انتخابات 2018،تحریک انصاف کی جیت ،سیاسی جماعتوں کی تنقید اور مستقبل ۔۔! - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

انتخابات 2018،تحریک انصاف کی جیت ،سیاسی جماعتوں کی تنقید اور مستقبل ۔۔!


تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ ااگئی ہے کہا جائے تو درست ہوگا عام انتخابات 2018میں غیر سرکاری وغیر حتمی کے نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف نے میدان مارلیا ہے جبکہ ن لیگ دوسرے ،پیپلز پارٹی تیسرے ،آزاد امیدوار چوتھے نمبر پر ہیں جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف نے کلین سوئپ کرتے ہوئے صوبائی نشستوں پر دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو شکست دیدی پنجاب میں پہلے نمبر پر تحریک انصاف دوسرے پر ن لیگ تیسرے پر آزاد سندھ میں پیپلز پارٹی پہلے نمبر پر تحریک انصاف دوسرے پر جی ڈی اے وغیرہ تیسرے بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی پہلے بلوچستان نیشنل پارٹی دوسرے متحدہ مجلس عمل تیسرے نمبر پر ہے جبکہ حالیہ انتخابات میں بڑے بڑے سیاسی لیڈر اے این پی کے غلام احمد بلور اسفندیار ولی ن لیگ کے خواجہ آصف خاقان عباسی سعد رفیق ودیگر جمعیت ف اور متحدہ مجلس عمل کے مولانا فضل الرحمان آزاد چوہدری نثار پشتونخوامیپ کے محمود خان اچکزئی شکست کھا گئے ہیں ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف پنجاب میں حکومت سازی کیلئے ن لیگ اور تحریک انصاف میں حکومت سازی کیلئے مقابلہ ہوگا تاہم کونسی جماعت آزاد اور دوسری جماعتوں کو ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگی یہ وقت ہی بتائے گا جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور صوبہ بلوچستان میں بھی بلوچستان عوامی پارٹی کو اکثریت تو حاصل ہے تاہم وہ بھی مخلوط حکومت بنانے پر عام انتخابات کے سلسلے ملک بھر میں 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 کروڑ 92 لاکھ 24 ہزار 263 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4 کروڑ 67 لاکھ 31 ہزار 146 ہے، حق رائے دہی کے لیے ملک بھر میں 85 ہزار 252 پولنگ اسٹیشنز جب کہ 2 لاکھ 41 ہزار 132 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے. جس میں سے 17 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قراردیا گیاتھا.

ضرور پڑھیں: کہاں سورج چمکے گا اور کہاں بارشیں ہو ں گی؟ محکمہ موسمیات نے شہریوں کیلئے اہم پیشگوئی کر دی

انتخابات کے لئے مجموعی طور پر 21 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے گئے، قومی اسمبلی کے لئے سبز جب کہ صوبائی اسمبلی کے لئے سفید بیلٹ پیپراستعمال ہوا، ملکی تاریخ میں پہلی بار بیلٹ پیپرز میں سیکیورٹی فیچرز بھی شامل کیے گئے. اس مرتبہ پہلی بار تعلیمی اداروں کے علاوہ دوسرے اداروں سے بھی ملازمین کو انتخابی ڈیوٹی کا حصہ بنایا گیا، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ سے 6 ہزار سے زائد اساتذہ کو الیکشن ٹریننگ کرائی گئی.سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے

.پاک فوج کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھیں . دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف انتخابات میں واضح برتری پر ملک بھر میں جشن منارہی ہے ادھر پیپلز پارٹی، ایم ایم اے، ایم کیو ایم سمیت تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن کی شفافیت پر تحفظات و خدشات کا اظہار کیا ہے ،مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے نے انتخابات کے نتائج کو مستردکردیا ہے .جبکہ مولانا فضل الرحمان نے بھی انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے معاملات پر غور کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے سیاسی جماعتیں مستقبل کیلئے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں یہ آنیوالا وقت ہی بتائے گا تاہم سب سے زیادہ مشکل ن لیگ اور تحریک انصاف کو پنجاب میں حکومت بنانے پر ہوگی کیونکہ دونوں جماعتیں حکومتیں بنانے کی صورت میں دوسری جماعتوں بشمول آزاد امیدواروں کی مرہون منت ہونگی سب سے زیادہ حیران کن امر یہ ہے کہ انتخابات پاکستان کے اور اعتراضات بھارت کررہا ہے بھارت نے عمران خان کی کامیابی اور حکومت سازی پر سرکاری طور پر اعتراضات کئے ہیں کہ اس سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آنے کی بجائے مزید کشیدگی آئے گی بھارت کے اعتراضات نے ثابت کردیا ہے کہ نواز شریف اور بھارتی حکمرانوں میں پس پردہ مفاہمت تھی اسی لئے نواز شریف کبھی بھی بھارت کے خلاف نہیں بولے حتیٰ کہ کلبھوشن اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر انہوں نے ہمیشہ چپ سادھ رکھی انتخابی نتائج اور اپوزیشن جماعتوں کے رد عمل بارے تو سرکاری طور پر نتائج سامنے آنے کے بعد ہی علم ہوگا تاہم اس حقیقت سے کسی بھی طور پر انکار ممکن نہیں کہ شکست خوردہ جماعتوں نے کوئی تحریک چلائی قانون ہاتھ میں لیا تو اس کا نتیجہ جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوگا اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی یہی خواہش ہوگی کیونکہ ایک جانب نواز شریف شہباز شریف کے خلاف کرپشن کے اعتراضات ہیں تو دوسری جانب زرداری اور انکی ہمیشرہ اور دیگر ساتھی بھی زد میں ہیں علاوہ ازیں کرپٹ مافیا بشمول سیاستدان بیورو کریٹس کسی بھی طور پر نہیں چاہیں گے کہ عمران خان حکومت بنائیں یا بنانے کی صورت میں کامیاب ہوں کیونکہ انکی جیت کی بڑی وجہ ہی کرپشن کا خاتمہ اور کرپٹ افراد کا احتساب کرنے کا نعرہ بنی ہے الیکشن نتائج پر کا ذمہ دار بھی الیکشن کمیشن ہے جس نے نتائج میں اتنی تاخیر کی اور اسی ادارے کی وجہ سے دوسرے اداروں پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں تاہم اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا الیکشن کمیشن زرداری اور نواز شریف نے بنایا تھا اس میں کام کرنے والوں کی انکی سابقہ اداروں میں تعیناتی اور کارکردگی سب کچھ بتاتی ہے .
 

..

ضرور پڑھیں: علیم خان ، یاسر راجہ اور یاسمین راشد کی چھٹی! وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے تحریک انصاف کا مضبوط ترین امیدوار سامنے آگیا

مزید خبریں :