روایتی ہٹ دھرمی ،بلوچستان کے زرعی علاقہ کا نہری پانی بند  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

روایتی ہٹ دھرمی ،بلوچستان کے زرعی علاقہ کا نہری پانی بند 


سندھ کی روایتی ہٹ دھرمی کے باعث بلوچستان کا زرعی علاقہ پانی کی بوند بوند کو ترس گیا ،لاکھوں ایکڑ اراضی پر شالی کی فصل کاشت نہیں ہوسکی ،جس کی وجہ سے صوبے میں بڑے پیمانے پر غذائی قلت پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ،تفصیلات کے مطابق بلوچستان کا زرعی علاقہ جعفرآباد ،نصیرآباد ،صحبت پوراور جھل مگسی میں خریف سیزن میں پانی کی شدید کمی کے باعث لاکھوں ایکڑ پر شالی کی فصل کاشت نہیں ہوسکے گی کیونکہ خریف سیزن میں گڈو بیراج سے پٹ فیڈر کینال کو 6700کیوسک کی بجائے 5434کیوسک اور سکھر بیراج سے کیر تھیر کینال کو 2400کیوسک کی بجائے 1675کیوسک پانی دیا جارہاہے ،اسکے علاوہ اوچ اور مانجھو ٹی کینال کو بھی حصے سے کم پانی دیا جارہاہے ،جس کی وجہ سے آئے روز اوستہ محمد ،ڈیرہ مراد جمالی ،ڈیراللہ یار اور صحبت پور کے علاقوں میں زمیندار اور کسان احتجاج کرتے رہتے ہیں جس کے باعث اکثر وبیشترگرمی میں شاہراہوں کو بند کردیا جاتاہے ،جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے ،ذرائع کے مطابق لاکھوں ایکڑ اراضی پر شالی کی فصل کاشت نہ ہونے کے باعث صوبے میں بڑے پیمانے پر غذائی بحران پیدا ہوجائیگا ،خریف سیزن شروع ہونے سے قبل بلوچستان کے سیکرٹری ایریگیشن سلیم اعوان اور چیف انجینئر کینال سسٹم عبدالستار لاکٹی نے انڈس ریورسسٹم اتھارٹی (ارسا) اور سندھ کے سیکرٹری ایریگیشن و دیگر اعلی حکام کیساتھ کراچی اور اسلام آباد میں کئی میٹنگیں کیں جس میں طے پایا گیا تھا کہ دریاؤں میں پانی کی کمی کا اثر بلوچستان پر نہیں پڑیگا ،لیکن اسکے برعکس سندھ ایریگیشن کے حکام بلوچستان کو پانی کا طے شدہ حصہ دینے پر تیار نہیں ہیں دریائے سندھ کے مقام گڈو اور سکھر بیراج میں پانی کے ڈسچارج میں اضافے کے باوجود بلوچستان کو اسکے حصے کا پانی نہیں دیا جارہاہے حالانکہ کوٹڑی بیراج سے سمندر میں پانی ڈال کر ضائع کیا جارہاہے ،جس کے بارے میں ارسا اور

سندھ ایریگیشن کے حکام سمیت ہر فورم پر آواز بلند کی ہے لیکن سندھ ایریگیشن حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ،انہوں نے مزید بتایاکہ اگر 3 دن کے اندر بلوچستان کو اسکے حصے کا پورا پانی نہ دیا گیا تو لاکھوں ایکڑ اراضی پر شالی کی فصل کاشت نہیں کی جاسکے گی جس سے زمینداروں کا اربوں روپے کا نقصان ہوگا .یہی نہیں جب ریور ڈیم کا پانی بھی کراچی کو زیادہ مقدار میں سپلائی کیا جاتا ہے جبکہ حب وگردونواح کے رہائشی پانی کی قلت کی وجہ سے مشکلات ومصائب کا شکار رہتے ہیں جہاں تک بلوچستان کے وہ علاقے جوکہ سندھ کیساتھ منسلک ہیں وہاں پر آئے روز شکایات رہتی ہیں کہ سندھ حکومت اول تو نہروں کا پانی بند کردیتی ہے یا پھر بہاؤ کی مقدار کم کردیتی ہے جس سے زمینداروں کو کاشتکار ی اور دیہاتوں کے لوگوں کو پینے کے پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے صوبائی حکومتوں کے سیاستدانوں بیورو کریٹس میں اجلاس ہوتے ہیں خرچے وصول ہوتے ہیں دعوے ہوتے ہیں لیکن عملدرآمد نہیں ہوتا بلوچستان پہلے ہی احساس محرومی اور پسماندگی کا شکار ہے پھر اسکے ساتھ ہی یہ مظالم انتہائی خطرناک اور افسوسناک ہیں .

ضرور پڑھیں: اللہ کے وہ محبوب ولی جن کے چہرے پر ایک سو سال کی عمر میں داڑھی نکلی


 

..

ضرور پڑھیں: جائے نماز سے اٹھتے ہی حاجت پوری صرف 313 بار یہ اسم اعظم پڑھ کر دعا مانگیں!