تحریک انصاف اور بی این پی مینگل میں 6نکاتی معاہدہ  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

تحریک انصاف اور بی این پی مینگل میں 6نکاتی معاہدہ 


بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سے پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے ملاقات کی اور تعاون کے معاملات طے پاگئے بلوچستان نیشنل پارٹی نے مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں مکمل یقین دہانی کرادی اور تحریک انصاف نے بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے 6 نکات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہم نے اتفاق کیا ہے کہ ہمیں آگے بڑھنا ہے پی ٹی آئی آج وفاق کی علامت ہے ہمارے مذاکرت کامیاب ہو گئے ہیں مذاکرت کے حوالے سے عمران خان کو اعتماد میں لیا ہیمشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی آمد پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور یہاں آکر ہمارے مسائل غور سے سنے عمران خان سے بھی دو دن پہلے بات چیت ہوئی تھی بلانے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم غرور میں ہیں یا قبائلی طورپر ان کو یہاں بلایا گیا بلکہ بلوچستان کے عوام 70 سال سے مشکلات کا شکار رہے بی این پی نے اپنے مطالبات کے حق کے سلسلہ میں تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے سامنے اپنے مطالبات پیش کئے اور 15 سال سے مختلف سیاسی جماعتوں اور مختلف فورم پر اپنے مطالبات پیش کئے وہ قوتیں جو بلوچستان کو اپنے ساتھ لے جانے کی کوششیں کرتے ہیں ان نکات پر عملدرآمد ہونا چاہئے اور یہ بلوچستان کے جملہ مسائل ہیں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے ہمارا باتوں کو غور سے سناانہیں یہاں بلانے کا مقصد بلوچستان کے مسائل سے آگاہ کرنا تھاہم پی ٹی آئی کے سامنے 6 نکات رکھے نکات میں بلوچستان کے مسائل کا نچوڑ ہے پی ٹی آئی نے 6 نکات پر اتفاق کیا ہے ماضی میں ہم نے لوگوں کی زبان پر اعتبار کیاپی ٹی آئی کے ساتھ دستاویزات پر دستخط کئے ہیں دونوں سیاسی جماعتوں نے اتفاق کر لیا انہوں نے کہا کہ ماضی میں صرف تسلیاں دی گئیں اگر پھر بھی مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو ہر جماعت اپنے فیصلوں میں اختیار رکھتے ہیں ہم اپنے فیصلوں میں آزاد ہونگے تحریک انصاف کے مرکزی سینئر نائب صدر شاہ محمودقریشی نے کہا کہ بی این پی کے ساتھ ہماری تفصیلی نشست ہوئی ہم نے اتفاق کیا ہے کہ ہمیں آگے بڑھنا ہے پی ٹی آئی آج وفاق کی علامت ہے ہمارے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں مذاکرات کے حوالے سے عمران خان کو اعتماد میں لیا ہے مسسنگ پرسن کی بازیابی کے حوالے سے اتفاق کیا گیا ہے بلوچستان کے وسائل پر بلوچستان کے لوگوں کے حق کو تسلیم کرنے کا معاہدہ ہوا ہے افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے معاہدے ہوا ہے ہم نے فیصلہ کیا ہے قومی اسمبلی میں مل کر چلیں گے مرکز میں بی این پی ہمارا ساتھ دے گی بلوچستان ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے سی پیک کی بدولت بلوچستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے ہماری جماعت میں پاکستانیت کا جزبہ ہیہماری خواہش ہے کہ مرکز میں بلوچستان نیشنل پارٹی حکومت کا حصہ ہو اور ہم ان کو ساتھ لیکر چلیں اور ہم پر اعتماد کرکے بلوچستان کے مسائل کو حل کریں گے .اس بارے کوئی دورائے نہیں کہ بلوچستان گذشتہ کئی دہائیوں سے احساس محرومی کا شکار ہے وسائل کی دولت سے مالامال ہونے کے باوجود بنیادی سہولیات تک میسر نہیں وفاقی حکمران تو اپنی جگہ بلوچستان کے قوم پرست اور مذہبی رہنماؤں نے صرف اور صرف اپنے مفادات حاصل کئے لیکن نعرے قوم پرستی اور دین کے لگائے یہاں تک کہ صرف اور صرف اپنے ووٹوں میں اضافے کیلئے غیر ملکیوں کو نہ صرف آباد کیا بلکہ انہیں شناختی کارڈ تک بنوا کردیئے جبکہ یہی لوگ صوبے میں دہشتگردی بدامنی اور جرائم میں ملوث ہیں بی این پی مینگل اور تحریک انصاف میں معاہدہ خوش آئند ہے بی این پی کی شرائف بالکل درست اور نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے مفاد میں ہیں مسئلہ ان پر عملدرآمد کا ہے دونوں جماعتوں کو مفا د پرستوں کی مخالفت کے باوجود معاہدے پر عملدرآمد کرنا چاہیے .

ضرور پڑھیں: منرل واٹرکمپنیوں کےخلاف بھی نوٹس لوں گا،چیف جسٹس پاکستان کاسیمنٹ فیکٹریوں کو پانی فراہم کرنے والے تالاب بند کرنے کا حکم

..

ضرور پڑھیں: ’’ سابق کرکٹرز کی عمران خان سے ملاقات لیکن کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ ۔ ۔ ۔‘‘ نجی ٹی وی چینل کا ایسا دعویٰ کہ شائقین کرکٹ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی