پشاور میں خودکش حملہ ،جمہوریت اور پاکستان کے خلاف سازش  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

پشاور میں خودکش حملہ ،جمہوریت اور پاکستان کے خلاف سازش 


پشاور کے علاقے یکہ توت میں اے این پی کے زیر اہتمام کارنر میٹنگ جاری تھی کہ اچانک ہونیوالے خودکش بم دھماکے سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور سمیت 21 افراد شہید جبکہ 75 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں،زور دار دھماکے سے پورے علاقے میں افراتفری پھیل گئی ،دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ،پاک فوج کی ٹیمیں بھی جائے وقوع پر پہنچ گئیں ابتدائی تفتیش کے مطابق کارنر میٹنگ کے دوران ہارون بلور کارکنوں سے خطاب کرنے کیلئے سٹیج کی جانب جارہے تھے کہ اس موقع پر ایک 24سالہ لڑکے نے ان کے قریب خود کو دھماکے سے اڑادیا, دھماکے میں 8 کلو ٹی این ٹی کا استعمال کیا گیا تھا.ان کا کہنا تھا کہ ہارون بلور کی سیکیورٹی پر دو پولیس اہلکار مامور تھے.

ضرور پڑھیں: فوج اور پولیس کے اہلکار پریزائڈنگ افسر کی ہدایات پر عمل اور رپورٹ کریں گے :سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب

واضح رہے کہہارون بلور خیبر پختونخوا پی کے 78 سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار تھے، ہارون بلور کے والد بشیر بلور کو بھی 2012کی انتخابی مہم میں نشانہ بناتے ہوئے ان کو قصہ خوانی بازار میں خودکش حملے میں شہید کیا گیاتھا. شہباز شریف، عمران خان ،پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری،سابق صدر ا?صف علی زرداری ،امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق ،مولانا فضل الرحمن ،قمر زمان کائرہ ،سینیٹر ساجد میر ،شیخ رشید احمد ، ڈاکٹر فاروق ستار سمیت دیگر قومی قیادت اور سیاست دانوں نے اے این پی کے جلسے میں ہونے والے خود کش حملے اور ہارون بلور کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے

کہ نگران حکومت ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرے.جبکہ اطلاعات کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اسکی ذمہ داری بھی قبول کرلی ہے واضح رہے کہ حساس ادارے بالخصوص نیکٹا بار بار حکومت کو رپورٹ دے چکی ہے کہ پاکستان اور جمہوریت دشمن قوتیں دہشتگردی کیلئے سرگرم ہیں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر حملے ممکن ہیں ان ملک دشمن قوتوں کا واحد مقصد الیکشن کو سبوتاژ کرکے اس کا الزام فوج پر لگانا ہے کہ وہ الیکشن نہیں چاہتی علاوہ ازیں اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کالعدم جہادی تنظیمیں بھی اے این پی کے خلاف ہین اسکی بڑی وجہ اسکے سابقہ دور حکومت میں سوات وملحقہ علاقوں اور خیبرپختونخوا میں ان تنظیموں کے خلاف آپریشن اسکی حمایت افغانستان میں افغان طالبان کی مخالفت افغان حکومت اور امریکی کارروائیوں کی حمایت بھی ہے اب زمینی حقائق بھی یہی ہیں کہ الیکشن کمیشن کی بار بار وارننگ کے باوجود سیاسی جماعتیں قوانین کی اعلانیہ خلاف ورزی کررہی ہیں بغیر اجازت ریلیاں نکالی جاتی ہیں جبکہ پنجاب میں سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر بھی فائرنگ وغیرہ ہوتی ہیں لیکن ہمارے سیاستدان سیاست چمکانے نگران حکومت عدلیہ اور حساس اداروں کو بدنام کرنے کیلئے من مانیاں کررہے ہیں اس واقعہ کے بعد سب کو ہوش کے ناخن لے کر لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے .
 

..

ضرور پڑھیں: نواز شریف کے جیل میں جانے کے بعد شہباز شریف کے بیانات ’پکڑ‘میں آگئے ،الیکشن سے دو دن قبل نگران حکومت نے شہباز شریف کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا