سب سے پہلے وزیراعلیٰ ،اسپیکر کی نامزدگی بلوچستان عوامی پارٹی کا اعزاز - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

سب سے پہلے وزیراعلیٰ ،اسپیکر کی نامزدگی بلوچستان عوامی پارٹی کا اعزاز


بلوچستان عوامی پارٹی کے اجلاس میں مشترکہ فیصلے میں بلوچستان عوامی پارٹی نے جام کمال کو پارلیمانی لیڈر جبکہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کو اسپیکربلوچستان اسمبلی نامزد کر دیاگیا ڈپٹی اسپیکراور وزارتوں پر اپنی پارٹی اور اتحادیوں سے مشاورت کے بعد آئندہ چند دنوں میں فیصلہ کیا جائے گا بلوچستان عوامی پارٹی مرکز میں تحریک انصاف کو اور تحریک انصاف بی اے پی کو بلوچستان میں سپورٹ کرے گی بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے تمام تر فیصلے مشاورت سے کئے جائیں گے اور تمام علاقوں کو ایک ساتھ ترقی دیں گے بلوچستان عوامی پارٹی نے تمام جمہوری روایات کو مدنظررکھتے ہوئے تمام تر فیصلے جمہوری طریقے سے کئے بلوچستان عوامی پارٹی ایک جمہوری سوچ کے ساتھ نکلی ہے عوام نے جو عزت بخشی ہے اس اعتماد کو کسی بھی صورت ٹھیس نہیں پہنچائیں گے ہمارا ویژن بہت واضح ہے اور ہم بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بھرپور اقدامات اٹھائیں گے اور تمام اتحادیوں کو ساتھ لیکر چلیں گے ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وزارتوں کے معاملے میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیکر مشاورت کریں گے اور آئندہ چند دنوں میں تمام تر صورتحال واضح ہو جائے گی اسپیکر کے لئے جان جمالی بھی امیدوار تھے تاہم انہوں نے پارٹی کے مفاد کی خاطر اس سے دستبردار ہوگئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے فیصلے ماضی کی طرح اس طرح بنی گالہ میں نہیں ہوئے تمام مرکز اور صوبہ میں حکومتوں کے بارے میں مشاورت ہوئی اور کوئی بھی فیصلہ بلوچستان کے علاوہ کہی نہیں ہوگا متحدہ مجلس عمل اور بی این پی مینگل کے ساتھ نشست ہوئی ہے اور انہیں بھی قائل کریں گے کہ وہ ہمارے ساتھ حکومت میں شامل ہوجائیں اور ہم سب ملکرصوبہ کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مطلوبہ اکثریت ہے تاہم صوبہ کے وسیع تر مفاد کی خاطر سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہیں پارلیمانی لیڈر و پارٹی سربراہ جام کمال نے کہا کہ ڈھائی ڈھائی سال والا کوئی معاہدہ نہیں ہے بلوچستان عوامی پارٹی مرکزمیں تحریک انصاف کو صوبہ میں تحریک انصاف ہمیں سپورٹ کررہی ہے انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز مولانا عبدالغفورحیدری ‘ مولانا فیض اللہ اور اخترمینگل سے ملاقات ہوئی تاہم اخترمینگل نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام ان کی اتحادی ہے انہیں ہم کسی صورت تنہاء نہیں چھوڑیں گے انہوں نے کہا کہ اب بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتیں سنجیدگی سے صوبہ کی ترقی اورخوشحالی کے لئے اقدامات اٹھائیں گی اور صوبہ کی پسماندگی کو ختم کریں گے آج وہ لوگ ناراض ہیں جن کے پاس بنیادی سہولیات نہیں ہیں ہماری کوشش ہو گی کہ ہم ان کو خوش کریں جن کے پاس پینے کے لئے صاف پانی نہیں اور صحت کی بنیادی سہولیات نہیں آج جو قانون کے دائرے میں ہوں ان سے مذاکرات کریں گے .ہمارا ہدف صوبے سے پسماندگی کا خاتمہ ہے حکومت سازی کے لئے دیگر جماعتوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے آئندہ دو روز میں اس حوالے سے بھی معاملات واضح ہو جائیں گے پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری پر یقین رکھنے والے لوگوں سے بات چیت ضرور ہوگی لیکن ایسے عناصر جن کا ایجنڈا پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے ان سے بات نہیں ہوسکتی .

ضرور پڑھیں: کہاں سورج چمکے گا اور کہاں بارشیں ہو ں گی؟ محکمہ موسمیات نے شہریوں کیلئے اہم پیشگوئی کر دی

یہ حقیقت تو پہلے سے واضح ہے کہ بلوچستان میں حکومت بلوچستان عوامی پارٹی ہی اپنے اتحادیوں سے مل کر بنائے گی بی این پی مینگل اور متحدہ مجلس عمل یعنی جمعیت کی شمولیت بوجوہ عمران خان مشکل نظر آتی ہے کیونکہ ان کی ہمدردیاں پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے ہیں اور یہ دونوں جماعتیں اور انکے اتحادی احتساب سے خوفزدہ ہیں اور وفاق میں بھی گرینڈ اپوزیشن الائنس کا وجود انتخابات میں دھاندلی نہیں صرف احتساب کے خوف سے بنا ...

ضرور پڑھیں: علیم خان ، یاسر راجہ اور یاسمین راشد کی چھٹی! وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے تحریک انصاف کا مضبوط ترین امیدوار سامنے آگیا

مزید خبریں :