جمرات میں جب ایک حاجی نے شیطان کیساتھ سیلفی بنائی تو ان کیساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟ جان کر حیرت زدہ رہ جائینگے - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

جمرات میں جب ایک حاجی نے شیطان کیساتھ سیلفی بنائی تو ان کیساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟ جان کر حیرت زدہ رہ جائینگے


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)ایک ”حاجی صاحب“ نے سال کی سب سے بہترین سیلفی بنانے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے اور ایسا کام کرتے ہوئے سیلفی بنائی ہے جو آج تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا. یہ حاجی صاحب فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران جب شیطان کو کنکریاں مارنے پہنچے تواس موقع پر سیلفی بنانا بھی ضروری سمجھا.

ضرور پڑھیں: حنیف عباسی ایک بار پھر جیل میں بیمار پڑ گئے

بس پھر کیا تھا، ایک ہاتھ میں سمارٹ فون تھامااور دوسرے میں کنکر پکڑ کر شیطان کو مارنے کاسٹائل بنایا اور ”کڑچ“ کر کے سیلفی بنا لی. ان کے اس انداز میں سیلفی لیتے ہوئے وہاں موجود ایک اور نامعلوم شخص نے تصویر بنا لی جو سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی ہے اور ہر کوئی ”حاجی صاحب“ کے اس سٹائل پر ’فدا‘ نظر آ رہا ہے.ایک روایت کے مطابق جب بندہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس کے جتنے گناہ ہیں سب بدن سے اتار کر ایک ڈھیر میں ڈال دو تاکہ جب تک یہ میرے حضور کھڑا رہے پاک اور ستھرا ہوکر کھڑا رہے.بندہ نماز پڑھتا رہتا ہے اور گناہ ایک سمت ڈھیر میں جمع کردیئے جاتے ہیں. پھر جب وہ بندہ نماز پڑھ کر واپس جانے لگتا ہے تو فرشتے وہ گناہ پکڑ کر عرض کرتے ہیں،مالک یہ گناہ دوبارہ اس کے ساتھ ہی لگادیں؟ تو رب تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے: اب اترےتو اترے ہی رہنے دو، میرا بندہ ستھرا ہو کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا.اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ شخص واقعی کتنا بدنصیب ہے جس کو اپنے رب عزوجل کے حضور ایک سجدہ بھی نصیب نہ ہو.آج اگر ہر مسلمان اپنی ذات کا موازنہ خود کرے تو ہم میں زیادہ تر افراد کا معمول یہ ہوتا ہے: فجر کا وقت سوتے ہوئے گزار دیتے ہیں ظہر اپنے کام کاج کی جگہ پر گزار دیتے ہیں عصر سستی میں گزار دیتے ہیں مغرب ہلے گلے میں اور عشاء تھکن کی وجہ سے گزار دیتے ہیںیہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ بعض لوگ نماز نہ پڑھنے کے باوجود بھی ندامت کا اظہار نہیں کرتے اور اپنے ذہن میں یہ خیال رکھتے ہیںکہ ہم نماز نہیں پڑھتے، لیکن اگر وہ حقیقت سے آشنا ہو تو انہیں پتا چلے گا کہ وہ کیا نماز نہیں پڑھتے بلکہ رب انہیں سجدے کی توفیق ہی عطا نہیں کرتا.قیامت کے دن سب سے پہلا سوال بھی نماز کا ہی ہوگا.اس لئے اگر آپ بھی اپنے پچھلے تمام گناہوں کیبہتر تو یہ ہے کہ انسان دوسروں کی ذات میں ہنر اور خوبیاں تلاش کرے اور عیب اپنی ذات میں دیکھے. یاد رکھو کہ دنیا میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی. جس طرح گلزار میں پھول بھی ہوتے ہیں اور خار بھی. جس کا دل میلا ہو اسے ہر چیز میلی نظر آتی ہے. جس کا دل روشن ہو اسے ہر چیز روشن نظر آتی ہے.شیخ سعدیؒ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ بے عیب ذات صرف اللہ عزوجل ہی کی ہے.پس دوسروں کی ذات میں عیب تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی ذات میں موجود عیبوں پر نگاہ دوڑائی جائے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے..

ضرور پڑھیں: سبحان اللہ مناسک حج کی ادائیگی کیساتھ خانہ کعبہ کا ایسا منظر جس نے دیکھادیکھتا ہی رہ گیا

مزید خبریں :