٹا خالد اپنے باپ کے ایک مقرب رہ نما “ابو عبد الرحمن” کی بیٹی سے شادی کا خواہش مند تھا تاہم سکیورٹی وجوہات کے سبب اس پر عمل نہیں ہو سکا اور 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن میں جاں بحق ہو گیا.ابیٹ آباد دستاویزات میں شامل وڈیو کلپوں سے معلوم ہوتا ہے کہ القاعدہ جنگجوؤں کی خواتین زندگی کی سادہ ترین سہولیات سے بھی محروم تھیں. ایک طرف ان کو اپنے مردوں کے لیے مزید وارثوں کو جنم دینا ہوتا تھا تو دوسری جانب ان پر یہ ذمّے داری بھی تھی کہ وہ بچوں سے بھرے ہوئے گھر میں بجلی ، ریفرجریٹر اور یہاں تک کہ پانی کے بھی بغیر کھانے اور پینے کی اشیاء فراہم کریں.وڈیو کلپوں میں بن لادن کے بچوں اور بچوں کے بچّے مختلف مناظر میں نظر آتے ہیں جو وزیرستان اور ایران کے درمیان تتر بتر ہو گئے تھے.

ان میں بہت سے بچے ملیریا اور ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہو کر مناسب علاج نہ ملنے کے سبب دنیا سے رخصت ہو گئے.دستاویزات میں کارٹون فلموں اور بچوں کی عربی نظموں کے وڈیو کلپ بھی شامل ہیں جن کے ذریعے یہ بچّے اپنا طویل وقت گزارا کرتے تھے.سال 2011 میں منظر عام پر آنے والی ایک کتاب میں اسامہ بن لادن کی پہلی بیوی نجوی غانم اور اس کے بیٹے عمر کی جانب سے کافی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں. کتاب پڑھنے والے کے سامنے یہ بات آئے گی کہ عمر بن لادن نے اس میں بہت سی ایسی باتیں کی ہیں جو وہ اپنے والد کے ساتھ گزارے گئے طویل برسوں کے دوران القاعدہ کے سربراہ کے سامنے نہیں بول پایا.سال 1990 کے بعد سے اسامہ بن لادن نے چار بیویوں اور 14 بیٹوں پر مشتمل بڑے خاندان کو آگاہ کر دیا تھا کہ انہیں سعودی عرب میں خود سے متعلق ہر چیز اور ہر شخص کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر سوڈان کے دارالحکومت خرطوم منتقل ہونا پڑے گا. تورا بورا اور تہران کے مضافات میں پہنچنے سے قبل خرطوم ان لوگوں کے لیے محض پہلی منزل تھی.جدہ کے ہوائی اڈّے پر کھڑے طیارے میں 19 افراد سوار ہوئے جن میں نجوی غانم اور اس کے 8 بچّے شامل تھے. ان بچّوں میں عبد الله (15 برس)، عبد الرحمن (13 برس)، سعد (11برس)، عمر (10 برس)، عثمان (8 برس)، محمد (6 برس)، فاطمہ (4 برس) اور ایمان (ایک برس) شامل ہیں. ان کے علاوہ اسامہ کی دوسری بیوی خدیجہ الشریف اپنے تین بچوں علی (7 برس)، عامر (2 برس) اور عائشة کے ہمراہ تھی. اسی طرح اسامہ کی تیسری بیوی “خيريہ صابر اپنے اکلوتے بیٹے اور القاعدہ تنظیم کے جاں نشیں حمزہ (3 برس) کے ساتھ اس قافلے کا حصّہ تھی. مزید برآں اسامہ کی چوتھی بیوی سہام صابر اور اس کے تین بچّے خديجہ (4 برس)، خالد (3 برس) اور مریم (1 برس) شامل تھے.

سوڈان میں 22 کمروں پر مشتمل تین منزلہ گھر میں قیام کے دوران اسامہ بن لادن کی مزید بچوں کی پیدائش ہوئی جن کے نام عامر، سميہ، عائشہ اور بکر ہیں.سوڈانی حکومت کی جانب سے بن لادن کو ملک سے کوچ کر جانے کی ہدایت موصول ہوئی تو القاعدہ سربراہ نے افغانستان کے شہر جلال آباد کا رخ کیا.سوڈان میں قیام کے دوران اسامہ کے اہل خانہ کے منتشر ہونے کا سلسلہ شروع ہوا. اس کی بیوی خدیجہ الشریف نے اپنے تین بچوں علی، عامر اور عائشہ کے ساتھ سعودی عرب واپسی کا فیصلہ کیا. کچھ ہی عرصے بعد اسامہ کا سب سے بڑا بیٹا عبد الله (15 برس) بھی ان لوگوں سے جا ملا.سال 2000 میں اپنے والد کا ساتھ چھوڑ جانے والے اسامہ کے بیٹے عمر نے اپنی یادداشتوں میں ذکر کیا ہے کہ سعودی عرب کی شہریت واپس لیے جانے کی صورت میں انہیں ایک بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑا.تورا بورا کے پہاڑوں میں بن لادن نے اپنی تین بیویوں اور ان کے بچوں کے لیے تین متصل غاروں کا انتخاب کیا. اس دوران اسامہ بن لادن کے مزید بچوں نے جنم لیا یہاں تک کہ اس کی یمنی بیوی امل السادہ بھی اس خاندان سے آ ملی.سال 2010 میں خالد بن لادن کے ایک خط میں اسامہ بن لادن کے نئے بچوں کے نام ملتے ہیں. ان میں آسيہ ، عائشہ ، ابراہیم ، اسامہ ، زینب ، سہام ، حسين ، صفيہ ، عبداللہ شامل ہیں. اس طرح اسامہ بن لادن کے بچوں کی مجموعی تعداد 30 کے قریب پہنچ گئی.سال 2011 میں آخرکار اسامہ نے اپنی پہلی بیوی نجوی کو صرف ایک بیٹے عبدالرحمن اور دو بیٹیوں رقیہ اور نور کے ساتھ اس کے وطن شام جانے کی اجازت دے دی.

ایبٹ آباد میں موجود اسامہ بن لادن کی دیگر تین بیویوں اور 11 بچوں کو پاکستانی حکام کی جانب سے حوالے کیے جانے کے بعد اپنے خاندانوں کو لوٹ جانے کا موقع ملا. اس سے قبل انہیں پاکستانی اراضی میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے سبب ایک برس جیل کا سامنا تھا.اسامہ کی بیٹی خدیجہ 2009 میں وزیرستان میں اپنی پانچویں بیٹی کو جنم دے کر فوت ہو گئی. تاہم اس کی بہن فاطمہ 2013 میں ایران سے نکلنے میں کامیاب رہی اور اپنے خاندان کے پاس پہنچ گئی. فاطمہ کے ساتھ اس کی دو بہنیں مریم اور سمیہ بھی تھیں.اسامہ کا بیٹا سعد ایران سے نکلنے کے بعد ایک ڈرون حملے کا شکار ہو کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا جب کہ دیگر بیٹوں کا انجام کسی کو نہیں معلوم ہو سکا. البتہ حمزہ بن لادن اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک بار پھر القاعدہ تنظیم کے عناصر کو منظم کرنے کے لیے کوشاں ہے.

..

سروے