ڈیل ،ڈھیل یا این آر او کسی صورت نہیں  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ڈیل ،ڈھیل یا این آر او کسی صورت نہیں 


پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے نواز شریف کا مقدمہ سرکاری وکیل کی وساطت سے آگے بڑھانے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ نہ ڈیل ہونی چاہیے نہ ڈھیل،خواجہ حارث کو پتا ہے کہ ان کے موکل لٹک گئے ہیں اس لئے مقدمہ لٹکا رہے ہیں، جتنے یہ ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اتنا ہی دلدل میں پھنس رہے ہیں شہباز شریف نے کہا تھا کہ ہماری حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ کے ذمہ دار ہم نہیں، یہ بجلی تھی یا بریانی تھی جسے آپ شاپر میں ساتھ لے گئے ہیں، ہم نگران وزیراعظم کی پاور سیکٹر پر بریفنگ کا انتظار کر رہے ہیں،مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی مدت پوری کرنے کے تین چار دن پہلے 18سے 20تعیناتیاں کیں،بیورو کریسی میں فوری طور پر تبدیلیاں لائی جائیں خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے ٹرائل کا بائیکاٹ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ماہ کا وقت دباؤ کے مترادف ہے، 134دن یہ کیس عدالت میں چلا ، تحریک انصاف نے ایک سال پانامہ کیس کے حوالے سے جدوجہد کی،134دن کی سماعت کے بعد یہ کیس آیا اور اب 9ماہ سے زائد کا وقت ہو گیا جونہی کیس آگے جانے لگتا ہے کوئی نہ کوئی درخواست آ جاتی ہے،سوال یہ ہے کہ آپ کے پاس جائیدادیں خریدنے کیلئے پیسہ کہاں سے آیا، فواد چوہدری نے کہا کہ

خواجہ حارث کو پتا ہے کہ ان کے کلائنٹ لٹک گئے ہیں اس لئے مقدمہ لٹکا رہے ہیں، جتنے یہ ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اتنا ہی دلدل میں پھنس رہے ہیں، یہ مقدمہ ختم ہی نہیں ہورہا، تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ نہ ڈیل ہونی چاہیے نہ ڈھیل ہونی چاہیے اگرخواجہ حارث باقی مقدمہ مکمل نہیں کرتے تو ضابطہ فوجداری کے تحت ان کو وکیل مہیا کیا جائے اور یہ مقدمہ سرکاری وکیل کی وساطت سے آگے بڑھایا جانا چاہیے،.عمران خان نے نگران وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ بتایا جائے کہ لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار کون ہے؟ہم نگران وزیراعظم کی پاور سیکٹر پر بریفنگ کا انتظار کر رہے ہیں، قوم کو بتانا چاہیے کہ اس وقت توانائی کے کیا معاملات ہیں،تحریک انصاف نے نواز شریف کے مقدمہ بارے دو ٹوک الفاظ میں موقف اختیار کیا ہے کی ڈیل ڈھیل یا این آر او کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا نواز شریف نے خود مقدمے کو طول دیا ہے جبکہ اسکا یہ بھی موقف بالکل درست ہے کہ نواز شریف خود اپنی حرکتوں کی وجہ سے دلدلوں میں پھنس رہے ہیں قدرتی امر ہے کہ جب آپ دوسروں پر جھوٹے الزامات لگائیں گے تو خمیازہ بھگتیں گے نواز شریف اور انکے درباریوں کی سوچ تھی کہ دھمکیوں سے ادارے تابع ہوجائینگے بیرونی ممالک مدد کریں گے مگر خواب انکے اپنے اعمال کی وجہ سے چکنا چور ہوگئے اب اگر ڈیل وغیرہ ہوئی تو عوام اداروں سے بھی نفر ت کرنے لگ جائیں گے .
 

..