حکومت سازی کیلئے ماضی کی حریف جماعتوں میں 9نکاتی معاہدہ - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

حکومت سازی کیلئے ماضی کی حریف جماعتوں میں 9نکاتی معاہدہ


پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے درمیان حکومت سازی کیلئے 9نکاتی معاہدہ طے پاگیا، معائدے کے مطابق کراچی کی مردم شماری پر قومی اسمبلی کی قرارداد مردم شماری پر مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پرعمل درآمد کرایا جائے گا، سندھ بلدیاتی نظام کے بارے میں سپریم کورٹ میں دائرپٹیشن میں تحریک انصاف حمایت کرے گی، کراچی آپریشن پر نظرثانی اور تمام شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی جبکہ تمام عہدوں پر تعیناتیاں میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی،کراچی کے لیے مالی پیکج کا فوری اعلان کیا جائے گا، بالخصوص پانی کے مسائل کیلئے وفاقی حکومت پیکج دے گی،خیبر پختونخوا کے طرز پر پولیس اصلاحات لانیکی کوششیں کی جائیں گے جبکہ پولیس میں غیر سیاسی اور میرٹ پر تعیناتیاں کی جائیں گی،ایم کیا یم پاکستان کی جانب سے جس بھی حلقے کی نشاندہی کی گئی اس انتخابی نتائج کی جانچ پڑتال کروائی جائے گی.عام انتخابات میں اکثریت ملنے کے بعد تحریک انصاف کی وفاق میں حکومت سازی کے لیے مشاورت جاری ہے اور اس حوالے سے ایم کیوایم نے جہانگیر ترین کی جانب سے حکومت میں شمولیت کی دعوت پر عمران خان کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے.

ضرور پڑھیں: کیا آپ جانتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور عمرن خان میں کیا مماثلت ہے ؟ وہ راز جو آپ کو آج سے پہلے معلوم نہیں ہوگا

اس حوالے سے ایم کیوایم کے وفد نے خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کی، وفد میں عامرخان، کنور نوید جمیل، وسیم اختر اور فیصل سبزواری شامل تھے جب کہ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی، عارف علوی، فواد چوہدری، اسد عمر، نعیم الحق، عمران اسماعیل اور دیگر رہنما بھی ملاقات میں موجود تھے.پنجاب اور سندھ میں مقامی حکومتوں کا نظام آئین کے آرٹیکل140.A کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے نہ ہی تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے منشور سے ہم آہنگ ہے چناچہ پاکستان تحریک انصاف متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اس ضمن میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے روبرو زیر سماعت درخواست کی حمایت کرے گی ،فریقین کے ساتھ مشاورت کی روشنی میں کراچی میں جاری آپریشن پر نظرثانی کی جائے گی تمام جماعتوں کو سرگرمی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے،حکومتی شعبوں میں تمام تقرریاں قابلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور قانون کے دائرہ کار کے اندر ایک معتبر اور قابل بھروسہ امتحانی نظام کے ذریعے کی جائیگی،1983 میں اکٹوریو کا خاتمہ کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ متاثرہ شہروں کو نقصانات کی مقدار کے حساب سے متبادل معاوضہ دیا جائے گا اس فیصلے کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا،ماضی میں کراچی سمیت سندھ کی شہری آبادی کو بری طرح نظر انداز کیا جاتا رہا فراہمی آب کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت براہ راست اور فوری طور پر ایک مالی پیکیج کا اعلان کرے گی،دونوں جماعتیں پختونخوا کی طرز پر سندھ میں پولیس ریفارم متعارف کروانے کی کوشش کریں گی جس کا متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے منشور میں وعدہ کر رکھا ہے ان اصلاحات کے ذریعے پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کیا جائے گا پولیس کے شعبے میں تقرریاں کو مکمل طور پر قانون اور قابلیت کے معیار کے پیش نظر عمل میں لائی جائیں گی،حیدرآباد میں عالمی معیار کی جامعہ قائم کی جائے گی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے جس بھی حلقے کی نشاندہی کی گئی اس انتخابی نتائج کی جانچ پڑتال کروائی جائے گی.دونوں جماعتیں کم وبیش دو دہائیوں سے ایک دوسرے کی رقیب تھیں اور انتخابات میں بھی ایک دوسرے کے خلاف الیکشن میں حصہ لیا یہاں تک کہ انتخابات کے بعد ایم کیو ایم نے متعدد مرتبہ تحریک انصاف پر دھاندلی کا الزام لگایا اب تحریک انصاف اسمبلی میں حمایت چاہتی ہے جبکہ ایم کیو ایم وزارتیں اور دیگر مفادات کا حصول چاہتی ہے تو دونوں جماعتوں کے کرتا دھرتا سیاستدان سب مخالفین بھول کر مفادات واقتدار کے حصول کے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے ہیں عوام کو کم وبیش عمران خان سے ایسی توقع نہیں تھی تاہم دیکھنا ہے کہ وہ وزیراعظم بننے کے بعد وعدوں دعوؤں اور منشور پر عمل کرتے ہیں یا پھر دیگر سیاستدانوں کی ڈگر پر چلتے ہیں فیصلہ آنے والاوقت جلد کردے گا اور قوم حقائق سے باخبر ہوکر یا تو مطمئن ہوگی یا پھر آنسو بہائے گی ...

ضرور پڑھیں: ہاں انسان اور جانور ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہوں، وہاں سے وزیراعلیٰ نامزد کرنا بہت بڑی بات ہے