مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کے وزیر تعلیم نے ہندوستانی فوج کے سربراہ کو ایسا جھٹکا لگا دیا کہ مودی سرکار نے خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا ،آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کھری کھری سنادیں
Can't connect right now! retry

مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کے وزیر تعلیم نے ہندوستانی فوج کے سربراہ کو ایسا جھٹکا لگا دیا کہ مودی سرکار نے خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا ،آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کھری کھری سنادیں

سری نگر(قدرت روزنامہ13-جنوری-2018)مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کے ایک اہم ترین وزیر نے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایسی کھری کھری سنا دی ہیں کہ انہیں دن میں بھی تارے نظر آنے لگے ہیں ،گذشتہ روز بھارتی فوج کے سربراہ نے بیان داغا تھا کہ ’’ مقبوضہ جموں وکشمیر کے سکولوں میں مکمل بھارت کی بجائے جموں وکشمیر کا نقشہ الگ سے دکھا کر طالب علموں کے ذہنوں میں غلط باتیں بٹھائی جارہی ہیں‘‘ہندوستانی فوج کے سربراہ کے اس بیان پر شدید اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کٹھ پتلی وزیر تعلیم سید محمد الطاف بخاری نے میدان میں آتے ہوئے جنرل بپن راوت کو للکارتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست کو تعلیم پر لیکچر  نہ دیں، ہم جانتے ہیں کہ ہم نے اپنے تعلیمی نظام کو کیسے چلانا ہے؟. بھارتی نجی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر تعلیم سید محمد الطاف بخاری نے ہندوستانی فوجی سربراہ کے اس بیان کی کھل کر مخالفت اور شدید اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کہا کہ جنرل بپن راوت ایک پیشہ ور افسر ہیں تاہم نہیں لگتا کہ وہ ایک ماہر تعلیم ہیں کہ تعلیم پر لیکچر دیں ،کوئی بھی سماج غیرتعلیمی ماہرین کی جانب سے تعلیم پر دیئے جانے والے لیکچرز  کو قبول نہیں کرے گا.

انہوں نے کہا کہ میں ماہرین تعلیم کی جانب سے دی جانے والی تجاویز اور تنقید کا تو خیر مقدم کروں گا لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی غیر ماہر تعلیم جس کا یہ شعبہ ہی نہیں وہ ہمیں بہتری کے لیکچر دے؟ہندوستانی فوجی سربراہ اپنا کام کریں اور مجھے اپنا کام کرنے دیں. سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ (جنرل بپن راوت ) یہ بات جانتے ہیں یا نہیں کہ نظام تعلیم کنکورنٹ لسٹ میں نہیں آتا ، یہ ریاست کے ڈومین میں ہے، ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو کیسے چلانا ہے؟جموں و کشمیر کے سکولوں میں پڑھنے والے بچے شدت پسندی کی طرف نہیں جا رہے، مجھے یہ معلوم نہیں کہ آرمی چیف نے کیا کہا، کس لہجہ میں کہا ، کہاں کہا اور کس اجتماع میں کہا؟ لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ جموں و کشمیر کے سکولوں میں زیر تعلیم بچے شدت پسندی کی طرف نہیں جا رہے .انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے سربراہ اپنا کام کریں، میں اپنا کام کررہا ہوں، ان کا کام سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، ان کا جو کام ہے انہیں وہ کرنا چاہیے، بحیثیت وزیر تعلیم جو میرا کام ہے میں وہ کروں گا.انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت ہوگی تو تشدد کے واقعات میں کمی آئے گی، ہمارے تعلیمی نظام میں کوئی خامی نہیں ہے کہ ریڈکلائزیشن ہو رہی ہے. سید محمد الطاف بخاری کا کہنا تھا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے جہاں فوج کا کسی چیز پر کنٹرول نہیں ہے، اگر ہندوستانی فوج اپنا کام صحیح سے انجام دے گی تو علیحدگی پسندی کہیں جنم نہیں لے گی.

..