ملک کے مہنگے ترین الیکشن اور عوام وقانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ذمہ داری  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ملک کے مہنگے ترین الیکشن اور عوام وقانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ذمہ داری 


ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے عوامی نمائندوں کا انتخاب آج ہورہا ہے مسلم لیگ (ن) ، تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی مین سے کون آئندہ پانچ سال کیلئے ملک کی باگ ڈور سنبھالے گا اس کا فیصلہ 10کروڑ 59لاکھ55ہزار409مرد و خواتین ووٹرز کریں گے ، الیکشن کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تمام تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہیں ،پولنگ کا عمل صبح 8بجے سے شام 6بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا ، کسی بھی نا شگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے سرکاری ہسپتالوں کو پیشگی الرٹ کر کے تمام سہولیات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ،حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر دئیے گئے ہیں جبکہ کنٹرول رومز کو بھی آپریشنل کر دیا گیا ،الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کردیا گیا ہے .الیکشن کمیشن کے مطابق عام انتخابات 2018ء کیلئے ملک بھر میں مجموعی طور پر85ہزار 307پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں ، عوام کی سہولت کیلئے ہر ایک کلو میٹر بعد ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے.

ضرور پڑھیں: ”ہمیں تو چائے ملی اور نہ ہی بیٹھنے کیلئے صحیح جگہ لیکن۔۔۔“ عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شریک کرکٹرز کا ”شکوہ“ بھی سامنے آ گیا، جان کر آپ حیران پریشان رہ جائیں گے

23ہزار 358مردانہ جبکہ 21ہزار 679پولنگ اسٹیشنز خواتین کیلئے علیحدہ بنائے گئے ہیں، خواتین اور مردوں کے 40ہزار 236مشترکہ پولنگ اسٹیشنز بھی بنائے گئے جبکہ ٹینٹ میں قائم پولنگ اسٹیشنز بھی قائم کئے گئے ہیں.الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے ووٹنگ کا طریقہ کار وضع کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں پولنگ افسر ووٹر کا اصل قومی شناختی کارڈ چیک کرے گا، پولنگ افسرشناختی کارڈ کی چیکنگ کے بعد ووٹرلسٹ میں درج نام چیک کرے گا اور ووٹر کا نام اور سلسلہ نمبر پولنگ ایجنٹس کے لیے بلند آواز میں پکارا جائے گا .الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹر کا سیدھی لکیر دے کر لسٹ سے نام کاٹ دیا جائے گا جس کے بعد کاؤنٹر فائلر پر ووٹر کے انگوٹھے کا نشان لیا جائے گا، پھر انگوٹھے کے ناخن کے جوڑ پر ان مٹ سیاہی کا نشان لگایا جائے گا.اس کے بعد قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر بیلٹ پیپر کی پشت پر دستخط کرے گا، دستخط لینے کے بعد ووٹر کو سبز رنگ اور سفید بیلٹ پیپر جاری کیا جائے گا اور ووٹر ووٹنگ اسکرین کے پیچھے جا کر اپنے پسندیدہ امیدوار کے انتخابی نشان پر مہر لگائے گا.الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کا سبز بیلٹ پیپر سبز بکس جبکہ صوبائی اسمبلی کا سفید بیلٹ پیپر سفید باکس میں ڈالا جائے گا. پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد پولنگ اسٹیشن کا دروازہ بند کر دیا جائے گا اور وقت ختم ہونے پر صرف پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں موجود ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی.الیکشن کمیشن کے مطابق عام انتخابات کے لیے 22کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں اور پہلی بار سکیورٹی فیچرز پر مبنی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں .الیکشن کمیشن کے مطابق آفیشل کوڈ مارک اور اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر کے دستخط کے بغیر بیلٹ پیپر گنتی سے خارج ہوگا. پی سی ایس آئی آر کی جانب سے معیاری سیاہی فراہم کی گئی ہے جو اپنی جگہ برقرار رکھے گی .واٹر مارک والے بیلٹ پیپر کے سوا دوسرا کوئی بیلٹ پیپر بھی گنتی سے خارج ہوگا.الیکشن کمیشن کے مطابق صرف مخصوص 9 خانوں کی مہر والا بیلٹ پیپر ہی گنتی میں شامل ہوگا.جبکہ وہ بیلٹ پیپر گنتی میں شامل ہوگا جس پر مہر کا نشان کسی خاص امیدوار کے لیے واضح ہو.دوسری جانب کاغذ یا کوئی چیز لگانے سے بھی بیلٹ پیپر خارج تصور ہوگا پولنگ کے روز مجموعی طور پر 16لاکھ افراد ڈیوٹی سرانجام دیں گے

میں جن میں تقریباًساڑھے چار لاکھ پولیس،تین لاکھ کہتر ہزار فوج کے جوان سکیورٹی پر مامور ہوں گے اور فوجی جوان پولنگ اسٹشینز پر پریزائیڈنگ آفیسرز کے ماتحت کام کریں گے.حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر دئیے گئے ہیں جبکہ کنٹرول رومز کو بھی آپریشنل کر دیا گیا ہے .ووٹر کو زبردستی پولنگ اسٹیشن سے نکالنا اور ووٹر کو ووٹ ڈالے بغیر باہر جانے پر مجبور کرنا انتخابی بدعنوانی ہوگی.بالواسطہ یا بلاواسطہ ووٹر کو ووٹ ڈالنے یا روکنے کے لیے کوئی تحفہ دینا، پیشکش یا وعدہ رشوت تصور ہوگا جبکہ کسی شخص کو ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے پر مجبور اور قائل کرنے لیے طاقت یا تشدد کا استعمال بھی جرم ہوگا.اس کے علاوہ دھمکی دینا، زخم یا نقصان پہنچانا، مذہبی شخصیت کی خوشنودی یا ناراضی سے متعلق دھمکی دینا بھی غیر قانونی جبکہ ووٹر کو اغوا، دھونس یا دھوکہ دہی اور ناجائز اثر رسوخ بھی جرم تصور ہوگا.بیلٹ پیپر یا سرکاری مہر خراب کرنا، پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ پیپر اٹھانا، بیلٹ باکس میں ووٹر کی پرچی کی جگہ دوسرا بیلٹ پیپر ڈالنا، بغیر اجازت کسی دوسرے کو بیلٹ پیپر مہیا کرنا اور بیلیٹ باکس یا بیلٹ پیپر اٹھالے جانا یا باکس کی سیل توڑنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے.پولنگ عمل میں خلل ڈالنا، جیسے انتخابی عمل کو کسی سرکاری ملازم کی مدد سے روکنا یا امیدوار کا انتخاب ممکن بنانے کی کوشش، پولنگ اسٹیشن پر بار بار ووٹ ڈالنے کی کوشش، پولنگ کے دوران آتشی اسلحہ کی نمائش یا ہتھیار رکھنا اور سرکاری ملازم کو تشدد کا نشانہ بنانا بھی غیر قانونی عمل ہو گا.پولنگ اسٹیشن کے نزدیک شور کرنا جس سے ووٹر پریشان ہوں، انتخابی بے ضابطگی جبکہ پریزآئڈنگ افسر یا عملے کے کام پر اثر انداز ہونے کی کوشش اور پولنگ اسٹیشن کی 4 سو میٹر کی حدود میں ووٹر کو قائل کی کوشش غیر قانونی تصور کیا جائے گا.الیکشن ایجنٹ کے لیے مخصوص جگہ یا ارد گرد 100 میٹر کے فاصلے پر کوئی نوٹس یا انتخابی نشان، بینر یا امیدوار کے خلاف پرچم لگانا جرم ہوگا.ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات پر آنے والے اخراجات گزشتہ 2 الیکشن پر خرچ ہونے والی مجموعی رقم سے 3 گنا بڑھ چکے ہیں جس میں زیادہ تر رقم سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی پر خرچ کی جائیگی.الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اندازے کے مطابق انتخابی عمل پر 21 ارب روپے سے زائد رقم خرچ ہونے کا امکان ہے، جس میں سے 10 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد معمول کے انتخابی عمل جس میں پولنگ اسٹاف کی تربیت، الیکشن میں فرائض انجام دینے والے انتخابی عملے کے معاوضے، انتخابی مواد کی چھپائی، مواصلات اور دیگر معاملات کی مد میں خرچ ہوں گے. سکیورٹی اہلکاروں کو ادا کیے جانے والے فنڈ کی لاگت بھی اتنی ہی رہنے کی توقع ہے، تاہم اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے بعد ادائیگیوں کے بل کی بنیاد پر ہی حتمی طور پر کچھ کہا جاسکتا ہے.واضح رہے کہ 2008 میں ہونے والے عام انتخابات پر ایک ارب 84 کروڑ روپے کے اخراجات آئے تھے، جو 2013 کے عام انتخابات میں بڑھ کر 4 ارب 73 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی، یعنی اس میں تقریباً 157 فیصد اضافہ ہوا تھا ٗ2008 میں پاک فوج کو 10 کروڑ 20 لاکھ روپے سیکیورٹی اخراجات کی مد میں ادا کیے گئے تھے جبکہ 2013 میں سیکیورٹی کے لیے ادا کی جانے والی رقم 70 کروڑ 20 لاکھ روپے تھی.خیال رہے کہ ان اخراجات میں پولیس سمیت مقامی انتظامیہ کی جانب سے صوبائی سطح پر کیے جانے والے حفاظتی انتظامات کے اخراجات شامل نہیں اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری بابر یعقوب فتح محمد نے بتایا کہ انتخابی عمل کے اخراجات میں واضح اضافہ بیرونِ ملک سے برآمد کیے جانے والے واٹر مارک والے بیلٹ پیپر کے باعث ہوا، اس کے ساتھ انتخابی عملے کو دیا جانے والا معاوضہ بھی 3 ہزار روپے سے بڑھا کر 8 ہزار روپے کردیا گیا ہے ٗواضح رہے کہ 2013 میں پریزائیڈنگ افسر کو الیکشن ڈیوٹی کا معاوضہ 3 ہزار روپے ادا کیا گیا تھا.اب اس تمام اقدامات اور بھاری اخراجات کے بعد عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا ووٹ ملک وقوم کے مفاد میں ایماندار محب وطن پاکستانی امیدواروں کو دیں الیکشن کمیشن سمیت قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ دھاندلی کرنے والوں کوعبرتناک انجام سے دوچار کریں گے .
 

..

ضرور پڑھیں: ’’مجھے اب ڈرلگتا ہے کہ ۔ ۔ ۔‘‘ معروف اداکارہ ریشم نے شادی سے ہی انکار کردیا ، وجہ ایسی کہ آپ کو بھی شدید دکھ ہوگا