بلوچستان میں اتحادی حکومت خوش آئند ،معاملات کیسے حل ہونگے ۔۔؟ - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

بلوچستان میں اتحادی حکومت خوش آئند ،معاملات کیسے حل ہونگے ۔۔؟


بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی صدر رکن صوبائی اسمبلی میر جام کمال نے کہا ہے کہ ہمارے 6جماعتی اتحاد کو بلوچستان اسمبلی میں50میں سے 33ارکان کی سادہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے ہمارے اتحادیوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وزیراعلیٰ اور اسپیکر کے انتخاب میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب بنایا جائے گابی این پی اور متحدہ مجلس عمل اگر حکومت کا حصہ بننا چاہیں تو ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے لیکن ہمارا نمبر گیم مکمل ہوچکا ہے ہم بلوچستان کے مسائل کو حل ،کرپشن کا خاتمہ اور گڈگورننس کو یقینی بنائیں گے وزارتوں کا فارمولا جلد طے کرلیا جائے گا.ہمارے اتحاد میں شامل، بلوچستان عوامی پارٹی ،پی ٹی آئی ، بلوچستان نیشنل پارٹی(عوامی)، عوامی نیشنل پارٹی ،ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے پارلیمانی گروپ کا پہلا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں نومنتخب ارکان اسمبلی نے حکومت سازی پر باقاعدہ طور پر اتفاق رائے قائم کیااور اپنی عددی طاقت کا جائزہ لیا جس کے مطابق ہمیں 50میں سے 33ارکان کی سادہ اکثریت حاصل ہوچکی ہے ہمارے بی این پی اور ایم ایم اے سے بھی مذاکرات جاری ہیں ہم چاہتے ہیں کہ تمام جماعتیں ملکر بلوچستان کے مسائل حل کریںآج ہم نے اپنی اکثریت واضح کردی ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اچھی حکمرانی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکراتی عمل کو آگے لیکر جائیں گیہمارا مقصد ایسا نظام بنانا ہے جوکہ سنجیدگی سے بلوچستان میں کرپشن کے خاتمے ،مسائل کے حل ،گڈگورننس کے قیام اورعوام کو بنیادی سہولیات کی فراہم کریں ہم چاہتے ہیں کہ بیورو کریٹس اور سیاستدان لوگوں کو سروس ڈلیوری کریں اور بلوچستان میں تبدیلی لائیں.

ضرور پڑھیں: کہاں سورج چمکے گا اور کہاں بارشیں ہو ں گی؟ محکمہ موسمیات نے شہریوں کیلئے اہم پیشگوئی کر دی

ایک سوال کے جواب میں جام کمال نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید نشستیں ہونگی جن میں حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان وزارتوں کی تقسیم کا فارمولا طے کیا جائے گاہم آج قانونی مشاورت کے بعد اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرائیں گے. انہوں نے کہا کہ نئے گورنر کا فیصلہ کرنا وفاق کا کام ہے بلوچستان عوامی پارٹی بطور اتحادی اپنی رائے ضرور دے گی لیکن حتمی فیصلہ فیڈریشن نے کرنا ہے. انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے تمام ارکان متحد ہیں پارٹی کے درمیان اختلافات کی باتیں شکوک وشبہات پر مبنی ہوسکتی ہیں لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے.بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی نے دوٹوک الفاظ میں اتحادی جماعتوں کے تعاون سے اپنی واضح اکثریت کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ جام کمال اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کیلئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کو نامزد کردیا جبکہ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ کسی اتحادی جماعت کو دینے اور جلد اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن دینے کا عندیہ دیا ہے ساتھ ہی بی این پی مینگل اور متحدہ مجلس عمل کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے بلوچستان میں اختلافات کو بالائے طاقت رکھتے ہوئے اتحادی جماعتوں کی حکومت کا قیام خوش آئند ہے مگر اس حقیقت سے بھی کسی طور پر انکار ممکن نہیں کہ وزارتوں کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہونگے زیادہ اراکین والی اتحادی جماعت لازما اچھی وزارتیں حاصل کرنے کی خواہش مند ہونگی اور پھر فنڈز کی تقسیم پر بھی تنازعات پیدا ہونگے یہی وجہ ہے کہ بی این پی مینگل سردار اختر مینگل نے کہا کہ اتنی جماعتوں کی اتحادی حکومت کو مستقبل قریب میں حکومت چلانے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا حیران کن امر یہ ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کا اتحاد تحریک انصاف کیساتھ ہے بلوچستان میں بی این پی مینگل متحدہ مجلس عمل میں اتحاد ہے جبکہ ملکی سطح پر تحریک انصاف اور متحدہ مجلس عمل کے قائد مولانا فضل الرحمان کے درمیان شدید اختلافات ہیں یہ اتحاد کیسے کام کریں گے مستقبل میں انجام کیا ہوگا .آنیوالا وقت ہی بتائے گا.....

ضرور پڑھیں: علیم خان ، یاسر راجہ اور یاسمین راشد کی چھٹی! وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے تحریک انصاف کا مضبوط ترین امیدوار سامنے آگیا

مزید خبریں :