ایوان میں اپوزیشن کا رویہ دیکھ کر سر شرم سے جھک گیا ‘ اسٹیج پر کھڑے ہو کر بکواس کرنا آسان ہے لیکن حالات کا مقابلہ کرنا مشکل ہے‘وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ایوان میں اپوزیشن کا رویہ دیکھ کر سر شرم سے جھک گیا ‘ اسٹیج پر کھڑے ہو کر بکواس کرنا آسان ہے لیکن حالات کا مقابلہ کرنا مشکل ہے‘وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو 


کوئٹہ(آن لائن ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ایوان میں اپوزیشن کا رویہ دیکھ کر سر شرم سے جھک گیا احتجاج کرنے والے پہلی بار اپوزیشن میں گئے برداشت کرے جو لوگ آج اپوزیشن میں ہے اقتدار کے دوران انہوں نے اپوزیشن کو مکمل نظرانداز کیا ہم بھی زبان رکھتے ہیں لیکن روایات کی پاسداری عزیز ہے کسی نے تھڑے والی زبان استعمال کرنا ہے تو باہر جا کر کرے اسپیکر ایوان میں بد کلامی اور غیر شائستگی رویئے کا نوٹس لیں دہشت گردی آئی یا کوئی اور مصیبت فوج کو ہی طلب کر تے ہیں فوج ہی سب کچھ کر رہی ہے پھر بھی بدنامی کی باتیں کی جا رہی ہے اسٹیج پر کھڑے ہو کر بکواس کرنا آسان ہے لیکن حالات کا مقابلہ کرنا مشکل ہے نوازشریف نے ملکی سالمیت کو داؤ پر لگایا جس ملک نے سابق وزیراعظم کو سب کچھ دیا انہوں نے قدر نہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ یہاں پر بیٹھ کر باتیں کرنے بہت آسان ہیں لیکن جب یہاں بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ ہورہی تھی تب وہ کیوں باہر نہیں نکلے ہم کیوں دہشتگردی کے خلاف باہر نہیں نکلے آج جو کرنل شہید ہوا وہ کس وجہ سے شہید ہوا وہ پنجاب کا تھا کیا پنجاب کیلئے انہوں نے شہاد ت نوش کی انہوں نے ملک کی خاطر قربانی دی بلوچستان کے عوام کے لئے دہشتگردی کا مقابلہ کیا میرے خیال میں اسٹیج پر بات کرنا آسان ہے ہمیں پشتون ، بلوچ، پنجابی کے نام پر ہمیں کوئی بانٹ نہیں سکتااب قوم کو سمجھ آچکی ہے اور ہمیں قوم پرستی کے نام پر کوئی ورغلا نہیں سکتا اگر کوئی منظور پشتین ہے وہ پشتونوں کا دشمن ہے دہشتگردی کا مقابلہ کرتے کرتے اس قوم نے اب جاکر سانس لینا شروع کردیا ہے اگر منظورپشتین تعلیم یافتہ ہے تو وہ قوم کے لئے تعلیم دوستی کیلئے کام کریں میرے خیال میں نہ پشتون قوم ، نہ بلوچ قوم اور نہ ہی کوئی اور اس کے ساتھ دیتے ہیں ہم سب اپنے ملک کے فوج کے ساتھ ہیں کس نے قربانی دی ہیں ہمارے لئے لڑنے والے یہی فوج ہے ہمیں اپنے فوج کا احترام کرناچاہئے فوج میں ہمارے ہی بھائی اور عزیز و اقارب ہیں ہم یہاں بیٹھے ہیں اور وہ ہمارے لئے باہر چوکوں اور پہاڑوں پر بیٹھے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف لڑرہے ہیں

آواران میں زلزلے کے وقت فوج آئی اور ہر علاقے میں ریلیف کے کام کیا جبکہ یہ ان کا کام نہیں تھا ان کا کام بارڈر پرہیں پر بھی انہوں نے کیا اگر دہشتگردی ملک کے اندر ہورہی ہے تو وہ اس کے خلاف لڑیں گے اور ہمیں چاہئے کہ ہم ان کا ساتھ دیں نہ کے ان کے خلاف باتیں کریں انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ نواز شریف نے جس طرح بیان دیا ہے اس ملک نے آپکو زمین سے اٹھاکر بادشاہ بنا دیا ہے اسی ملک کے پیسوں سے آپ اچھی زندگی گزارہے رہے ہیں اور آپ اسی ملک کی تضحیک کررہے ہیں نوازشریف نے یہ بات کیسے کی ہے میرے سمجھ سے بالاترہے ہر انسان سے غلطتی ہوتی ہے اگر آپ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو آپ اپنی غلطی کو صحیح کریں نہ کہ اس طرح کے بیان دے کرملکی سالمیت کو نقصان پہنچائیں اگر میرے خلاف اس طرح کی بات ہوتی تو میں اس کو بلکل بھی برداشت نہیں کرتا جس ملک نے ہمیں اتنا سب کچھ دیا اس کے خلاف آپ اس طرح کے بیان دے رہے ہیں ایوان میں جس نے بھی گالم گلوچ کیا ہے ہم اس کی اجازت نہیں دیتے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس ایوان سے سیکھیں ہم اپنے کالج اور یونیورسٹیز کے بچوں کو بلاتے ہیں کہ وہ آئیں اور کچھ سیکھیں یہاں سے اگر آج وہ یہاں ہوتے تو ہم سے کیا سیکھ کے جاتے اس طرح کا رویہ تھڑے پر بیٹھنے والے کا بھی نہیں ہوتا ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں .
 

. .

مزید خبریں :

سروے