مستونگ دھماکہ کے خودکش حملہ آور کی شناخت ۔۔۔ یہ شخص کون تھا اور اس کی شناخت کیسے کی گئی ؟ ہوش اڑا دینے والی خبرآ گئی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

مستونگ دھماکہ کے خودکش حملہ آور کی شناخت ۔۔۔ یہ شخص کون تھا اور اس کی شناخت کیسے کی گئی ؟ ہوش اڑا دینے والی خبرآ گئی


کوئٹ(قدرت روزنامہ) 17جولائی کی رات پولیس سندھ کے ضلع ٹھٹہ کے شہر دھابیجی کے محلے غریب آباد کا گھیراؤ کرتی ہے.ایک مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے.

ضرور پڑھیں: ’’مجھے اب ڈرلگتا ہے کہ ۔ ۔ ۔‘‘ معروف اداکارہ ریشم نے شادی سے ہی انکار کردیا ، وجہ ایسی کہ آپ کو بھی شدید دکھ ہوگا

دروازہ کھولنے والے شخص کی عمر 60 برس کے لگ بھگ ہے. اس سے پہلا سوال ہوتا ہے، حفیظ نواز کون ہے؟وہ بتاتا ہے کہ اس کا بیٹا ہے. دوسرا سوال ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہے؟ وہ بلاجھجھک کہتا ہے کہ افغانستان جہاد کے لیے گیا ہے.اور ان دو سادہ سوالوں کی مدد سے سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کو مستونگ میں انتخابی مہم کے دوران خودکش حملہ کرنے والے حفیظ نواز کی شناخت کرنے میں کامیابی مل جاتی ہے.پولیس کو یہ تفصیلات بتانے والے حفیظ کے والد محمد نواز تھے.بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 13 جولائی کو خودکش حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سراج رئیسانی سمیت 150 سے زائد افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہو گئے تھے.شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی.حفیظ اس جلسے میں چوتھی قطار میں بیٹھا ہوا تھا اور جس وقت نوابزادہ سراج رئیسانی خطاب کے لیے آئے تو اس نے سٹیج کے پاس آ کر اپنے آپ کو اڑا دیا تھا.مستونگ میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں مزید پڑھیےنامعلوم سے خودکش بمبارقانون نافذ کرنے والے ادارے اس حملے کے چند دن کے اندر ہی حملہ آور کو شناخت کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے.ایس ایس پی سی ٹی ڈی پرویز چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ مستونگ دھماکے کے
بعد وہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کوئٹہ اعتزاز گورایہ سے رابطے میں تھے، جنھوں نے انہیں بتایا کہ نامعلوم لاشوں کے فنگر پرنٹ سے ایک نوجوان کی شناخت سندھ کے ضلعہ ٹھٹہ سے ہوئی ہے.انھوں نے اس لڑکے کی تفصیلات طلب کیں اور تفتیش کے لیے جب دھابیجی پہنچے تو حفیظ کے والد نے تصدیق کی کہ وہ افغانستان منتقل ہوچکا ہے.جب اس کے والد کو اس نوجوان کی تصویر دکھائی گئی تو اس نے تصدیق کی کہ یہ اسی کا بیٹا ہے.’محمد نواز کا تعلق ایبٹ آباد شہر کے محلے مولیا سے ہے مگر وہ تقریباً 30 سال قبل دھابیجی منتقل ہوگئے تھے، جہاں وہ دودھ فروخت کرتے ہیں.حفیظ کے علاوہ ان کے دیگر بچوں کی پیدائش بھی یہاں ہی ہوئی.حفیظ کی خاندان سمیت افغانستان منتقلیایس ایس پی پرویز چانڈیو کا کہنا ہے کہ حفیظ کے بڑے بھائی عزیز کی ٹی ٹی پی میں شمولیت کے بعد پورا خاندان افغانستان منتقل ہوگیا جس میں حفیظ کے علاوہ عزیز ایک اور بھائی شکور، تین بہنیں اور والدہ شامل تھیں جو اس وقت سپن بولدک میں موجود ہیں.کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کا خیال ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ اور کمانڈر حاجی داؤد محسود میں اختلافات اور ایک دوسرے پر حملوںکے بعد حاجی داؤد نے داعش کے ساتھ رجوع کیا.واضح رہے کہ حاجی داؤد کراچی پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل تھا لیکن بعد میں افغانستان منتقل ہو گیا.ایس ایس پی پرویز کے مطابق حفیظ کے بڑے بھائی عزیز نواز نے بھی حاجی داؤد کے ساتھ داعش میں شمولیت اختیار کرلی اور پورے خاندان کو یہ کہہ کر افغانستان طلب کرلیا کہ داعش خلافت کے قیام کے لیے لڑ رہی ہے اور دوسری زمین ان کے لیے دارلحرب ہے.خاندان کے منتقل ہونے کے بعد عزیز اپنے والد پر بھی دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ بھی افغانستان آ جائیں تاہم وہ نہیں گئے.کراچی کا مشکوک مدرسہکاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی تفیش کے دوران کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں واقع ایک مدرسے کا مشکوک کردار بھی سامنے آیا ہے.حفیظ نواز اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہا تھا اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے اس کا بڑا بھائی عزیز نواز بھی اسی مدرسے میں زیر تعلیم رہا جو بعد میں افغانستان جہاد کے لیے چلا گیا اور پھر اس نے تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کرلی.ایس ایس پی پرویز چانڈیو کے مطابق اس مدرسے کا ریکارڈ تحویل میں لیا گیا اور جو طالب علم حفیظ کے ساتھ پڑھتے تھے ان سے تفتیش کی گئی جس کی مدد سے حفیظ کا ٹیلیفون نمبر مل گیا.اس نمبر کی مدد سے حفیظ کے ہینڈلر تک رسائی ہوئی اور کوئٹہ سی ٹی ڈی سے مقابلے میں ہینڈلر مفتی ہدیت اللہ قلعہ سیف اللہ میں مارا گیا.(ع،ع)
..

ضرور پڑھیں: ’’تو یہ میرے لیڈر عمران خان کا خواب تھا کہ ۔ ۔ ۔‘‘ زرتاج گل نے ایوان صدر پہنچتے ہی ایسی بات کہہ دی کہ پی ٹی آئی کارکنان کیلئے جذبات پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا