ایسے 10 اسکول جہاں علم کے حصول کیلئے جان پر کھیل کر جانا پڑتا ہے - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ایسے 10 اسکول جہاں علم کے حصول کیلئے جان پر کھیل کر جانا پڑتا ہے


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)عموماً ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تمام اسکول ایک طرح کے ہوتے ہیں. ایک جیسی اسکول کی بسیں، کلاس رومز، پڑھائے جانے والے سبق اور کینٹین صرف لوگ مختلف ہوتے ہیں.

ضرور پڑھیں: نومنتخب وزیرا عظم عمران خان کل صدر ممنون حسین سے عہدے کا حلف لیں گے

لیکن دنیا میں بہت سے اسکول ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں جاننا آپ کو حیرت میں مبتلا کردے گا کیونکہ ان اسکولوں تک پہنچنے کے لئے تمام طالبِ علموں کو مشکل راستوں سے گزرنا پڑتا ہے.

٭ فلپائن میں موجود سوئمنگ اکیڈمی میں بچوں سے بڑوں تک سب ہی کے لئے  تیراکی سیکھنے کے مختلف لیول کےپروگرام  ہوتے ہیں، جن میں شروع سے انسٹرکٹر تک سب کچھ سکھایا جاتا ہے.

٭ امریکا میں ایک سن انٹونیو زو اسکول کا مقصد بچوں کو ماحول دوست بنانا  ہے. اس اسکول کے بچے اپنا آدھا دن زو میں گزارتے ہیں تاکہ وہ جانوروں کے ساتھ کھیل کر ان کی دنیا کو سمجھا سکیں.  

  ٭ بیونس آئرس ، ارجنٹینامیں  یہ اسکول  مشہور ترین فٹبال اسٹیڈیم کے نزدیک موجود ہے جہاں میچز کے دوران بھی کلاسیں ہوتی ہیں، بچے ایک کھڑکی کے ذریعے سارے مناظر دیکھ سکتے ہیں. اب آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ پڑھائی کرنا کتنا مشکل ہوسکتا ہے.  

  ٭ چین کا یہ اسکول بلندی پر بنایا گیا ہے جہاں پہنچنے کے لئے طالب علموں کو 90 منٹ تک  لکڑی کی طویل سیڑھی پر چڑھائی کرنی پڑتی ہے.  

  ٭ چین میں موجود یہ اسکول  سیچواں صوبے میں ہے جو بادلوں کی اونچا ئی پر واقع ہے. یہاں پہنچنے کے لئے 5 گنھنٹے کا طویل راستہ پار کرنا ہوتا ہے.

٭ یہ اسکول خاص ان لوگوں کے لئے ہے جو جنازہ سروسز میں اپنا کیرئیر بنانا چاہتے ہیں. انہیں میّت کے لواحقین  کوحوصلہ دینا اور سنبھالنا سکھایا جاتا ہے.

٭  انڈیا میں موجود اس اسکول میں 2 سال کی عمر سے ہی لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو ہی سانپ کی دیکھ بھال کرنا سکھایا جاتا ہے.

٭ بالی میں یہ اسکول جنگلات میں موجود ہے جس کی عمارت کو لکڑی کے بانس  بنایا گیا ہے. تاکہ بچوں کو ماحول دوست بنا کر قدرتی خوبصورتی کا احساس دلایا جائے اوراس کی دیکھ بھال کرنابھی سکھایا جائے.

٭ نیپال میں موجود اس اسکول تک پہنچنے کے لئے دریا کو پار کرنا ہوتا ہے، جسے چل کر پار کرنا ناممکن ہوتا ہے. اسکول تک جانے کا یہ طریقہ ہاتھوں کے چھِل جانے اور بعض اوقات موت کا بھی سبب بنتا ہے.

٭ 1937 مین بنائے جانے والا یہ اسکول  ہارورڈ فور سانتا کے نام سے جانا جاتا ہے. اس اسکول میں بچوں کو سانتا کلوز کی طرح  کے کپڑے پہننا، ہسنا، مسکرانا، رہنا اور لوگوں کو خوش رکھناسکھایا جاتا ہے.

..

ضرور پڑھیں: تبدیلی آ گئی ۔۔۔ ڈیسکون کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبد الرزاق داؤد کابینہ میں شامل ہونے کے لیے اپنی ہی کمپنی سے مستعفی

مزید خبریں :