وفاق،بلوچستان میں حکومت سازی ،سردار اختر مینگل مضبوط وکٹ پر  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

وفاق،بلوچستان میں حکومت سازی ،سردار اختر مینگل مضبوط وکٹ پر 


بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل )کے صدر سردار اخترجان مینگل وزیراعظم ،وزیراعلیٰ بلوچستان اور نئے صدر مملکت کے انتخاب میں سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں ، وہ جس پارٹی کیساتھ جائیں گے اس کا وزیراعظم منتخب ہوگا اور صدر ممنون حسین کی مدت مکمل ہونے کے بعد ستمبر کے پہلے ہفتے میں صدارتی الیکشن میں بی این پی (مینگل )کے 15ووٹ فیصلہ کن کردارادا کر سکتے ہیں . بی این پی مینگل کے صدر اختر مینگل سے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے وفود نے چوبیس گھنٹوں کے دوران دو اہم ملاقاتیں کی ہیں جبکہ بی اے پی بلوچستان کے صدر اور وزارت اعلیٰ کے اہم امیدوار جام کمال نے بھی ان سے اہم ملاقات کی .

ضرور پڑھیں: کہاں سورج چمکے گا اور کہاں بارشیں ہو ں گی؟ محکمہ موسمیات نے شہریوں کیلئے اہم پیشگوئی کر دی

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے وفد کو اختر مینگل نے 6 نکاتی مطالبات پیش کئے ہیں بلوچستان اسمبلی میں اس وقت بی این پی کے 7ارکارن ہیں اور خواتین کی مخصوص نشستیں ملا کر ان کی تعداد10ہوجائیگی جبکہ قومی اسمبلی میں ان کے ارکان کی تعداد چار ہے اور سینیٹ میں بھی ان کا ایک رکن ہے . سردار اختر مینگل کی پارٹی کے ووٹ اسی طرح عمران خان کے وزیراعظم بننے کیلئے ضروری ہیں جس طرح ایم کیو ایم کے ووٹ ضروری ہیں . بلوچستان کی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے بی این پی کو نظر انداز کرکے اگر وزیراعلیٰ بنایا گیا تو صوبائی حکومت کو مشکلات پیش آسکتی ہیں کیونکہ اختر مینگل کے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان ، عوامی نیشنل پارٹی ، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان سے قریبی رابطے ہیں . بی این پی کے ووٹ آئندہ صدارتی الیکشن میں بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بلوچستان اسمبلی کے 65ووٹ میں سے جس کو اکثریت ملے گی وہ آئندہ صدر پاکستان منتخب ہو سکتا ہے اور مجموعی طور پر بی این پی کے 15ووٹ بنتے ہیں اور صدارتی الیکشن میں بھی کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے اور صدارتی الیکشن کیلئے مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی ، ایم ایم اے ، اے این پی ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی حاصل بزنجو گروپ اور دیگر اپوزیشن کے چھوٹے گروپ مشترکہ صدارتی امیدوار لائیں گے جو تحریک انصاف اور اس کے اتحادی جماعتوں کے صدارتی امیدوار کا مقابلہ کرے گا کیونکہ سندھ اور پنجاب اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کے پاس کافی ووٹ ہیں اور سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی متحدہ اپوزیشن کے ووٹوں کی تعداد حکومت اتحاد سے کچھ کم ہے لہٰذا اس صورتحال میں بی این پی کے 15ووٹ فیصلہ کن کرداراختیار کر سکتے ہیں . جبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سردار اختر مینگل نے بنی گالہ جانے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ہمیشہ ضڑورت مند ہی ضرور ت پوری کرنے والے کے پاس جاتا ہے دوسری جانب بلوچستان میں بھی انہیں متحدہ مجلس عمل پشتونخوا میپ نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہے اور آصف علی زرداری صوبے میں پی پی کی نشست نہ ہونے باوجود کردار ادا کرسکتے ہیں مگر وہ اس وقت خود نیب اور ایف آئی اے کی گرفت میں ہیں تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سردار اختر مینگل مضبوط اور اپنی شرائط منوانے کی پوزیشن میں ہیں وہ مرکز میں تحریک انصاف کا ساتھ دیتے ہیں یا اپوزیشن الائنس کا بلوچستان میں بی اے پی کو سپورٹ کرتے ہیں یا کوئی اور کھیل کھیلتے ہیں تاہم وفاق اور صوبے میں اچھی وزارتوں ودیگر عہدوں کے ضرور امیدوار ہونگے ...

ضرور پڑھیں: علیم خان ، یاسر راجہ اور یاسمین راشد کی چھٹی! وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے تحریک انصاف کا مضبوط ترین امیدوار سامنے آگیا

مزید خبریں :