دہری شہریت ،سرکاری ملازمتوں سیاستدانوں پر پابندی ضروری  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

دہری شہریت ،سرکاری ملازمتوں سیاستدانوں پر پابندی ضروری 


سپریم کورٹ نے پاک فوج کے تمام کمیشنڈ افسران کی شہریت اور جنرل (ر)راحیل شریف و شجاع پاشا کو بیرون ملک ملازمت کی اجازت کی تفصیلات طلب کر تے ہوئے پاک فوج کے تمام کمیشنڈ افسران کی شہریت کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیدیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جنر ل (ر) شجاع پاشا ریٹائرمنٹ کے چند دن بعد ہی بیرون ملک ملازمت کے لئے چلے گئے،اتنے بڑے اور اہم ادارے کے سربراہ یوں چلے جاتے ہیں، کیا قانون میں اس کی کوئی ممانعت نہیں؟،ہم ایجنسیوں کے لوگوں کی بہت قدر کرتے ہیں، ان لوگوں کو تو کئی کئی سال تحفظ ملنا چاہئے،، تمام اہلکاروں اور افسران کی شہریت کی تصدیق کروائیں گے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جنرل شجاع پاشا ریٹائرمنٹ کے چند دن بعد ہی بیرون ملک ملازمت کے لئے چلے گئے،راحیل شریف بھی اسی طرح بیرون ملک ملازمت کے لئے چلے گئے.اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق وفاقی حکومت سول سرونٹ ملازمین کو بیرون ملک ملازمت کی خصوصی اجازت دے سکتی ہے، ملازمت ختم ہونے کے دو سال بعد کوئی بھی سرکاری ملازم بیرون ملک جاسکتا ہے.

ضرور پڑھیں: اللہ اوربندے کے درمیان چند انچ کا فاصلہ

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اس قانون کے ہونے کے باوجود سرکاری ملازمین کو ملازمت کے فوری بعد باہر جانے کی اجازت ہوسکتی ہے، کیا اس قانون کا اطلاق مسلح افواج پر نہیں ہوتا، میرا نہیں خیال کہ وفاقی کابینہ نے کوئی ایسی خصوصی اجازت دی ہے، ہم ایجنسیوں کے لوگوں کی بہت قدر کرتے ہیں، ان لوگوں کو تو کئی کئی سال تحفظ ملنا چاہئے، ان کے پاس بڑی حساس معلومات ہوتی ہیں، خدانخواستہ کچھ ہو نہ جائے، معاملے پر غور کرنا ہوگا.

سیکرٹری دفاع نے جواب جمع کرایا کہ فوج میں کوئی اہلکار یا افسر دوہری شہریت کا حامل نہیں اور دہری شہریت رکھنے کی اجازت بھی نہیں، بھرتی کے اشتہار میں واضح لکھا جاتا ہے کہ دہری شہریت کے حامل افراد اہل نہیں، بھرتی کیلئے غیر ملکی شہریت چھوڑنی پڑتی ہے.چیف جسٹس نے کہا کہ ممکن ہے کسی افسر یا اہلکار نے غلط بیانی کی ہو، تمام اہلکاروں اور افسران کی شہریت کی تصدیق کروائیں گے.عدالت نے افسران کی شہریت کی جانچ پڑتال کا حکم دیتے ہوئے 27 غیر ملکی سول افسران کو نوٹس جاری کردیے اور ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا. سپریم کورٹ نے پاک فوج کے تمام کمیشنڈ افسران اور ان کی بیویوں کی شہریت کی تفصیلات بھی طلب کرلیں اصولاً دہری شہریت کے حامل کسی بھی فرد کو پاکستان میں سرکاری ملازمت اور سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے دہری شہریت والوں کی بیشتر جائیدادیں بیرون ملک ہوتی ہیں اور پھر انکی ہمدردیاں بھی انہی ممالک کیساتھ ہوتی ہیں اسی طرح دنیا ہونے والے خفیہ اداروں کے ملازمین بالخصوص سربراہان کے پاس حساس قسم کے معلومات ہوتی ہیں بیرون ممالک انہیں بھاری تنخواہوں اور مراعات دے کر ملازم رکھ لیا جاتا ہے اور پھر انہیں چھوڑ کر معلومات حاصل کرلی جاتی ہیں علاوہ ازیں یہی شخصیات کسی بھی طور پر وہ مراعات چھوڑنا نہیں چاہتیں پھر انکی تابع ہوجاتی ہیں یہی حال درہی شخصیت والے سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کا ہوتا ہے آج پاکستان کی تباہی کی ذمہ دار بھی یہی دہری شہریت والی شخصیات ہیں ملک وقوم کے مفاد میں دہری شخصیت والوں پرپاکستان میں سرکاری ملازمت سیاست پر پابندی ہونی چاہیے اسی طرح فوج حساس اداروں کے افراد پر بھی بیرون ملک ملازمتوں پر یکسر پابندی ہونی چاہیے انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اچھا خاصا ماہانہ ملتا ہے .
 

..

ضرور پڑھیں: ریحام خان باز نہ آئیں، اپنے سابق شوہر عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ان کے بارے میں ایسا دعویٰ کر دیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا