عمران خان سے عالمی سربراہوں کے رابطے اور خطے کی صورتحال  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

عمران خان سے عالمی سربراہوں کے رابطے اور خطے کی صورتحال 


ایران کے صدر حسن روحانی نے چیئرمین تحریک انصاف اور نامزد وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور پاک ایران تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے دورہ ایران کی دعوت دی جو عمران خان نے قبول کرلی جبکہ قائم مقام امریکی سفیر جان ایف ہوور کی قیادت میں امریکی سفارتی وفد نے بنی گالہ میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کی. ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا.

ضرور پڑھیں: منرل واٹرکمپنیوں کےخلاف بھی نوٹس لوں گا،چیف جسٹس پاکستان کاسیمنٹ فیکٹریوں کو پانی فراہم کرنے والے تالاب بند کرنے کا حکم

تحریک انصاف کے مرکزی میڈیا سیل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے پاکستان افغانستان میں مکمل استحکام کا خواہشمند ہے، میں نے ہمیشہ افغانستان میں سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے. خوشی ہے کہ آج امریکہ سے بھی سیاسی حل کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں. عمران خان نے واضح کیا کہ جنگ اور قوت کا استعمال افغانستان کے مسئلے کا حل نہیں ہے. افغانستان کا استحکام پاکستان ، امریکہ اور خطے کے مفاد میں ہے.پاک امریکہ تعلقات نے تاریخ میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے . تعلقات میں اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ دونوں ممالک میں باہمی اعتماد کا فقدان ہے. تحریک انصاف امریکہ کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کیلئے پرعزم ہے. امریکہ کیساتھ مستحکم ، تجارتی اور معاشی تعلقات کو نہایت اہم سمجھتے ہیں. پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں مزید سرگرمی وقت کا تقاضا ہے.عمران خان ابھی وزیراعظم نہیں بنے تاہم کرکٹ میں انکی کارکردگی اور سیاست میں ناکامیوں کے باوجود انکی 22سالہ جدوجہد کرپشن سے پاک ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک کے سربراہوں نے ان سے فوری رابطے قائم کررکھے ہیں یہاں تک کہ انکی کامیابی اور اپنے دیرینہ دوست نواز شریف گروپ کی شکست پر تنقید کرنے والے بھارتی سربراہوں نریندر مودی نے بھی ان سے رابطہ کیا ایران اور افغانستان تو دونوں برادر اسلامی ہمسایہ ملک ہیں افغانستان اس وقت مکمل طور پر امریکہ اور بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے ایران نے ہر مشکل میں وقت پاکستان کا ساتھ دیا ہے امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تعلقات رکھے مفادات پورے ہوئے یا ان میں ناکامی دیکھی تو پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا افغانستان میں روس کی شکست میں پاکستان کا بڑا کردار تھا یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ افغانستان میں اپنی من مانیاں کرنے کیلئے پاکستان سے دوستی کرنے پر مجبور ہے لیکن وہ مختلف طریقوں سے بلیک میل بھی کرتا ہے کبھی مختلف قسم کی پابندیاں لگا کر کبھی بلیک میل کرکے تو کبھی افغانستان سے دہشتگردوں کی جانب سے کارروائیاں کروا کر اپنی شرائط منوانے کی کوششیں کررہا ہے عمران خان نے امریکہ سفیر پر بالکل درست واضح کا ہے جنگ اور طاقت کا استعمال افغان مسئلے کا حل ہیں اور افغانستان میں استحکام پاکستان امریکہ اور خطے کے مفاد میں ہے بصورت دیگر افغانستان جس طرح گذشتہ کئی دہائیوں سے جنگ کا میدان بنا ہوا ہے بنا رہے گا پھر یہ جنگ خطے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اس لئے امریکہ کو چاہیے کہ وہ صرف اور صرف اپنے ہی مفادات کو نہ دیکھے بلکہ افغانستان اور خطے کے مفادات کا بھی خیال رکھے اسی میں اسکی بھی بھلائی ہے ...

ضرور پڑھیں: ’’ سابق کرکٹرز کی عمران خان سے ملاقات لیکن کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ ۔ ۔ ۔‘‘ نجی ٹی وی چینل کا ایسا دعویٰ کہ شائقین کرکٹ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی